سوشل میڈیا پر کپتان کی دھمکی کا شغل کیسے لگ رہا ہے؟

اگر مجھے نکالا گیا کے دھمکی نما بیان کے بعد وزیر اعظم عمران خان سوشل میڈیا پر مسلسل تنقید کی زد میں ہیں۔ جہاں اپوزیشن نے کپتان کی دھمکی کو گیدڑ بھبکی قرار دیا ہے وہیں سوشل میڈیا صارفین بھی اسے سنجیدہ لینے کی بجائے طرح طرح کے دلچسپ تبصرے کر کے تفریحِ طبع کا سامان کر رہے ہیں۔
پچھلے کئی روز سے سوشل میڈیا پر وزیرِ اعظم کے بیان کی مناسبت سے ‘اگر مجھے نکالا’، ‘بائے بائے عمران خان’ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم کا یہ بیان اپنی سیاسی ناکامی تسلیم کرنے کے مترادف ہے، سوشل میڈیا صارفین اپنے دلچسپ تبصروں، میمز اور ویڈیوز کے ذریعے وزیراعظم کی دھمکی کا تیا پانچہ کرنے رہے ہیں اس حوالے سی ایک گدھے کی ویڈیو بھی خوب وائرل ہو رہی ہے جو اندھا دھند سڑک پار کرنے کی کوشش کے دوران ایک تیز رفتار گاڑی سے ٹکرا کر دور جا گرتا ہے، اس دوران ویڈیو کے بیک گراؤنڈ میں عمران خان کی دھمکی سنائی جا رہی ہے کہ اگر مجھے نکالا گیا تو میں اور بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوں گا۔
یاد رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے 23 جنوری کو پی ٹی وی پر عوام کے ٹیلی فونک سوالات کا براہ راست جواب دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر وہ اقتدار سے نکلے تو سڑکوں پر آ جائیں گے اور پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو میں چپ چاپ وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر تماشے دیکھ رہا ہوں لیکن اگر میں حکومت سے نکل گیا تو زیادہ خطرناک ثابت ہوں گا‘ پھر آپ کیلئے چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی۔
تاہم وزیراعظم نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کسے مخاطب کرکے یہ بات کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم دراصل پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو للکار رہے ہیں جبکہ حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپوزیشن کو للکارا ہے۔
ایف آئی اے معروف ٹی وی میزبان وقار ذکا سے ڈرنے لگی
سوشل میڈیا پر وزیرِ اعظم کے بیان کی مناسبت سے ‘اگر مجھے نکالا’، ‘بائے بائے عمران خان’ ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر صارفین کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان جس مسند پر براجمان ہیں انہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح کی دھمکی آمیز بیان بازی کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ساڑھے تین برس سے زائد اقتدار میں گزارنے کے باوجود وزیراعظم ڈی چوک والی تقریریں کر رہے ہیں بجائے کہ اپنی گورننس بہتر کرنے اور عوام کو ریلیف دلانے پر توجہ دیں۔
دوسری جانب اپوزیشن نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اگر یہ بیان ان کے بارے میں ہے تو وزیر اعظم نے اپنی ترجمانوں کی فوج بھی رکھی ہوئی ہے، روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا بھی ان کے کنٹرول میں ہے جہاں وہ اپوزیشن پر تنقید کرتے ہیں، انکی ایسی کونسی حسرت ہے جو وہ پوری نہیں کی رہے، اب اگر انہیں اپنے خلاف کسی سازش کا ڈر ہے تو انہی سے ہو گا جو 2018 کے الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کرکے انہیں برسر اقتدار لاےلئے تھے۔
مسلم لیگ کے سینئیر رہنما پرویز رشید کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کہتے ہیں وہ سڑکوں پر آ کر زندگی خراب کر دیں گے لیکن اگر وہ حکومت میں ہیں تو زندگی خراب کرنے کے لیے سڑکوں پر آنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ وہ یہ کام حکومت میں رہ کر بھی بڑے اچھے طریقے سے کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے لوگوں کی چیخیں نکل چکی ہیں۔
بہرحال سوشل میڈیا صارفین نے وزیراعظم عمران خان کی اس دھمکی کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے۔ اس بیان کے بعد ‘اگر مجھے نکالا’ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے، اس ہیش ٹیگ کے ساتھ عوام مختلف قسم کے تجزئیے پیش کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر ٹوٹ بٹوٹ نامی صارف نے لکھا کہ پہلے یہ کہتا تھا کہ میں حکومت میں آ گیا تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا، اب کہہ رہا ہے حکومت سے نکل گیا تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔
یہ پچھلے پچیس سال سے ایسی ہی لمبی لمبی چھوڑ رہا ہے۔ ایک صارف عمر اظہر نے وزیراعظم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کھا کہ ‘عمران نے اسٹیبلشمنٹ کو اشارہ دیا کہ وہ اقتدار سے باہر ہونے کے بعد ان کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔ عمران جانتا ہے کہ ان کے تعاون کے بغیر، میڈیا اسے 24 گھنٹے بھی سکرین پر نہیں دکھائے گا۔ تعلیم یافتہ اقلیت ایک طرف، ان کی حمایت میں کوئی ایک ان پڑھ بھیبنہیں نکلے گا۔
سینئر صحافی سلیم صافی نے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘میں بھی آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا۔ آپ جن کو دھمکی دے رہے ہیں، وہ آپ کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں۔ آپ نے ابھی تک صرف ان کا لاڈ دیکھا ہے، مار نہیں۔ اگر آپ کے خلاف پہلے وعدہ معاف گواہ اسد عمراور زلفی بخاری نہ بنے تو میرا نام شبلی فراز رکھ دینا۔ ایک اور صحافی حسان ہاشمی نے گدھے کی ایک مزاحیہ ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ #تبدیلی مہنگی پڑگئی #اگرمجھےنکالا #ByeByeImranKhan کو بیان کرنے کے لیے اس سے اچھی ویڈیو نہیں ہوسکتی۔
یہ وہی ویڈیو ہے جس میں ایک گدھا سڑک اندھادھند سڑک کراس کرنے کی کوشش میں ایک گاڑی سے ٹکرا کر دور جا گرتا ہے جبکہ بیک گراونڈ میں کپتان کی تقریر سنائی دیتی ہے کہ اگر مجھے نکالا تو میں اور بھی خطرناک ثابت ہوں گا۔ صارف نے لکھا کہ اگر عمران نے خطرناک ہونے کی کوشش کی تو ان کا یہ انجام ہو گا۔
