ہماری سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کیوں نہیں ہے

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ خود سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت نہیں۔ نون لیگ شریف فیملی، پیپلز پارٹی آصف زرداری ، پی ٹی آئی عمران خان ، جے یو آئی مولانا فضل الرحمان ، اے این پی اسفندیار ولی خان اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی محمود خان اچکزئی کی ذاتی جاگیر کی حیثیت رکھتی ہیں، یہ جماعتیں اپنی جماعتوں سے باہر تو اختلاف رائے کا حق مانگتی ہیں اور بجا مانگتی ہیں لیکن خود اپنی جماعت کے اندر اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتیں ۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ اسی طرح پاکستان میں جمہوری حکومتوں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا نہ ہونا ہے ۔ بہترین طرز حکومت وہ ہوتا ہے جو نچلی سطح پر عوام کی مرضی سے عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلایا جائے اور اس کے لئے تمام ترقی یافتہ ممالک میں منتخب مقامی حکومتوں کا نظام رائج کیا جائے لیکن پاکستان کی سیاسی جماعتیں قومی ہوں یا صوبائی ، مقامی حکومتوں کی دل سے دشمن ہیں ۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت کچھ اختیارات صوبوں کو منتقل ضرورکئے گئے لیکن کوئی بھی صوبہ ہو اور کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو ، وہ اختیارات ضلعوں کو منتقل کرنے کو تیار نہیں ۔ مرکزی سطح پر نیشنل فنانس کمیشن کا ایوارڈ تو ہوجاتا ہے لیکن مسلم لیگ کی حکومت ہو، پیپلز پارٹی کی یا پی ٹی آئی کی ، وہ اس کی روح کے مطابق پروونشل فنانس کمیشن کے تحت اضلاع میں وسائل تقسیم کرنے کو تیار نہیں ۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران خان نے پنجاب میں اقتدار میں آتے ہی منتخب بلدیاتی ادارے توڑ دیئے اور ان کی جگہ بیوروکریسی کو مسلط کئے رکھا ۔ سندھ میں پیپلز پارٹی ہر ممکن حد تک لیت و لعل سے کام لیتی رہی ۔ بلوچستان اور پختونخوا میں بھی بلدیاتی اداروں کو مفلوج کرنے کی تمام حدیں پار کردی گئیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہمارے ہاں بلدیاتی اداروں کے قیام کو کافی سمجھا جاتا ہے حالانکہ ضرورت بلدیاتی نظام کی نہیں بلکہ منتخب مقامی حکومتوں کے نظام کی ہے ۔ہم ڈسٹرکٹ کونسل اور یونین کونسل کو مقامی حکومتوں کامتبادل سمجھ لیتے ہیں جن کے پاس محدود اختیارات ہوتے ہیں حالانکہ اصل ضرورت مقامی حکومتوں کی ہے ۔ امریکہ ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں لوکل کونسلیں نہیں بلکہ بااختیار بلدیاتی حکومتیں کام کررہی ہیں جس کی وجہ سے وہاں کی جمہوریتیں ڈیلیور کررہی ہیں۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ ان مقامی حکومتوں کے کنٹرول میں ہوتی ہیں۔ گلی نالے یا اسکول وغیرہ سے وفاقی یا صوبائی حکومت کا کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں صرف سرکاری معاملات ریگولیٹ کرنے اور ملکی یا صوبائی سطح پر قانون سازی کا کام کرتی ہیں ۔ اس لئے وہاں کی پارلیمنٹ میں پیسے والے یا پارلیمنٹ کے ذریعے پیسے کمانے والے نہیں بلکہ قانون سازی میں دلچسپی رکھنے والے ہی پہنچتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان بھی جمہوری نظام ڈیلیور کرے تو اس کے لئے مقامی حکومتوں (نہ کہ بلدیاتی اداروں) کے نظام کو اس کی اصل روح اور اختیارات کے ساتھ رائج کرنا ہوگا اور ارکانِ پارلیمنٹ کو ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز دینے کا سلسلہ آئینی طور پر ختم کرنا ہوگا۔ اس ہائبرڈ نظام کی وجہ سے ہمارے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز دن رات ترقیاتی فنڈز ہتھیانے اور حلقے کے عوام کو نوکریاں دلوانے میں مگن رہتے ہیں ۔ اسی وجہ سے قومی اسمبلی اور سینیٹ پیسے والے لوگوں کیلئے پرکشش جگہیں بن گئی ہیں ۔
سلیم صافی کا کہنا ہے کہ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں جو برائے نام بلدیاتی نظام رائج ہے ، ہم نے اس کو بھی مذاق بنایا ہوا ہے اور یہاں بھی صوبائی حکومتوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ عوام کے حقیقی نمائندے منتخب نہ ہوں۔ پہلے ہم نے خیبر پختونخوا میں اس مظہر کا مشاہدہ کیا جہاں الیکشن کے دن پی ٹی آئی کے صوبائی وزرا بیلٹ باکس اٹھائے ہوئے دیکھے گئے اور سرکاری وسائل کے زور سے اکثر جگہوں پر من پسند لوگوں کو مسلط کیا گیا۔ دوسری طرف سندھ کی صوبائی حکومت اختیارات نہ دے کر ان کو مفلوج کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے ۔ پہلے تو کراچی میں من پسند حلقہ بندیاں کی گئیں اور ایم کیوایم کے بار بار مطالبات کے باوجود اس کو درست نہ کیا گیا۔ پھر بے یقینی کی ایک صورت حال پیدا کی گئی ۔ کبھی معاملہ الیکشن کمیشن میں جاتا اور کبھی عدالتوں میں ۔الیکشن سے ایک روز قبل تک واضح نہیں تھا کہ 15جنوری کو انتخابات ہوں گے یا نہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی جماعت صحیح مہم نہ چلا سکی۔ کراچی اور حیدرآباد میں گہرے اثرورسوخ کی حامل ایم کیوایم نے انتخابی حلقہ بندیوں پر اعتراض کی وجہ سے بائیکاٹ کیا جس کی وجہ سے ان انتخابات کی ساکھ پہلے دن ہی متاثر ہوگئی۔ پھر جس طرح انتخابی نتائج میں تاخیر ہوئی، اس نے بھی الیکشن کی ساکھ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ کراچی اور حیدر آباد کے بلدیاتی الیکشن میں جو کچھ ہوا ہے اس کا بنیادی ذمہ دار الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے۔
زرداری، شہباز نے پی ڈی ایم میں شرکت کی دعوت دی تھی
