ثاقب نثار کے خلاف عدالت میں درخواست بے نتیجہ کیوں رہے گی؟


سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ثاقب نثار کی لیک ہونے والی آڈیو کی تحقیقات کے لئے دائر کردہ درخواست کا بظاہر کوئی مثبت نتیجہ نکلنے کا امکان نظر نہیں آتا۔ 29 نومبر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے اس کے قابل سماعت ہونے پر معاونت طلب کر لی ساتھ ہی ریمارکس دئیے کہ ٹیپ جن کے کیسز سے متعلق ہے، یعنی نواز شریف خاندان، انہوں نے یہ معاملہ عدالت لانے کے حوالے سے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔
سندھ بار ایسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین احمد اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن حیدر امام رضوی کی درخواست پر عدالت عالیہ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔ آغاز میں جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم پہلے اٹارنی جنرل کو پری ایڈمشن نوٹس جاری کریں گے اور اس کے قابل سماعت ہونے پر بات کریں گے۔
ایڈووکیٹ صلاح الدین احمد نے کہا کہ پاکستان بار کونسل نے قرار داد منظور کی ہے، عدالت مناسب سمجھے تو انہیں بھی نوٹس کر دے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے عدالت آپ کا احترام کرتی ہے، یہ بتا دیں کہ یہ پٹیشن قابل سماعت کیسے ہے؟ رٹ کس کے خلاف دائر کی گئی یے؟ ہم کیا رِٹ جاری کریں اور کسے جاری کریں؟ درخواست گزار وکیل نے کہا کہ بنیادی حقوق سے متعلق اس عدالت کا اختیار وسیع ہے، آرٹیکل 199 سی کے تحت یہ عدالت اپنا اختیار استعمال کر سکتی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انکی عدالت نے صرف قانون کے مطابق حقائق کو دیکھنا ہے، جوڈیشل ایکٹوزم میں نہیں جانا، جوڈیشل ایکٹوازم کے باعث عدلیہ کا پہلے ہی بہت نقصان ہوا، عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ ایسا کرنے سے کہیں کوئی فلڈ گیٹ تو نہیں کھل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی قوتیں مختلف بیانیے بناتی ہیں مگر عدالت نہیں آتیں، جب وہ عدالت نہیں آتے تو کورٹ کو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ نیت کیا ہے؟
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مبینہ آڈیو ٹیپ ایک زیر التوا اپیلوں والے کیس سے متعلق ہے، ٹیپ جن لوگوں کے کیسز بارے ہے انہوں نے عدالت آنے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کچھ بھی وائرل ہوجاتا ہے کس کس کی انکوائری کرائیں گے؟ آپ کچھ آڈیو کلپس پر رنجیدہ ہیں لیکن یہ بھی تو بتائیں کہ چیف جسسٹس آف پاکستان کی آڈیو ٹیپ ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کس کے پاس ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا ہم ان لوگوں کے ہاتھ میں کھیلیں جنہوں نے یہ ٹیپس بنائی اور پھر جاری کروائی ہیں؟
یہ بھی پڑھیں:بیہودہ آڈیو میں کس حکومتی وزیر کی آواز ہے؟
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ میرے متعلق کہا جاتا ہے کہ میں نے بھی کوئی فلیٹ لے لیا ہے، تو کیا ہم اس الزام کی انکوائری کرنے بیٹھ جائیں گے؟ اہم سوال یہ ہے کہ فرض کریں یہ آڈیو درست ہے تو بھی اسکا اصل کلپ کہاں ہے اور کس کے پاس ہے؟ ہم نے انکوائری آرڈر کر دی تو کل کوئی بھی کلپ لا کر کہے گا تحقیقات کریں۔ بعدازاں عدالت نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئے میاں ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ کی تحقیقات سے متعلق کیس کی سماعت 8 دسمبر تک ملتوی کردی۔ خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سندھ سے تعلق رکھنے والے جوڈیشل کمیشن کے رکن نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی تھی کہ ثاقب نثار کی آڈیو کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن کی تشکیل کی جائے۔ تاہم اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے ریمارکس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر کوئی بڑی کاروائی ہونے نہیں جا رہی۔

Back to top button