شہباز شریف کی اچانک لندن روانگی، اصل وجہ کیا ہے؟

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی جانب سے سابقہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور عمرانڈو ججز کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنے کے بعد سابق وزیراعظم شہباز شریف خصوصی پیغام لے کر واپس لندن روانہ ہو گئے ہیں۔ شہباز شریف کی لاہور آمد کے ایک دن بعد ہی دوبارہ لندن  روانگی کے فیصلے سے جہاں لیگی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے وہیں دوسری طرف سوشل میڈیا پر بھی افواہوں کا بازار گرم ہوتا ہو دکھائی دیتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم منگل کو تقریباً ایک ماہ گزار کر لندن سے واپس آئے ہیں اوراب تازہ اطلاعات کے مطابق وہ جمعرات کو دوبارہ اپنے بھائی نواز شریف سے ملاقات کے لیے واپس لندن روانہ ہوجائیں گے۔اسی دوران یہ خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی بھی اپنے والد سے ملاقات کے لیے لندن روانہ ہو رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق شہباز شریف پارٹی قائد نوازشریف کیلئے اہم پیغام لیکر لندن جارہے ہیں، جمعہ کو لندن میں پارٹی کی اہم بیٹھک متوقع ہے جس میں صرف نواز شریف،شہباز شریف اور مریم نواز شریک ہونگی۔ اس اہم ملاقات میں نواز شریف کی وطن واپسی سمیت و دیگر امور پر مشاورت ہوگی جس میں انتخابات سے متعلق بھی اہم فیصلے متوقع ہیں،ذرائع کے مطابق نواز شریف کی وطن واپسی کا پروگرام 21اکتوبر کو فائنل ہے جس میں قطعا کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔

ذرائع کےمطابق ممکنہ لندن روانگی سے قبل ن لیگ کی چیف آرگنائزر مریم نواز شہباز شریف کے گھر پہنچیں اور ان سے ملاقات کی اور مختلف امور پر مشاورت کی جس کے بعد شہباز شریف نے بھی واپس لندن جانے کا پلان بنا لیا۔ادھر پاکستان مسلم لیگ (ن) سینئر نائب صدر و چیف آرگنائزر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ نواز شریف اور میں انتقام پر یقین نہیں رکھتے ،نواز شریف کیخلاف سازش کرنیوالے آج عوام میں جانے کے قابل نہیں ہیں ، 100 دن میں پارٹی قائد کی آواز نگر نگر پہنچ گئی ہے اس سے زیادہ خوشی کی کیا بات ہو گی ، نواز شریف ان شا اللہ 21 اکتوبر کو واپس آ رہے ہیں۔شہباز شریف کی دوبارہ لندن روانگی کے سبب میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی افواہوں کا بازار گرم ہو چکا ہے۔

پاکستان میں سینیئر تجزیہ کاروں کا یہ خیال ہے کہ شہباز شریف کی لندن روانگی کا سبب دو دن قبل جاری کیا گیا نواز شریف کا ایک بیان ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اُن کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دینے والے چار ججوں کے پیچھے ’جنرل ریٹائرڈ قمر باجوہ اور جنرل ریٹائرڈ فیض حمید تھے اور وہ ملک سے دشمنی کرنے والے کسی شخص کا چہرہ نہیں بھولے۔ اب مٹی پاو پالیسی نہیں چلے گی ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا ہر صورت احتساب ہو گا کسی کو کوئی رعایت نہیں ملے گی۔سینیئر صحافی نصرت جاوید نے اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ شہباز شریف کے ذریعے نواز شریف کو یہ بیان بھجوایا جا رہا ہے کہ وہ ’اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘ بیانیہ بنانے سے گریز کریں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی صارفین اس حوالے سے باتیں کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔سردار نعمان نامی صارف نے لکھا کہ ’احتساب باجوہ، فیض اورثاقب نثار کا ہونے کی بات ہوتی ہے اور دوڑیں شہباز شریف کی لگ جاتی ہیں، ایسا کیوں ہوتا ہے؟‘سلمان حیدر نے شہباز شریف کی لندن روانگی پر لکھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ’بیانیے میں تبدیلی کا امکان‘ ہے۔کچھ صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف لندن اپنے بھائی نواز شریف کی پاکستان آمد کی حکمت عملی تشکیل دینے لندن روانہ ہو رہے ہیں اور مریم نواز کا متوقع دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

اکبر باجوہ نے نواز شریف کے لیے ’اہم پیغام‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ویسے اہم پیغام مطلب کا نہ ہوا تو کیا واپسی کی تاریخ بدل بھی سکتی ہے؟‘دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے شہباز شریف کی لندن روانگی کی تصدیق کردی گئی ہے۔پارٹی رہنما مریم اورنگزیب نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر جناب شہباز شریف پارٹی قائد محمد نواز شریف کے بلانے پر اہم مشاورت کے لئے لندن روانہ ہوں گے

چیف جسٹس کا صوابدیدی اختیارات سے گریز کا عندیہ

جس کے بعد وہ جلد وطن واپس آئیں گے۔

Back to top button