وقاص گورایہ قتل سازش کیس میں ملزم کو سزا یقینی

بیرون ملک مقیم پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایہ کے قتل کی سازش میں گرفتار ہونے والے کرائے کے قاتل کو بھرتی کرنے والوں نے اسے قتل کے مزید ٹارگٹس دینے کا وعدہ بھی کیا تھا تاکہ وہ اور بھی مال بنا سکے۔ یاد رہے کہ ایک پاکستانی خفیہ ایجنسی نے مبینہ طور پر ہالینڈ میں مقیم پاکستانی بلاگر گورایہ کے قتل کیلئے ایک گوہر خان نامی برطانوی شہری کو ایک کروڑ پاؤنڈز دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ ٹاسک پورا کرنے میں ناکام رہا۔
گوہر خان کے خلاف برطانوی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے بتایا کہ بلاگر احمد وقاص گورایا کو قتل کرنے کے لیے 31 سالہ محمد گوہر خان کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستان میں مقیم مڈل مین مزمل نے مستقبل میں اسے مزید کام دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ استغاثہ نے کہا کہ اس نوعیت کے کام کا پہلا ذکر دسمبر 2020 میں ہوا تھا لیکن ہدف کے بارے میں کوئی تفصیلات شیئر نہیں کی گئی تھیں۔
اس کے بعد ایک میسیجنگ ایپلی کیشن کے ذریعے بھیجا گیا وائس نوٹ لندن کی عدالت میں چلایا گیا، جس میں برطانوی لہجے میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’اگر پہلا کام ایک مہینے کے اندر ٹھیک طرح سے کر لیا گیا تو جون کے آخر تک تمہیں دوسرا اور اس کے بعد تیسرا کام بھی مل جائے گا، کام کے معیار کے لحاظ سے تمہیں تقریباً 20 ہزار سے 30 ہزار پاؤنڈز کی قسطیں ملتی رہیں گی۔‘
کاہنہ میں خاتون ڈاکٹر اور تین بچوں کے قتل کا معمہ حل
اس وائس نوٹ میں گرفتار کرائے کے قاتل گوہر خان نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ’میں معیار کی ضمانت نہیں دیتا، انشاء اللہ کام ہونے کی ضمانت دیتا ہوں‘۔ اگلے میسجز میں گوہر خان نے مزمل کا نک نیم استعمال کرتے ہوئے قتل کی سازش کا حوالہ دیا کہ ’پاپا، آپ کے لڑکے پورے برطانیہ میں چھا چکے ہیں، یورپ میں ہماری بہترین کوشش ہوگی’۔‘ گوہر خان کے مطابق مزمل کی مشابہت ایک کارٹون کریکٹر ’پاپا اسمرف‘ سے ہونے کی وجہ سے اس کا نک نیم پاپا رکھا گیا تھا۔ استغاثہ نے یہ ثبوت عدالت میں گوہر خان کے اس دعوے کو چیلنج کرنے کے لیے پیش کیے کہ وہ احمد وقاص گورایا کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اور صرف مزمل سے پیسے نکلوانا چاہتا تھا۔
استغاثہ کی قیادت کرنے والی ایلیسن مورگن کیو سی نے کہا کہ اگر گوہر خان مڈل مین مزمل کو انکار کر دیتا تو اسے مزید کوئی کام نہیں ملتا۔ استغاثہ کے حتمی دلائل کے بعد سماعت تک ملتوی کر دی گئی۔ امید ہے کہ کیس کا فیصلہ چند روز میں سنا دیا جائے گا۔
جسٹس ہلیارڈ نے جیوری کو درج ذیل 3 اہم نکات پر اپنا فیصلہ سنانے کی ہدایت کی: – کیا وقاص گورایا کو قتل کرنے کے لیے سازش کی گئی تھی؟ – کیا گوہر خان اس سازش میں شامل تھا؟ – اور کیا وہ قتل کے منصوبے پر عملدرآمد کا ارادہ رکھتا تھا؟
جج نے یہ بھی وضاحت کی کہ جرم ثابت کرنے کے لیے استغاثہ کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ گوہر خان شروع سے ہی اس سازش کا حصہ تھا اور نہ ہی انہیں یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ تمام تفصیلات جانتا ہے، یا وہ سب سے رابطے میں رہا۔ جسٹس ہلیارڈ نے کہا کہ اگر وہ ثابت کر دیتے کہ گوہر خان نے وقاص گورایا کو قتل کرنے کی سازش کی تھی اور اس کا ارادہ وقاص گورایا کو قتل کرنا کا تھا تو یہ کافی ہے۔
دوسری جانب گوہر خان نے بار بار کہا کہ اس کا کسی کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا اور اس نے مزمل کو اس امید پر جھوٹ بولا تھا کہ وہ اس سے رقم نکلوا سکتا ہے۔ تاہم استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ گوہر خان جھوٹ کا عادی ہے، جس نے قتل کی اس سازش میں اپنی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے خاندان کے افراد، امیگریشن حکام اور اپنے دوستوں سمیت متعدد افراد سے جھوٹ بولا۔
ایلیسن مورگن نے کہا کہ گوہرخان نے قتل کا جواز پیدا کرنے کے لیے مزمل سے 3 مرتبہ اس بات کی تصدیق مانگی کہ یہ ‘قرض سے متعلق کام’ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوہر خان کی نظر کسی بہت بڑے انعام پر تھی، اگر انعام اتنا بڑا نہ ہوتا تو ظاہر ہے کہ وہ وہیں رک جاتا۔ ایلیسن مورگن نے پھر اس 19 انچ لمبے چاقو کا تذکرہ کیا جو قتل کے لیے خریدا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دکان پر دستیاب رینج میں یہ سب سے مہنگا چاقو تھا، جو باآسانی چھپایا جاسکتا تھا۔ یاد رہے کہ احمد وقاص گورایہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بلاگر ہیں جنہیں پاکستانی ایجنسیوں نے 2019 میں حراست میں لے لیا تھا۔ تاہم وہ رہائی کے بعد ہالینڈ روانہ ہو گے تھے۔
