امریکہ جنرل عاصم منیر کے خلاف ہر انتہا پر کیوں جائے گا؟

سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ الله خان نیازی نے کہا ہے کہ جنرل عاصم منیر پاکستان کے پہلے آرمی چیف ہیں جو امریکی مہرہ بننے کی بجائے چین کیساتھ یکسوئی کیساتھ وابستہ ہو چکے ہیں ۔ آنیوالے دن آسان نہیں ہوں گے کیونکہ امریکہ نے جنرل عاصم منیر کیخلاف ہر انتہا تک جانا ہے۔ چین ایک بار پھر پاکستان میں اربوں ڈالر فوری نچھاور کرنے کوہے ۔ پاکستان کا ساتویں آسمان کو سفر گوادر ، تا ، کاشغر، یا ، کاشغر سے گوادر ہی ہے . اپنی ایک تحریر میں حفیظ اللّہ خان نیازی لکھتے ہیں کہ میرا وجدان کہتا ہے کہ موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر پہلا فوجی سربراہ ہے جو امریکی اثرو رسوخ سے آزاد اور چین کیساتھ گہرے رابطے میں ہے۔ چین کے دوبارہ اعتماد بحال ہونے میں سو فیصد کردار جنرل عاصم منیر کا ہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہی کہ جنرل عاصم منیر کی تعیناتی رکوانے کیلئے عمران خان اور جنرل باجوہ ہر انتہا پر گئے۔ جنرل باجوہ کی بدنیتی تھی کہ جنرل عاصم منیر کی چھ ، سات ہفتے کی نوکری ہڑپ کی گئی تاکہ وہ آرمی چیف بننے کی دوڑ سے باہر ہوجائیں، اسی چکر میں باجوہ نے اپنے ہی ادارے کو جھونک ڈالا۔ عمران خان نے ہر حد ٹاپی ، جنرل عاصم منیر کا نوٹیفیکیشن رُکوانے کیلئے 26 نومبر کو لانگ مارچ کر ڈالا ۔تعیناتی رُکوانے کیلئے جنرل باجوہ کی اسکیم بظاہر فول پروف تھی یعنی عمران خان کی حکومت ہٹاکر اتحادی حکومت نہیں نگران حکومت کا قیام . اس کا مقصد بذریعہ نگران حکومت خود کو توسیع دینا تھا۔ موجودہ حکومت کو گھر بھیجنا، مارشل لالگانا، ملک کے اندر خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنا، عمران خان اور اتحادی حکومت کو اپنی توسیع کیلئےراضی کرانا تا کہ جنرل عاصم منیر کی تعیناتی نہ ہو سکے، ایسے بے شُمار کرنے کے کام ادھورے رہ گئے کہ جنرل باجوہ کی اسکیم اللہ کی اسکیم کے سامنے ڈھیر ہو گئی۔حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ اس کشمکش میں پاکستان تاریخ کے بد ترین سیاسی بحران اور غیر یقینی کی دلدل میں دھنس گیا، سی پیک منصوبہ اسکی بھینٹ چڑھ گیا۔ سی پیک کی تکمیل چین کیلئے بے حد ضروری جبکہ امریکہ کیلئے سوہان روح ہے ‘‘ ۔ بلا شبہ سی پیک اقتصادی سے زیادہ دفاعی تزویراتی منصوبہ تھا۔ اس میں دورائے نہیں کہ چین کا مفاد پاکستان کے سیاسی استحکام ، خوشحالی اور امن و امان سے جڑا ہے جبکہ امریکہ کی دلچسپی ہمارے عدم استحکام ، اقتصادی ابتری اور بدامنی سے ہے ۔ جمہوری حکومت ہو یا فوجی ڈکٹیٹر، چین نے بلا تفریق ، صدقِ دل سے ہماری مدد کی۔ دوسری طرف امریکہ نے پاکستان پر ڈالرز کی بوچھاڑ فوجی ڈکٹیٹرز کے زمانے میں کی جبکہ جمہوری حکومتوں کے دوران پابندیاں لگیں۔ چین ہمیشہ سے پاکستان کی اندرونی سیاست سے لاتعلق رہا جبکہ امریکی ہاتھ ہر حکومتی اُکھاڑ پچھاڑکے پیچھے کار فرما رہا۔سی پیک کا خاتمہ مسلم لیگ ن حکومت کی رخصتی کیساتھ نتھی تھا۔ سی پیک منصوبہ عامیانہ اندازسے شروع ہو اکہ امریکی نظروں میں نہ کھٹکے۔ لگ بھگ 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان ہوا۔ جب شروع ہوا تو 35 ارب ڈالر کے منصوبے روبہ عمل تھے،چند ماہ میں 60 ارب ڈالر تک جا پہنچے۔ اندرون خانہ آنیوالے دنوں میں کئی سو ارب ڈالر سرمایہ کاری کی بازگشت سننے میں آئی۔
حفیظ الله نیازی کے مطابق نواز شریف حکومت کی اُکھاڑ پچھاڑ پر ایک ہمہ گیر سیاسی بحران نے جنم لینا تھا ۔ نوازشریف حکومت کے خاتمہ کی بڑی وجہ سی پیک معاہدوں کا آغاز تھا۔ نواز شریف کو جب اس پر سزا ملی تو اُنکا نقصان کم ،پاکستان کی تباہی زیادہ ہوئی۔ افسوس کہ تین کا ٹولہ یعنی جنرل باجوہ، عمران خان اور ثاقب نثار اس کام میں استعمال ہو ۔ 7 جنوری 1951 سے جنرل باجوہ تک، فوجی سربراہان کی بڑی اکثریت امریکی دلجوئی کیلئے مملکت کو تختہِ مشق بنانے میں کبھی نہ ہچکچائی امریکہ کی طاقت پاکستان کے سیاسی بحرانوں میں پنہاں ہے۔ سیاسی بحران کی کوکھ سے اقتصادی بحران اور دیگر مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ ہر گز حیران کن نہیں تھا جب عمران خان کے وزیر تجارت رزاق داؤد نے پلک جھپکتے بیان دے ڈالا کہ ’’سی پیک کو دو سال کیلئے بند کیا جا رہا ہے‘‘، یہی امریکہ چاہتا تھا۔ اس سے پہلے سی پیک منصوبوں کیخلاف میڈیا پر اور تقریروں میں عمران خان اور دوسرے در پردہ امریکی ایجنٹ اس کیخلاف معاندانہ پروپیگنڈہ کرتے رہے۔ سی پیک میں کرپشن کے بے بنیاد الزامات لگائے۔ چینی حکومت کو رُسوا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ چین کو پاکستان سے دور کرنے کیلئے تن من دھن خرچ ہوئے ۔ سی پیک منصوبوں کا خفیہ رکھنا بھی معاہدے کا حصہ تھا مگر عمران حکومت قائم ہوتے ہی اسد عمر نے معاہدوں کی تفصیل امریکہ اور IMF کو دے ڈالی۔ حفیظ الله نیازی کہتے ہیں کہ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ سیاسی خلفشار کی موجودگی میں عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو استقبال میں IMF اور FATF ہی نصیب بننا تھے۔ چین کی پاکستان سے مایوسی بنتی تھی۔ پاکستان سے مایوس ہو کر چین اپنا کھربوں کا سرمایہ ایران لے گیا ۔ تین سال بعد یعنی مارچ 2021 میں چینی وزیرخارجہ نے اپنے دورہ ایران پر 400 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری کےمنصوبوں پر دستخط کئے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا طنزیہ تبصرہ گھائل کر گیا ’’ایران کسی کے ڈر یا خوشامد میں چین کو کبھی دھوکہ نہیں دے گا ‘‘ ۔ احسن اقبال کو کریڈٹ جاتا ہے کہ سی پیک کے دوسرے دور کاآغاز انہی کی قیادت میں اُسی کروفر سے ہوا ہے جہاں سے سلسلہ منقطع ہوا تھا۔ یقیناً سی پیک پر کام دوبارہ شروع کرنے کیلئے سیاسی استحکام کی ضمانت دی گئی ہو گی ۔پہلی دفعہ حکومت اور عسکری قیادت چین کیساتھ تعلقات پر دلجمعی سے ایک صفحہ پر ہیں۔ان شااللہ! اگلے چند مہینوں میں پاکستان کے تمام سیاسی قضیے حل ہونے کو ہیں۔ اگرچہ دہشتگردی ، قتل و غارت اور پروپیگنڈہ سر اُٹھائے گا مگر یقیناً ان سے نبٹ لیا جائے گا۔ آنیوالے چندمہینوں میں ہرچند امریکی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا ۔ اِن شااللہ پاکستان استحکام خوشحالی
کیا الیکشن کمیشن PTIپر پابندی لگانے والا ہے؟
اور امن کا گہوارہ بن کر رہے گا ، اگر ایساہوا تو فتح چین کی ہوگی۔
