سویلینز کا احتساب بھی ریٹائرڈ فوجی بھائی کے ذمے

فوج کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار میں آنے والے وزیر اعظم عمران خان نے تین برس میں کسی ایک بھی اپوزیشن رہنما کو کرپٹ ثابت کرنے میں ناکامی کے بعد اب احتساب کی ذمہ داری بھی اپنے سویلین ہرکارے شہزاد اکبر عرف شرلاک ہومز سے واپس سے لے کر ایک ریٹائرڈ فوجی کے ذمے لگا دی ہے۔ تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کرپشن کیسز عدالتوں میں ثابت کرنا اور پھر انہیں سزائیں دلوانا ریٹائرڈ فوجی بھائی کے لئے بھی ایک مشکل ٹاسک ہوگا۔

ویسے بھی مشرف دور میں بطور ڈی جی نیب کام کرنے والے بریگیڈیئر مصدق عباسی کا بڑا کارنامہ یہ بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے چھ انچ قطر کی پائپ لائن کے ذریعے علاقے میں پانی کی فراہمی کا بڑا مسئلہ حل کروایا تھا۔ اس سے قبل ان کے علاقے کے لوگوں کو پہاڑ سے اتر کر دور سے پانی لانا پڑتا تھا جس سے ان کی زندگیاں کافی مشکل میں تھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فوجی بھائی کا اپنے علاقے میں کامیابی سے پانی لانے کا تجربہ اپوزیشن رہنماؤں کے احتساب میں ان کی کتنی مدد کرتا ہے؟

یاد رہے کہ کپتان حکومت کے نکمے شرلاک ہومز شہزاد اکبر کی جگہ بطور مشیر احتساب تعینات ہونے والے بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی کا تعلق ایبٹ آباد کی تحصیل بیروٹ سے ہے اور وہ ماضی میں بھی ڈائریکٹر جنرل نیب رہے ہیں۔ بریگیڈیئر موصوف دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے والد صادق عباسی اپنے علاقے کی معروف سیاسی شخصیت تھے جو قیام پاکستان سے قبل علامہ عنایت اللہ مشرقی کی احرار الاسلام تحریک سے وابستہ رہے۔

کیا برطانوی حکومت نواز شریف کو تحفظ دے رہی ہے؟

تاہم شاید بریگیڈئیر عباسی کو معلوم نہیں کہ تحریک احرار کے قافلہ سالار دراصل عطاءاللہ شاہ بخاری تھے جبکہ عنایت اللہ مشرقی خاکسار تحریک کے بانی تھے۔ تاہم ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ایبٹ آباد کے عباسیوں کی یاداشت کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔

بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) مصدق عباسی نے ابتدائی تعلیم ہائی سکول اوسیاہ مری سے حاصل کی، 70 کی دہائی میں آرمی میں کمیشن حاصل کیا، پاک فوج میں اہم پیشہ ورانہ ذمہ داریاں سرانجام دینے کے بعد بریگیڈیئر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ انہون نے رینجرز میں بھی خدمات سرانجام دیں، 2010ء میں نیب میں بطور ڈائریکٹرجنرل تعینات ہوئے، انہوں نے چار سال تک نیب کے ملک بھر کے ریجنل بیوروز میں خدمات سرانجام دیں۔ اسی لیے اب اپنے سیاسی مخالفین کے احتساب کا انتقامی ایجنڈا آگے بڑھانے کی کوشش میں وزیراعظم عمران خان نے احتساب کا ٹاسک بریگیڈئیر عباسی کی ذمے لگایا ہے۔

لیکن کپتان کو یقین ہے کہ جو کام ایک سویلین نہیں کر پایا وہ ایک ریٹائرڈ فوجی ضرور کر پائے گا۔ واضح رہے کہ مشیر احتساب شہزاد اکبر  کے استعفے کی وجہ وزیر اعظم کی ناراضگی تھی، کچھ روز قبل وزیر اعظم نے شہزاد اکبر سے عدالتوں میں مقدمات کی تفصیلات مانگی تھی، جن کے سامنے آنے پر وہ ناراض ہو گے۔ شہزاد نے جو تفصیلات وزیر اعظم کو دیں وہ اصل دستاویزات سے کافی مختلف تھیں۔

حکومتی حلقوں میں عینک والاجن کہلانے والے شہزاد اکبر اگست 2020 سے عمران خان کی کابینہ میں مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے، اس سے قبل وہ معاون خصوصی کے عہدے پر فائز رہے تھے۔ انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کے ’ایسٹ ریکوری یونٹ‘ کے سربراہ کے طور پر بھی کام کیا جس دوران ان پر ملک ریاض اور کاوے موسوی سے مشکوک ڈیلیں کرنے کی کوشش کا الزام بھی لگا۔

کہا جاتا ہے کہ موسوی سے ان کی ڈیل کی کوشش ناکام رہی جبکہ ملک ریاض کے ساتھ کامیاب ہو گئی۔ سینئر صحافی روف کلاسرا کے بقول شہزاد اکبر نے ملک ریاض کو جو اربوں روپے کا ریلیف دلوایا تھا اس میں انہوں نے اتنا اچھا خاصا مال بنا لیا تھا جس کے بعد اب انھیں دو لاکھ روپے ماہانہ کی مشیر احتساب کی نوکری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔

Back to top button