فیصل واوڈا کو سپریم کورٹ سے بھی ریلیف ملنے کا امکان کیوں نہیں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے فیصل ووڈا کی نا اہلی کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے خالی نشست پر نئے الیکشن کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد عمران خان کے دست راست واوڈا کے پاس آخری راستہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا ہے۔
تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سے بھی فیصل واپڈا کی دادرسی کا کوئی امکان نہیں چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے واوڈا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ایک پرانے فیصلے کا حوالہ دیا ہے جس کے مطابق الیکشن کمیشن میں جھوٹا حلف نامہ داخل کروانے والا آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت اہل قرار پاتا ہے اور یہ فیصلہ اب قانون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس کے تحت نواز شریف اور جہانگیر ترین کو بھی نااہل قرار دیا گیا تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جھوٹا بیان حلفی دینے کے سنگین نتائج ہوتے ہیں اور اس بارے میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ موجود ہے جس میں متعدد رکن پارلیمان کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے چند روز قبل فیصل واوڈا کو 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہوئے امریکی شہریت چھوڑنے سے متعلق جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے پر آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دے دیا تھا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو بھی اسی قانون کے تحت سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف ووڈا کی درخواست کی سماعت کی تو درخواست گزار کے وکیل سابق صدر وسیم سجاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان کے موکل کو جھوٹے بیان حلفی کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیش نے فیصل واؤڈا کو نااہل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو بطور رکن قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر لی جانے والی تمام تنخواہیں اور مراعات دو ماہ میں واپس کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے گذشتہ برس تین مارچ کو بطور رکن قومی اسمبلی استعفی دے دیا تھا، وہ بطور رکن اسمبلی مستعفی ہو چکے تھے اور انھیں بطور سینیٹر بھی نااہل قرار دے دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں اور اس کے پاس کسی رکن پارلیمان کو نااہل قرار دینے کا اختیار ہی نہیں ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت نااہلی کا فیصلہ نہیں سنا سکتا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیکنیکل گراؤنڈز پر بات کر رہے ہیں تو یہ بتائیں کہ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ سنانے میں کہاں کوئی غلطی کی ہے؟ چیف جسٹس نے فیصل ووڈا کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے موکل کی نیک نیتی بھی بتائیں کہ جب 2018 کے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے بیان حلفی دائر کیا تو دوہری شہریت نہیں تھی؟
محسن بیگ پر تشدد کی رپورٹ طلب، مزید ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ
انھوں نے کہا کہ اس کے ساتھ یہ بھی بتائیں کہ امریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ دیا یا نہیں؟ اس کی تاریخ کیا ہے؟ کیا جھوٹے بیان حلفی کی انکوائری سپریم کورٹ کرتا؟ چیف جسٹس نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمیشن انکوائری کر کے معاملہ سپریم کورٹ بھجواتا؟
جواب میں درخواست گزار کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ الیکشن کمیشن بیان حلفی کی انکوائری کر سکتا ہے، دیکھنا یہ ہو گا کہ اس کے بعد کیا عمل ہے؟ واوڈا کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر جھوٹا بیان حلفی آئے تو اس کے خلاف انکوائری کے بعد کورٹ آف لا کو کارروائی کا اختیار ہے اور الیکشن کمیشن کورٹ آف لا نہیں ہے۔
لیکن چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ جھوٹے بیان حلفی کو ایسے تصور کیا جائے گا کہ وہ سپریم کورٹ میں جمع ہوا۔ بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ جھوٹا بیان حلفی دینے والے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرے؟ جس پر وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلوں میں جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے پر توہین عدالت کی کارروائی کا ذکر نہیں ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصل ووڈا کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مقدمے کو ایک طرف رکھیں اور صرف یہ بتا دیں کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے فیصلے کا کیا کریں جو انھوں نے تاحیات نااہلی کے بارے میں دیا ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اب قانون بن چکا ہے جس میں کئی قانون سازوں یعنی ارکان پارلیمنٹ کو نااہل بھی کیا گیا۔
بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا فیصل واوڈا نےامریکی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ کہیں جمع کرایا اور کیا کہیں انھوں نے اس حوالے سے اپنی نیک نیتی ظاہر کی؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ ذمہ داری پٹیشنر پر تھی کہ وہ شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ پیش کرتا۔
دوسری جانب واوڈا کے وکیل کا کہنا تھا کہ پٹیشنر نے کہیں بھی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ پیش نہیں کیا تاہم نااہلی کا اختیار صرف کورٹ آف لا کا ہے۔ وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ اگر بیان حلفی کورٹ آف لا کے سامنے جھوٹا ثابت ہو تو پھر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں ان کے موکل کو آئین کے آرٹیکل ون سی کے تحت بھی نااہل کیا ہے جو کہ دوہری شہریت چھپانے سے متعلق ہے۔
وسیم سجاد نے کہا کہ ان کے موکل کے بطور رکن قومی اسمبلی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ تو درست تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن بطور سینیٹر بھی ان کو نااہل کر دیا گیا۔واوڈا کے وکیل نے کہا کہ تاحیات نااہلی سیاست میں سزائے موت کی طرح ہے جس پر چیف جسٹس اطہر من نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ سزائے موت بہت سے سیاست دانوں کو مل چکی ہے۔‘
فیصل واڈا کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اب سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کرنے جا رہے ہیں۔ لیکن آئینی اور قانونی ماہرین کے مطابق ان کی نا اہلی کا فیصلہ برقرار رہنے کے روشن امکانات ہیں کیونکہ سپریم کورٹ کا ایک پرانا فیصلہ پہلے ہی قانون کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے فیصل ووڈا کے نااہل ہونے کے بعد خالی ہونے والی سینٹ کی نشست پر دوبارہ انتخابات کروانے کا شیڈیول جاری کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس نشست پر پولنگ 9 مارچ کو سندھ اسمبلی میں ہوگی۔
