محسن بیگ کے جسمانے ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کی جانب سے محسن بیگ کے مزید ریمانڈ کی استدعا منظور کرتے ہوئے محسن بیگ کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 3 روز کی توسیع کر دی، پولیس تشدد کے خلاف آئی جی اسلام آباد سے 21 فروری پیر تک رپورٹ طلب کر لی گئی۔
ہائیکورٹ میں صحافی محسن بیگ کے دہشتگردی اور دیگر مقدمات خارج کرنے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، درخواست گزار محسن بیگ کی اہلیہ کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ محسن بیگ پولیس کی حراست کے دوران زخمی ہوئے، ان سے بہت مشکل سے ملا، لطیف کھوسہ نے عدالت میں موقف اپنایا کہ انہیں 15 لوگوں نے ایس ایچ او کے کمرے میں مارا، محسن بیگ پر تھانے میں بُری طرح تشدد کیا گیا، کل تک تو ملنے تک نہیں دیا جا رہا تھا۔
فیصل واوڈا کو سپریم کورٹ سے بھی ریلیف ملنے کا امکان کیوں نہیں؟
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دے رہے ہیں لیکن جو متاثرہ ہو وہی درخواست دے سکتا ہے، جو ملزم ہے اگر مقدمہ خارج کرانا ہے تو وہی صرف درخواست دائر کر سکتا ہے، یہ پٹیشن ملزم کی جانب سے دائر نہیں کی گئی اس لیے نہیں سن سکتے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے محسن بیگ پر مبینہ تشدد سے متعلق آئی جی اسلام آباد سے 21فروری پیر تک رپورٹ طلب کرلی۔ ہائی کورٹ نے پولیس کو صرف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ محسن بیگ تک وکیل کی رسائی کو نہ روکا جائے، درخواست گزار وکیل کی استدعا پر عدالت نے محسن بیگ کی طرف سے درخواست دائر کرنے کی مہلت دے دی۔
