استعفیٰ دے دوں گا مگر دباؤ میں نہیں آؤں گا،شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل جاری رہے گا۔ استعفیٰ دے دوں گا مگر دباؤ میں نہیں آؤں گا،
وزیراعظم شہبازشریف کا فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ہیڈکوارٹرمیں افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایف بی آر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ایف بی آر کی آٹومیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر افسران کو دوٹوک بتایا کہ استعفیٰ دے دوں گا مگر دباؤ میں نہیں آؤں گا اور ایف بی آر میں اصلاحات کا عمل جاری رہے گا۔انہوں نے کہاکہ کوئی سفارش قبول نہیں، کوئی ذاتی پسند ناپسند بھی نہیں، قومی مفاد سب سے اوپر ہے، کوئی غلطی ہے تو درست کرینگے، چیئرمین ایف بی آر نے ڈیجیٹائزیشن پرچند دن پہلے سرپرائز دیا، تین ماہ پہلے بتادیتے تو سوچتے غیر ملکی فرم میکانزی کو لانا ہے یا نہیں؟ان کا کہنا تھاکہ چیئرمین ایف بی آر کو پھر کہتا ہوں اب بھی کوئی سرپرائز ہے تو دے دیں کوئی ایکشن نہیں لوں گا لیکن اس کے بعد چھپن چھپائی کی تو برداشت نہیں کروں گا۔
الیکشن کمیشن : پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن کیس سماعت کےلیے مقرر
وزیر اعظم نے آئی ایم ایف معاہدے کونئی ذمہ داریوں کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہاکہ اب ٹیکس کا نفاذ ان افرادپر کریں جو ایک دھیلے کا ٹیکس نہیں دیتے، ٹیکس لینے کے نام پر تاجروں اور صنعتکاروں کو تنگ کرنے کی بھی اجازت نہیں دوں گا، نہیں چاہتا کہ آپ میری بدنامی کریں۔
