ن لیگ کو لیکس اور ٹیپس کا کوئی فائدہ کیوں نہیں ہو گا؟

اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کپتان حکومت کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے کوئی بڑی تحریک چلانے کی بجائے اپنی توجہ مسلسل آڈیو اور ویڈیو ٹیپس لییک کرنے پر مرکوز کیے ہوئے ہے، لیکن بظاہر نواز شریف اور مریم کے عدالتی کیسوں میں ان ٹیپس کا کوئی فائدہ ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نواز لیگ کی سیاست عملی طور پر تب ہی آگے بڑھے گی جب نواز شریف لندن سے واپسی آنے کا فیصلہ کریں گے۔
معروف اینکر پرسن اور صحافی ماریہ میمن اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتی ہیں کہ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ن لیگ کی لیکس کی سیاست عوامی رائے عامہ میں کوئی خاص تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور نہ ہی ابھی تک عدالتوں میں ان سے کوئی فائدہ اٹھایا جا سکا ہے۔ لیکن اس عمل کا نقصان یہ ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے مریم نواز اور نواز لیگ کی جوابی ویڈیو ٹیپس آنا شروع ہوگئی ہیں۔ لہذا یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ملکی سیاست آگے بڑھانے کے لیے سیاسی میدان میں متحرک ہونا ہی موئثر حکمت عملی ہو گی، لیکن اس کا انحصار مریم نواز اور نواز شریف کے کیسز پر ہے۔ جب تک ان کیسز کا فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک شاید ان کی اس عمل کو مشکوک بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
ماریہ میمن کہتی ہیں کہ ن لیگ کی سیاست کچھ عرصے سے لیکس کی سیاست بن کر رہ گئی ہے۔ اس طرز سیاست کا آغاز جج ارشد ملک کے انکشافات اور اس سے جڑی ویڈیوز سے ہوتا ہوا جج رانا شمیم کے بیانات تک پہنچا اور اب تازہ ترین سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی صورت میں نمودار ہوا ہے۔ ان انکشافات اور لیکس کی اصل حقیقت سے متعلق تو ہر طرف سے تبصرے ہو رہے ہیں اور ساتھ ان سے جڑے معاملات عدالتوں میں بھی زیر سماعت ہیں مگر سوال یہ ہے کہ یہ لیکس اس طرح کا سیاسی اثر ڈالنے میں کوئی خاص کامیاب نہیں ہوئیں جس کی شاید ن لیگ کو توقع تھی بلکہ زیادہ تر رائے عامہ اس پر تحفظات اور شکوک کی صورت میں ہی سامنے آئی ہے۔ ماریہ کہتی ہیں کہ اس سوال کا جواب ن لیگ کی دو طرفہ سیاست میں ہے۔ ایک طرف تو ان کی سیاست اپنی کارکردگی یا اس تسلسل میں موجودہ سیٹ اپ کی ناکامی کو عیاں کرنے میں ہے۔ دوسری طرف ان کا محور نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کی عزت بحال کرنا ہے۔ اس لیے ن لیگ کے سارے لیڈر اور کارکن ہمہ وقت نواز شریف کی صفائیاں دیتے نظر آتے ہیں۔
ماریہ کہتی ہیں کہ سیاسی پارٹیاں اپنے منشور اور روڈ میپ پر سیاست کرتی اور ووٹ مانگتی ہیں۔ وہ اپنا ایجنڈا لوگوں کے سامنے پیش کرتی ہیں جس پر لوگ ان کی صلاحیت کا تعین اور آنے والے وقت میں ان سے توقعات وابستہ کرتے ہیں۔ ن لیگ پچھلے پانچ سات برس سے پانامہ اور اس سے جڑے سوالات کا جواب دینے کو ہی اپنی سیاست کو محور بنانے پر مجبور ہے۔ یہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی ابھی تک سیاسی مہارت ہے کہ تین سال حکومت میں ہونے کے بعد بھی وہ نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے کیسز کو بطور ایشو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ بقول ماریہ میمن پانامہ لیکس کے بعد پنڈورا لیکس بھی سامنے آئے مگر باوجود کوشش کے کسی طرح کا اثر نہیں چھوڑ سکے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایک طرف پانامہ سکینڈل ابھی تک مؤثر ہے مگر باقی کوئی سکینڈل کیوں اس طرح آگے نہیں چل سکا؟
انکے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ لیکس یا سکینڈل کی نوعیت کے ساتھ ساتھ اس میں بڑے سیاسی رہنما کا براہ راست نام، اس کے بعد سیاسی تحریک، پھر کسی بڑے فورم میں اس کا نوٹس اور اس کے بعد تفتیش، مقدمہ اور سزا۔ ماریہ میمن کا ماننا ہے کہ پانامہ کے بعد کوئی بھی لیکس اس سارے پیکج کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ زیادہ تر لیکس تو ایک طرح سے جذباتیت اور جلد بازی کا اظہار لگتی ہیں جس کی وجہ سے فائدہ کم اور نقصان ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ پانامہ میں ہوئی مہینوں سماعت اور پھر اس کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کے روزانہ کے بیانات اور اس کے بعد کے بحث مباحثے لوگوں کی یادداشت میں آج بھی زندہ ہیں۔ دوسری طرف موجودہ لیکس میں لیک کرنے والوں پر زیادہ الزام لگ رہے ہیں۔ سیاست اور سکینڈل کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ دنیا میں کئی بڑے لیڈر سکینڈلز کی نذر ہوئے۔ سابق صدر امریکی صدر رچرڈ نکسن کے واٹر گیٹ سکینڈل اور پھر اس کے بعد مختلف سکینڈلز کے لیے گیٹ کی اصطلاح عام ہوئی۔
ماریہ کہتی ہیں کہ پانامہ کے بعد لیکس کا تذکرہ ہوا۔ لیکس اور سکینڈلز کو سیاسی فائدے کے استعمال کے لیے البتہ موقع محل اور مقصد ہونا ضروری ہے۔ ن لیگ کی طرف سے جو لیکس سامنے آ رہی ہیں وہ صرف بیان بازی تک ہی محدود ہیں۔ نہ تو ان کے ساتھ کوئی سیاسی تحریک کے آثار ہیں اور نہ ہی کسی فورم پر ان کو خاص شنوائی ملی ہے۔ اس کے بجائے ان کے خلاف کارروائیاں ضرور شروع ہو گئی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ نواز شریف کا ملک سے باہر ہونا بھی ہے۔ پر ن لیگ کی طرف سے ان کے لیڈر کے ملک سے باہر ہونے کا دفاع کرنا نہ صرف سیاسی طور پر ایک چیلنج ہے بلکہ اس کا قانونی اور اخلاقی جواز بھی ڈھونڈنا مشکل ہے۔ ن لیگ کی لیکس کی سیاست تو رائے عامہ میں کوئی خاص تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی بلکہ مستقبل میں ظاہر ہونے والے انکشافات پر بھی ابھی سے سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں۔ اب آگے اگر کوئی اور لیکس سامنے بھی آئے تو حکومت یہی دہرائے گی کہ وہ تو پہلے ہی کہتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کرونا فنڈز میں 40 ارب روپے کا حکومتی گھپلہ پکڑا گیا
لہذا ن لیگ کے لیے اب سیاسی میدان ہی اصل حکمت عملی ہو گی۔ اس کا انحصار مریم نواز اور نواز شریف کے کیسز پر ہے۔ جب تک ان کیسز کا فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک شاید ان کی اس سارے عمل کو مشکوک بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ سوال البتہ یہ ہے کہ کیا یہ کوششیں کامیاب ہو گئیں یا اس کے نتیجے میں شک کا رخ ان کے اپنے طرف ہی مڑ جائے گا؟
