کیا اب سپریم کورٹ لقمہ اجل بننے والی ہے؟

نیازی نے کہا ہے کہ ماورائے آئین اقدامات کیلئے راہ ہموار ہوچکی ہے۔ ۔پہلے مرحلے میں سپریم کورٹ ، پارلیمان اور حکومت ترنوالہ بنیں گے۔ سپریم کورٹ کا اپنا لقمہ اجل بننا مقدر بنے گا ۔ وطنِ عزیز گمبھیر سیاسی اور اداراتی بحران کی زد میں ہے ، آئین پاکستان اپنے اپنے مخصوص مفادات کیلئے استعمال ہو رہا ہے اور مملکت انارکی کی زد میں ہے۔ اپنے ایک کالم میں حفیظ الله نیازی لکھتے ہیں کہ پچھلے چند دنوں میں تین اہم واقعات ہوۓ ، قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریویو پٹیشن پر فیصلہ محفوظ ہو ا ، 14 مئی کے انتخابات پر حکومتی افسران کی طلبی اور سب سے بڑھ کر سپریم کورٹ کے انتظامی امور پر بل جو ابھی نافذ العمل ہی نہیں ہوا اُس پر 8 رُکنی بینچ کی تشکیل، اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دُعا ہے کہ تینوں معاملات میں چیف جسٹس سرخرو رہیں تاکہ ہونی جلدی ہوکر رہے۔ سپریم کورٹ کے اندر دھینگا مُشتی، مقننہ اور ایگزیکٹو سے ٹکراوپر توہینِ عدالت اور پارلیمان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم بربادی کو تیز کرے گا۔ ماورائے آئین اقدامات کیلئے راہ ہموار ہوچکی ہے۔ پاکستان میں طاقت کا آزمودہ سرچشمہ بذریعہ توپ و تفنگ نکلتا ہے ، اگرکوئی غلط فہمی تو ماضی میں جھانکیں. حفیظ الله نیازی کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے سپریم کورٹ کی مدد سے وطنی افراط و تفریط اور تصادم کو پروان چڑھایا۔ آج حصول انصاف سے الیکشن تک سب عمرانی پُر تشدد جتھوں کی زد میں ہیں۔ اداروںکی ساکھ متاثر اور متنازع ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے انتظامی معاملات پر ترمیمی بل کہ انتظامی اختیارات میں توازن آئے ، وجہ نزاع بن گیا ہے۔ کیا مذاق چیف جسٹس نے اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے پسندیدہ ججوں کا 8 رُکنی بینچ تشکیل دے ڈالا۔مفادات کے ٹکراؤ پر ہچکچائے نہ شرمائے شاید خاموش پیغام دینا ان کا مقصد ہے۔ عمران خان مدت عدت میں شادی سے لیکر لڑو مرو، جھوٹ، مبالغہ اور یوٹرن سب کچھ بروئے کار لائے۔ وزیر اعظم بننے، وزیراعظم کی پوزیشن برقرار رکھنے اور دوبارہ وزیراعظم بننے کیلئے شعائر، اقدار، اُصول ضابطے سب پامال رکھے۔ برملا اعتراف گناہ کیا۔ موصوف اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے سے نہ ہچکچائے۔ خان صاحب کی خوش قسمتی ہے کہ جھوٹ ، یوٹرن ، اقدار کی پامالی پر ان کی عزت و وقار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ۔پچھلے ایک سال میں مقبولیت میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی ۔ حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ہوسِ اقتدار ، مفادات اور نالائقی نے عمران خان کو اندھا ، مجبوراور بے بس بنائے رکھا۔ عمران خان وقتی فائدے کیلئے جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی حمایت و خوشامد میں ہر حد ٹاپ گئے۔ ملک کی شکست و ریخت اور گراوٹ کا سفرپوری شدومد سے ساتھ ساتھ جاری رہا۔سی پیک منصوبہ کے غیر فعال ہونے کے بعد ، پاکستان کو معاشی طور پر برباد کرنے کا عملی مظاہرہ ایسے وقت میں ہی توشروع ہوا۔ 2021 سے عمران خا ن کیخلاف اسٹیبلشمنٹ فیصلہ کر چُکی تھی کہ اگر’’ ملک بچانا ہے تو عمران خان سے جان چھڑوانا ہو گی‘‘۔

عمران خان کو وزیراعظم بنے ابھی 4 ہفتے گزرے تھے کہ آنے والے تباہ کُن حالات نے مجھے پریشان کر دیا۔ عمران خان کے قریبی ساتھی نعیم الحق(مرحوم سے فون پر وقت طے ہوا،اسلام آبادپہنچ کر عرض کی کہ’’عمران خان کو جائز ناجائز اقتدار مل چُکا ہے۔اس سے پہلے کہ ہاتھوں سے کھسک جائے، نوازشریف، زرداری اور فضل الرحمان سے معاملہ فہمی کرنا ہوگی۔ سیاسی جماعتیں ہی عمران خان کی سیاست کا حفاظتی پشتہ بنیں گی‘‘۔نعیم الحق تقریباً متفق ہو گئے مگر شاید عمران خان تک بات پہنچانے سے قاصر رہے ۔ حفیظ الله نیازی بتاتے ہیں کہ جنوری 2019 میں سیف اللہ نیازی کی عزت کچھ بحال ہوئی انہیں پلک جھپکتے چیف آرگنائزر بھی بنا دیا گیا ۔ می نے موقع غنیمت جانااور اسلام آباد پہنچا۔ سیف اللہ نیازی کو نعیم الحق سے ہونے والی گفتگو کا بتایا اور اپنی آمد کا مقصد دُہرایا کہ سیاسی جماعتوں سے معاملہ فہمی ضروری ہے ورنہ سب چُن چُن کر مار ڈالے جائیں گے۔ سیف اللہ نیازی کی سیاسی سمجھ بُوجھ تو عمران خان کا بھی آدھی ہے ، صلح کی بجائے جنگ وجدل میں دلچسپی رکھتا تھا۔ میری بات سُنی اَن سُنی کر دی۔ اقتدار کی غیر معمولی طلب نے عمران خان کو ذہنی مریض بنا دیا تھا۔ ہر ہتھکنڈا بروئے کار لانے پر مصر تھے۔

10 اپریل2022کی قیامت خیز رات کو عمران خان کی طرف سے مجھ سے رائے لی گئی کہ کیا کیا جائے؟ عرض کیا اسپیکر اسد قیصر کو ووٹ کروانے دیں۔ استعفیٰ نہ دیں اور اسمبلی فلور پر عمران خان تاریخی تقریر کر کے اکتوبر 2023 کا الیکشن پلان کریں۔ چند دنوں بعد میرے بیٹے حسان خان نے مجھ سے پوچھا کہ ’’ میرے ماموں کی سیاست کہاں کھڑی ہے؟‘‘ اسی میں نے بتا دیا کہ ’’پہلا رائونڈ جیت گیا ہے کہ اپنے نااہل، کرپٹ اور بد ترین دورحکومت سے توجہ ہٹوا کر‘‘ جھوٹے امریکی مراسلہ’’پر توجہ مبذول کروا دی ہے۔اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لے چُکا ہے‘‘۔ اس بیانیہ کا منفی منطقی نتیجہ ایک ہی کہ 6ماہ بعد اسٹیبلشمنٹ نہیں یا پھر عمران خان نہیں‘‘۔6ماہ تو نہیں البتہ 12 ماہ بعد آج مملکت ایسے موڑ پر ہے جہاں عمران خان بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ لڑائی اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چُکی ہے اور مملکت منہ کے بل اوندھی پڑی ہے۔ آخر میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان صاحب ! آپ نے آج تک ہر یوٹرن کے ذریعے اپنے مفادات کو پروان چڑھایا۔ پلیز ایک یوٹرن پاکستان بچانے کیلئے لے لیں۔ اِس یوٹرن سےآپکی مقبولیت میں تو شاید کچھ کمی آئے مگر آپ تاریخ کے صفحوں پراَنمٹ بڑا نام و مقام پائیں گے۔ اگر سیاسی جماعتیں فیِ الفور بلا تفریق مل کر نہیں بیٹھتیں تو پاکستان کے آنے والے کل کا اللہ ہی حافظ ہے۔

عائشہ عمرکو کئی سال گالم گلوچ کرنے والا شخص کون تھا؟

Back to top button