اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر شہباز شریف دوبارہ وزیراعظم کیسے بنے؟

مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف مسلسل دوسری مرتبہ پاکستان کے 24ویں وزیراعظم منتخب ہو گئے ہیں۔شہباز شریف سے قبل محترمہ بے نظیر بھٹو دو مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہیں تاہم ان کے دونوں ادوار کے درمیان نواز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔شہباز شریف کا وزیراعظم کے طور پر پہلا دور صرف 16 ماہ تک محدود رہا۔
خیال رہے کہ سنہ 1997 کے بعد جب بھی ن لیگ اقتدار میں آئی ایسا کبھی نہیں ہوا کہ نواز شریف ملک میں ہوں، اہل بھی ہوں، الیکشن بھی جیت جائیں مگر پھر بھی وزیراعظم نہ بنیں۔ وہ ہر مرتبہ وزیراعظم بنے اور شہباز شریف صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے۔پنجاب میں شہباز شریف نے لگ بھگ 13 برس تک وزیراعلیٰ کے طور پر حکومت کی۔ سنہ 2008 سے 2018 تک دس برس کے ان کے دورِ حکومت میں ان کے بارے میں ایک ’سخت ایڈمنیسٹریٹر‘ ہونے کا تاثر سامنے آیا۔اس دوران انھوں نے کئی بڑے منصوبے مکمل کیے اور کچھ شروع کیے۔ ان میں سے اورنج لائن جیسے کئی منصوبوں پر ان کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم ساتھ ہی ان کے بارے میں یہ تاثر بھی قائم ہوا کہ وہ ترقیاتی منصوبے کم وقت میں مکمل کرواتے ہیں۔تاہم سنہ 2022 پہلی مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد اپنے دورِ حکومت میں وہ ’سخت ایڈمنسٹریٹر‘ یا ’شہباز سپیڈ‘ جیسا کوئی تاثر قائم نہیں کر سکے۔ تاہم اگست 2023 میں اپنی حکومت کی مدت پوری ہونے پر شہباز شریف کا دعویٰ تھا کہ ’انھوں نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا۔ جن حالات میں ان کو معیشت ملی وہ 17 مہینوں میں جتنی بہتر کی جا سکتی تھی انھوں نے کی ہے۔‘
سینئر صحافی سلمان غنی کے مطابق سنہ 1985 میں شہباز شریف لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر بنے تھے۔سلمان غنی کے خیال میں میاں نواز شریف اور اُن کی جماعت کی سیاست کو بڑھاوا دینے میں شہباز شریف کا مرکزی کردار رہا ہے۔’وہ بہت محنت کرتے تھے۔ خاندان میں بھی شروع ہی سے ان کے بارے میں یہ تاثر تھا کہ وہ محنتی اور انتہائی اچھے منتظم ہیں۔‘کاروبار کو بڑھاوا دینے کے بعد انھوں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تو پہلی بار شہباز شریف سنہ 1988 کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے رُکن بنے۔سنہ 1990 میں قومی اسمبلی اور سنہ 1993 میں دوبارہ پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ اسی سال وہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی بنے۔
سنہ 1997 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن نے کامیابی سمیٹی تو شہباز شریف پہلی مرتبہ صوبہ پنجاب کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہوئے۔ سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کے مطابق ’شہباز شریف طبعاً ایک محنت کرنے والے شخص تھے اور انھیں اپنا مقرر کیا گیا ہدف پورا کرنے کا جنون ہو جاتا تھا۔ اچھا منتظم ہونے کی وجہ سے انھوں نے پنجاب میں ایک اچھی ٹیم بنائی۔‘
شہباز شریف نے صوبے میں کئی منصوبے شروع کیے تاہم ان کی حکومت وقت سے پہلے اس وقت ختم ہو گئی جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے سنہ 1999 میں مارشل لا نافذ کر دیا اور سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے ساتھ ساتھ شہباز شریف کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ اس وقت جو بھی حالات بنے، ان میں شہباز شریف کا کوئی کردار ثابت نہیں ہوا تھا۔’وہ بنیادی طور پر محاذ آرائی کے قائل نہیں تھے۔ ان کا ہمیشہ یہ مؤقف ہوتا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سمیت سب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔‘
مجیب الرحمان شامی بتاتے ہیں کہ ایک موقع پر پرویز مشرف نے بھی کہا تھا کہ ’اگر شہباز شریف وزیراعظم ہوتے تو بہتر ہوتا۔‘ تاہم شریف خاندان کے دونوں بھائیوں کے خلاف طیارہ ہائی جیکنگ اور غداری کے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ 2000 میں شریف خاندان کی فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک مبینہ ڈیل ہوئی جس کے بعد وہ جلا وطن ہو کر سعودی عرب چلے گئے۔ شہباز سریف ملک سے جلا وطن نہیں ہونا چاہتے تھے اور انھوں نے بہت کوشش بھی کی کہ انھیں باہر نہ بھیجا جائے۔‘ تاہم وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوئے۔
دوسری جانب صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی بتاتے ہیں کہ شہباز شریف نے جیل کے اندر سے بھی اپنے بڑے بھائی نواز شریف کو کئی خط لکھے۔’ان خطوط میں وہ نواز شریف کو یہی مشورہ دیتے رہے کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکراؤ نہیں کرنا چاہیے۔‘بعد ازاں وطن واپسی کے بعد سنہ 2013 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد شہباز شریف مسلسل دوسری بار اور مجموعی طور پر تیسری بار پنجاب کے وزیرِاعلیٰ منتخب ہو گئے۔ ان ہی دس برسوں میں ان کے بارے میں ’سخت ایدمنسٹریٹر‘ ہونے کا تاثر سامنے آیا تھا۔
صحافی مجیب الرحمان شامی کے مطابق شہباز شریف نے پہلے پانچ برسوں میں اپنے لیے ہدف مقرر کیا تھا کہ انھوں نے ملک میں بجلی کی کمی کو پورا کرنا ہے اور اس کے بعد انھوں نے چین کے تعاون سے پاور پلانٹس لگانے کا کام شروع کیا جسے ریکارڈ مدت میں ختم کیا گیا۔’اس زمانے میں اسی وجہ سے ’پنجاب سپیڈ‘ کی اصطلاح بھی مشہور ہوئی تھی۔‘ مجیب الرحمان شامی کے مطابق ’خاص طور پر چینی ان سے بہت خوش تھے کہ وہ وقت سے پہلے منصوبے مکمل کر لیتے تھے۔‘صحافی سلمان غنی بتاتے ہیں کہ شہباز شریف چین کے لوگوں کے کام کے طریقے سے بہت متاثر تھے۔ اسی لیے وہ چین کے بارہا دورے کر چکے ہیں۔ ’چینی ان کو پسند کرتے ہیں اور وہ چینیوں کو۔ چینی ان کے کام کرنے کی رفتار سے بہت متاثر تھے اور اس کی تعریف کرتے تھے۔‘
شہباز شریف نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی کئی منصوبے مکمل کیے تاہم ان کے دور کے دو بڑے منصوبے ابتدائی طور پر بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنے۔انھوں نے لاہور میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے شہر میں میٹرو بس چلانے کا منصوبہ بنایا۔ اس وقت عمران خان حزبِ اختلاف میں تھے اور انھوں نے اس کو ’جنگلہ بس‘ کا نام دے کر تنقید کا نشانہ بنایا۔صحافی سلمان غنی کے مطابق شہباز شریف نے ’تمام تر تنقید اور مخالفت کے باوجود میٹرو بس کا منصوبہ مکمل کیا اور وہ کامیاب بھی ہوا۔‘ اس کے بعد یہی منصوبہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاوہ ملتان میں بھی شروع کیا گیا۔خود عمران خان کی حکومت نے صوبہ خیبرپختونخواہ میں بھی ایسا ہی پراجیکٹ شروع کیا۔ لاہور میں اورنج لائن ٹرین چلانے کے منصوبے پر بھی شہباز شریف کو حزبِ اختلاف کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اس کے بارے میں اپوزیشن کا مؤقف تھا کہ یہ پراجیکٹ اتنا مہنگا تھا کہ حکومت کے لیے اس کو سبسڈی پر چلانا ’ایک بہت بڑا بوجھ‘ تھا۔ تاہم بعد میں یہ پراجیکٹ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت میں چلنا شروع ہوا اور ابھی تک چل رہا ہے۔
شہباز شریف اپنے بڑے بھائی نواز شریف کے سامنے سیاست میں ہمیشہ ثانوی کردار ادا کرتے رہے۔ جب بھی نواز شریف وزیرِاعظم بنے تو شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب بنے۔صحافی مجیب الرحمان شامی کا کہنا ہے کہ ’شہباز شریف پبلک لیڈر نہیں، وہ اچھے منتظم ضرور ہیں۔ وہ غیر ضروری جھگڑوں میں پڑنے کے قائل نہیں اور دفاعی اداروں کے ساتھ بھی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔‘
تاہم سنہ 2017 میں حالات اس وقت بدلے جب نواز شریف کو سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں تاحیات نااہل قرار دے دیا۔ پارٹی کی صدارت تو شہباز شریف کے پاس آ گئی لیکن وزارت عظمیٰ شاہد خاقان عباسی کے حصے میں گئی۔
سنہ 2018 کے انتخابات میں شہباز شریف نے پنجاب چھوڑ کر مرکز میں آنے کا فیصلہ کیا۔ وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور دوسری بڑی جماعت کے لیڈر ہونے کی وجہ سے قائدِ حزبِ اختلاف بھی منتخب ہو گئے۔ان کے خلاف بھی مبینہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات قائم ہوئے تاہم انھیں کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی۔
سنہ 2022 میں شہباز شریف نے حزبِ اختلاف کی باقی جماعتوں کو ساتھ ملا کر سابق وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف تحریک چلائی جس کے دوران ان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم اعتماد لائی گئی۔عدم اعتماد کے ووٹ کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت چلی گئی۔ ان کی جگہ پی ڈی ایم کی جماعتوں نے شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار بنایا۔ اتحادی جماعتوں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو ساتھ ملا کر وہ پہلی مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم بن گئے۔شہباز شریف کو اپنی پی ڈی ایم کی حکومت کے 17 ماہ کے دوران مسلسل معاشی بحران کا سامنا رہا۔ اس عرصے میں نہ تو وہ ڈالر کی اونچی اڑان روک پائے اور نہ ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پا سکے۔ سیاسی طور پر ان کی جماعت کو اس کا فوری نقصان ہوا۔
صحافی اور تجزیہ نگار ماجد نظامی سمجھتے ہیں کہ اس ہی کی وجہ سے ’ضمنی انتخابات میں ان کی جماعت پنجاب میں بری طرح ہاری اور اس کا اثر حالیہ انتخابات میں بھی عوام کے ردِ عمل کے طور پر سامنے آیا۔‘وہ کہتے ہیں کہ شہباز شریف نے ہمیشہ ’مفاہمت کی سیاست‘ کو ترجیح دی ہے۔ ’وہ ہمیشہ سے اس بات کے قائل رہے ہیں کہ انھیں پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی نہیں کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔‘
صحافی ماجد نظامی کے مطابق شہباز شریف سنہ 2017 میں پیدا ہونے والے حالات کے بعد اپنے بھائی نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور اپنی جماعت کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملہ کر کے گنجائش نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔تاہم اسی مفاہمت کی پالیسی کے تحت ’انھوں نے سنہ 2022 میں حکومت لینا قبول کیا جس کا ان کی جماعت کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔‘صحافی اور تجزیہ نگار ماجد نظامی کہتے ہیں کہ ’ماضی کے برعکس اس مرتبہ شہباز شریف کے لیے اچھی چیز یہ ہے کہ وہ پانچ سال کے لیے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں تاہم ان کے پاس اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حکومت زیادہ مضبوط نہیں ہو گی۔‘
تاہم ماضی کی طرح اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ کسی موقع پر آگے جا کر شہباز شریف کے بھی نواز شریف اور عمران خان کی طرح اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بگڑ جائیں۔ کیونکہ ’شہباز شریف کے اندر ایک باغی سیاسی ورکر کبھی بھی نہیں رہا۔ ان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں ہے۔ وہ نظریاتی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے حامی ہیں۔ ان کا بظاہر انا کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘صحافی اور تجزیہ نگار سلمان غنی بھی اس تاثر کی تائید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شہباز شریف کی ابتدا ہی سے سیاست مفاہمت کی رہی ہے۔ ’وہ اور چوہدری نثار ہمیشہ ہی سے
اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات کے حامی رہے ہیں۔
