فارن فنڈنگ کیس میں PTI کی دستاویزات اب خفیہ کیوں؟

حکومتی جماعت تحریک انصاف کے خلاف اکبر ایس بابر کی جانب سے دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہونے میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے کیس کی تمام اہم دستاویزات پٹیشنر کو فراہم کرنے کے حکم پر اب تک عمل نہیں گیا گیا تاکہ وہ دلائل کی تیاری کر سکے۔
پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی 18 جنوری کو ہونے والی آخری سماعت کے دوران ای سی پی نے اسکروٹنی کمیٹی کے دستاویزات کے کچھ حصوں کو خفیہ رکھنے کے حکم کو واپس لے لیا تھا جس میں پی ٹی آئی کے تصدیق شدہ کاغذات اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے حاصل کردہ بینک اسٹیٹمنٹس شامل تھیں۔ 20 جنوری کو درخواست گزار اور پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے ای سی پی ڈپٹی ڈائریکٹر لا کو باقاعدہ ایک تحریری درخواست دی گئی تھی جس میں اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے تمام حصوں تک رسائی طلب کی گئی تھی۔
اس درخواست میں تمام دستاویزات کی جلد از جلد فراہمی کی اپیل کی گئی تاکہ درخواست گزار کے وکیل یکم فروری کو ہونے والی اگلی سماعت پر ای سی پی کی معاونت کرسکیں۔ درخواست گزار اکبر ایس بابر نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے رپورٹ کے خفیہ حصے سمیت مکمل رپورٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تھی تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں اب تک دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایس سی پی کے ڈائریکٹر جنرل لا محمد ارشد جو اسکروٹنی کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں اس معاملے پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔
سوشل میڈیا پر کپتان کی دھمکی کا شغل کیسے لگ رہا ہے؟
رپورٹ کو خفیہ رکھنے کے معاملہ کا فیصلہ 18 جنوری کو اس وقت ہوگیا تھا جب ای سی پی نے فیصلہ دیا تھا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کا کوئی حصہ خفیہ نہیں رکھا جائے گا۔ بانی رکن اور کیس کے درخواست گزار اکبر ایس بابر کو دستاویزات فراہم کرنے پر پی ٹی آئی کے اعتراضات کے بعد ای سی پی اسکروٹنی کمیٹی نے ریکارڈ کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ دیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل کی جانب کہا گیا کہ رپورٹ کے اہم حصوں کو خفیہ رکھا گیا ہے اور ان کے موکل کو دستاویزات رسائی دینے سے انکار کردیا گیا ہے،جس پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے دستاویزات کو سامنے لانے کا حکم دیا تھا۔
اکبر ایس بابر کے وکیل سید احمد حسن شاہ نے اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کو بے ایمانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ای سی پی کے سابقہ احکامات کے مطابق بامعنی جانچ ممکن نہیں جب تک کہ دستاویزات کے اہم حصوں کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے۔
درخواست جمع کرانے پر پٹیشنر کو تمام دستاویزات کی نقول کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہوئے انہوں نے سید احمد حسن شاہ کو رپورٹ پر اپنا تجزیہ ای سی پی کے سامنے پیش کرنے کا کہا ہے تاکہ معاملے پر مزید غور کیا جائے۔
رپورٹ کے اہم حصوں کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ اسکروٹنی کمیٹی کی اپنی رپورٹ میں ظاہر کردی اس خواہش کے مطابق تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کمیٹی کی رائے ہے کہ اس کی رپورٹ کے وہ حصے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے حاصل کی گئیں پی ٹی آئی بینک اسٹیٹمنٹ کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں، ان حصوں کو خفیہ رکھنا چاہیے اور عوام کے لیے جاری نہیں کرنا چاہیے۔
کمیٹٰی نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا تھا کہ رپورٹ کا جو حصہ درخواست گزار اور مدعا علیہ کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات سے حاصل کردہ ہے اس کو پبلک کردیا جائے جبکہ وہ ڈیٹا جو کمیٹی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے خود حاصل کیا ہے، رپورٹ کے اس حصے کو خفیہ رکھا جائے، اس سے بینک اکاؤنٹس اور بینکنگ انفارمیشن کے رازداری قوانین، قاعدوں اور طریقوں کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔
