حکومت اور فوج کے چھوٹے موٹے اختلافات ضرور ہیں

گیٹ نمبر 4 کے چوکیدار کہلانے والے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے وزیر اعظم عمران خان اور فوجی قیادت کے مابین تناؤ کی بالواسطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دونوں میں چھوٹے موٹے اختلافات تو ہو سکتے ہیں، فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی سوچ اور رائے میں فرق بھی ہو سکتا ہے مگر ایسا نہیں کہ وہ ایک صفحے پر نہ ہوں۔ میرے خیال میں فوج اب تک منتخب حکومت کے پیچھے کھڑی ہے۔ شیخ چلی نے یہ باتیں بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کیں۔

اس سے پہلے شیخ رشید نے بیان دیا تھا کہ عمران خان کے سرپراسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ لیکن پھر اگلے ہی روز شیخ صاحب نے بتایا کہ انہیں یہ بیان واپس لینے کا کہا گیا ہے لیکن وہ اب بھی اپنے بیان پر قائم ہیں۔ وزیر داخلہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اسٹیبلشمنٹ کا نام نہیں لیا مگر میرا مطلب یہی تھا کہ حکومت اور اداروں کی پالیسیاں ایک ہی صفحے پر ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے چند روز قبل ٹی وی پر خطاب کے دوران دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہیں اقتدار سے نکالا گیا تو وہ اور بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے اور سڑکوں پر نکل آئیں گے جس کے بعد مخالفین کے پاس چھپنے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔

عمران کے اس بیان کے بعد کہا گیا کہ وزیراعظم نے دراصل اسٹیبلشمنٹ کو سازش نہ کرنے کا پیغام دیا ہے۔ لیکن اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’اپوزیشن تو چاہتی ہے کہ عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان تعلقات خراب ہوں مگر نہ اسٹیبلشمنٹ بھولی ہے نہ عمران خان بھولا ہے۔ ملک کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک ہی صفحے پر ہوں۔‘

عمران خان کی تحریک انصاف کے قیام سے لے کر اُن کی ہر انتخابی مہم کا پہلا اور سب سے بڑا نعرہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور کرپٹ افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا رہا ہے۔ اسی نعرے کی بنیاد پر وہ 2018 کا الیکشن جیتے مگر بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپشن کے خاتمے کی کوشش کرنے والے ممالک کی فہرست میں مزید نیچے چلا گیا ہے۔

کپتان ‘اگر مجھے نکالا’ والی دھمکی لگانے پر کیوں مجبور ہوا؟

اس بارے میں بات کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ وزیراعظم کرپشن اور احتساب کے معاملے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور یہ کہ انھوں نے کئی افراد کو پارٹی یا عہدوں سے فارغ کیا جن پر کرپشن کا الزام یا ان پر شک تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’عمران خان اس سے زیادہ تو کچھ نہیں کر سکتا۔‘ شیخ رشید کے مطابق عدالتوں نے کرپشن سے متعدد فیصلوں میں بہت طویل مدت کے لیے حکم امتناعی دیے ہوئے ہیں۔

شیخ رشید یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے ایسا نظر آتا ہے کہ عدالتوں میں مقدمات لے جاتے وقت ’شاید درست انداز میں تیاری نہیں کی گئی۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’شاہد ہماری طرف سے کمزوری تھی لیکن عمران خان کو اس لیے ووٹ دیے کہ چوروں، ڈاکووں، کرپٹ اور بددیانت لوگوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ احتساب عمران خان کا سب سے بڑا نعرہ تھا مگر اس میں ہمیں وہ کامیابی نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی۔‘

سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی سے متعلق شیخ  نے کہا کہ حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ واپس آ جائیں۔ ’ہم ساڑھے تین سال سے اسی کام پر لگے ہیں۔ (انھیں) ہم نے خود بھیجا، ہماری ہی غلطی ہے۔ وہ سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو گئے اور باہر چلے گئے۔‘ شہزاد اکبر سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ان کے استعفی اور وزیر اعظم کی ان سے ناراضگی کی وجہ محض نواز شریف یا شہباز شریف کو واپس لانا ہی نہیں بلکہ ’ہم پیسے بھی تو واپس نہیں لا سکے۔‘ ’اربوں کی کرپشن ہوئی۔

ایک ایک ملازم کے اکاونٹ سے چار چار ارب روپے برآمد ہو رہے ہیں۔ صرف شہباز شریف پر 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے لیکن ہم ان کے پیسے بھی نہیں لا سکے۔‘ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ شہزاد اکبر کی جگہ لینے والے مشیر احتساب ماضی کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

Back to top button