کپتان ‘اگر مجھے نکالا’ والی دھمکی لگانے پر کیوں مجبور ہوا؟

عمران خان کی جانب سے اگر مجھے نکالا گیا تو میں اور بھی خطرناک ہو جائوں گا والے دھمکی نما بیان کے تںاظر میں مبصرین کہتے ہیں کہ کسی وزیرِاعظم کو سرگوشیوں پر مبنی خبروں پر ہرگز بات نہیں کرنی چاہیے، ایسی باتوں سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے لیکن شاید وہ اُن لوگوں کو وارننگ دینا چاہتے ہیں جو انہیں نکالنا چاہتے ہیں۔
وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے مخالفین کے لئے سخت زبان استعمال کرنے اور اقتدار سے ہٹنے کی صورت میں سڑکوں پر احتجاج کرنے کے بیانات پر تجزیوں اور تبصروں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ حکومتی شخصیات کا اصرار ہے کہ کپتان نے اپوزیشن کو للکارا تاہم اپوزیشن قیادت اور مبصرین کی اکثریت سمجھتی ہے کہ ان کا مخاطب اسٹیبلشمنٹ تھی جس کے بارے میں وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ نواز شریف کو سازش کے ذریعے چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ 23 جنوری کو پی ٹی وی پر نشر ہونے والے براہ راست سیشن ‘ آپ کا وزیرِ اعظم آپ کے ساتھ’ میں’ ایک شہری کے سوال پر جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اگر وہ اقتدار سے الگ ہوئے تو اپوزیشن جماعتوں کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے اور اُنہیں کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بظاہر اپوزیشن کو للکارا ہے لیکن ساتھ ہی اُنہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو بھی پیغام دیا ہے کہ اگر اُنہیں اقتدار سے ہٹایا گیا تو و ہ خاموشی سے گھر نہیں جائیں گے۔ بعض تجزیہ کار عمران خان کی تقریر کو اُن کی حکومت کی ناکامی کے اعتراف کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ وزیرِ اعظم کو ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے۔
حکومت اور فوج کے چھوٹے موٹے اختلافات ضرور ہیں
ان کا کہنا تھا کہ سرگوشیوں پر مبنی خبروں پر وزیرِاعظم کو بات نہیں کرنی چاہیے، ایسی باتوں سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے لیکن شاید وہ اُن لوگوں کو وارننگ دینا چاہتے ہیں جو انہیں نکالنا چاہتے ہیں لیکن میرے خیال میں اس بیان کا کوئی اچھا اثر نہیں پڑا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بظاہر اس بیان کی مخاطب اپوزیشن تھی لیکن اُن کے بقول اس بات سے کئی معنی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی درست ہے کہ وزیرِاعظم عمران خان کے پاس بہت قلیل اکثریت ہے، اگر واقعی حالات بدل گئے تو عدمِ اعتماد مشکل نہیں ہے۔ اس کے لیے فضا بدلنے کی ضرورت ہے جو فی الحال نظر نہیں آ رہی ۔صرف چند ووٹوں کا فرق ہے اور اس فرق کو دور کرنا بہت زیادہ مشکل نہیں ہے۔
تجزیہ کار سلمان عابد کہتے ہیں کہ بظاہر ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ عمران خان کا یہ پیغام اپوزیشن کے لیے ہے لیکن دراصل یہ پیغام طاقت کے مراکز کے لیے بھی ہے۔ ایک عرصے سےاسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت ختم کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور ہو رہا ہے۔ اُن کے بقول یہی وجہ ہے کہ وزیرِاعظم نے جو گفتگو کی اس میں اُنہوں نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے احتساب اور عدالتی نظام کے بارے میں بات کی ،ان کو لگتا ہے کہ رکاوٹیں اداروں کی طرف سے ہیں۔
بقول سلمان عابد اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے کہ وہ کمزور ہیں یا انہیں آسانی سے نکالا جاسکتا ہے،عمران خان نے طاقت کے مراکز کو بھی اور اپوزیشن کو پیغام دیا ہے کہ اگر ان کے ساتھ ایسا کچھ ہوا وہ زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے اور سخت ردِعمل دیں گے۔ سلمان عابد کے مطابق اگر ہم ایک لمحے کو مان لیں کہ ایسی کسی کوشش کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ موجود ہے تو پھر عمران خان نے جو پیغام دیا ہے وہ ایسی ہی کوششوں کے جواب میں ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے ایسی کوشش کی تو عمران خان سخت ردِعمل دیں گے۔ بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ اسٹیبلشمنٹ ایسی کسی سیاسی مہم جوئی کے موڈ میں ہے۔
