نیب کا تمام کرپٹ عمرانڈوز کیخلاف شکنجہ کسنے کا فیصلہ

قومی احتساب بیورونے 190 ملین پاؤنڈز کی غیر قانونی منتقلی کے حوالے سے کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سمیت 22 اہم سیاسی شخصیات کے خلاف تحقیقات تیز کر دی ہے۔پاکستان میں احتساب کے ادارے نیب نے 190 ملین پاؤنڈ کی غیر قانونی منتقلی کے سکینڈل میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے سابق وفاقی وزراء کے اثاثہ جات گاڑیوں کا ریکارڈ اور خرید و فروخت کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

قومی احتساب بیورو کی جانب سے تحریک انصاف دور کے سابق وفاقی وزرا، کابینہ ارکان کے نام گاڑیوں، پراپرٹی اور اکاؤنٹس سے متعلق ریکارڈ مانگ لیا گیا ہے۔قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے صوبوں کے سیکرٹریز ایکسائز کو اس ضمن میں مراسلے جاری کیے گئے ہیں۔احتساب بیورو نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید، سابق وزیر دفاع پرویز خٹک، سابق وزیر پانی و بجلی عمر ایوب، سابق وزیر ریونیو حماد اظہر، سابق وزیر مواصلات مراد سعید، سابق وزیر پلاننگ اسد عمر، سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری، سابق وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی، فیصل واوڈا، علی زیدی، خالد مقبول، شیریں مزاری اور فروغ نسیم سمیت دیگر کے نام پراپرٹی کی تفصیلات مانگی ہیں۔قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وفاقی وزرا اور کابینہ ممبران کے نام پر اور ٹرانسفر گاڑیوں کے ریکارڈ سے متعلق بھی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے کے مطابق 2018 سے اب تک سابق وفاقی وزرا نے جتنی گاڑیاں خریدی یا فروخت کی ہیں اس کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) برطانیہ سے پاکستان 190 ملین پاؤنڈز کی غیر قانونی منتقلی کے حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے۔نیب نے اس کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 9 مئی کو گرفتار بھی کیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے ان کی گرفتاری کے طریقہ کار کو خلاف قانون قرار دے کر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔  بعد ازاں عمران خان نے ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت بھی حاصل کی اور نیب کے کال اپ نوٹس کے جواب میں عمران خان نیب میں پیش ہو کر اپنا جواب بھی جمع کرا چکے ہیں۔

عمران خان کے علاوہ اسد عمر، فیصل واوڈا، فواد چودھری اور کچھ دیگر سابق وزراء بھی نیب میں پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں۔سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نیب میں اپنا تحریری جواب بھی جمع کروا رکھا ہے جس میں انھوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ 190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ کابینہ میں زیر بحث آنے سے پہلے اجلاس سے اٹھ کر جا چکے تھے۔ اس لیے ان کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس اس سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود ہے۔

خیال رہے کہ سال 2018 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی این سی اے نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے خاندان کے ساتھ 19 کروڑ پاؤنڈز مالیت کے تصفیے پر اتفاق کیا تھا۔این سی اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق تصفیے میں برطانیہ کی ایک جائیداد، 1 ہائیڈ پارک پلیس، لندن، شامل تھی جس کی مالیت تقریباً 5 کروڑ پاؤنڈ تھی اور تمام رقم ملک ریاض کے منجمد اکاؤنٹس میں آگئیں۔

اسی سال جب یہ پتا چلا تھا کہ ملک ریاض نے کراچی کے مضافات میں ضلع ملیر میں ہزاروں ایکڑ اراضی غیر قانونی طور پر حاصل کی تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کے عوض ملک ریاض کی رئیل اسٹیٹ کمپنی، بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ کی جانب سے 460 ارب روپے کے سیٹلمنٹ واجبات کی پیشکش قبول کر لی تھی۔این سی اے کے فیصلے کے چند گھنٹے بعد ملک ریاض نے ٹوئٹ کیا تھا کہ برآمد شدہ رقم، سپریم کورٹ کے 460 ارب روپے جرمانے کی ادائیگی میں جائیں گے۔بعد ازاں جب این سی اے نے 3 دسمبر کو اپنے فیصلے کا اعلان کیا تو یہ رقم حکومت پاکستان کے اکاؤنٹ کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹس میں منتقل کر دی گئی جبکہ اس وقت کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر نے دعویٰ کیا تھا کہ رقم براہ راست ریاست کے پاس آئے گی۔بعد میں اس ابہام کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے جواب دیا تھا کہ ’کیا سپریم کورٹ حکومت کا حصہ نہیں ہے؟ لہٰذا اگر پیسہ سپریم کورٹ میں جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پیسہ ریاست کے پاس آتا ہے‘۔ تاہم بعد ازاں انکشاف ہوا تھا کہ عمران خان نے ذاتی فائدے کے حصول کیلئے کابینہ کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے حکومت پاکستان کے اکاؤنٹس میں آنے والی رقم کو ملک ریاض کے جرمانے کی ادائیگی کیلئے سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا تھا جس سے ریاست پاکستان کو 190 ملین ڈالر کا نقصان جبکہ ملک ریاض کو فائدہ پہنچا تھا۔ جس کی اب نیب کی طرف سے

حکومت کا سپریم کورٹ کو غلطی سدھارنے کا موقع دینے کا فیصلہ

تحقیقات جاری ہیں۔

Back to top button