پاکستان میں ثقافتی ورثے کا تحفظ کتنا ضروری ہے؟

Pakistan Latest News in Urdu

پاکستان ثقافتی اور تاریخی مقامات سے بھرپور ملک ہے، لیکن ان میں زیادہ تر کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اب ملک کی بدتر معاشی اور سیاسی صورتحال میں انہیں مزید نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ان تاریخی مقامات کی فہرست میں ایک قدیم شہر ٹیکسلا بھی شامل ہے۔

ٹیکسلا کا قدیم شہر دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے درمیانی علاقے میں واقع ہے، سنسکرت میں یہ تکشاسلا اور مقامی طور پر تاکاسلہ کے نام سے جانا جاتا تھا، یونانیوں اور رومیوں نے اسے ٹیکسلا کہا۔ یہ شہر زمانہ قدیم کے تین اہم تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک بڑا تجارتی مرکز تھا، جنوبی ہند، مغربی اور وسطی ایشیائی تجارتی راستے یہیں پر ملتے تھے۔

یہ جگہ کبھی علم اور بُدھ مت کا اہم مرکز ہوا کرتی تھی، اسے 1980 میں یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا گیا تھا، آثار قدیمہ کے مقامی ماہر راجہ نور محمد نظامی نے بتایا کہ یہ تقریبا 1920 کے قریب آج سے 100 سال پہلے سر جان مارشل نے دریافت کی۔انھوں نے بتایا کہ چوٹی پر نمایاں نظر آنے والے آثار قدیمہ بالکل اپنی اصل حالت میں موجود ہیں جبکہ اس کے دوسری طرف کچھ آثار زیر زمین چلے گئے ہیں۔

راجہ نور محمد نے بتایا کہ جب اس مقام کو دریافت کیا گیا تو یہاں اس کی بنیادوں تک کھدائی کی گئی تھی اور ان آثار قدیمہ کی اہم خانقا اب بھی ٹیلے کے اندر موجود ہے۔

وادی ٹیکسلا سے ملنے والی بدھ مت کی عبادت گاہوں کی زیادہ تر باقیات پہلی صدی عیسوی سے پانچویں صدی عیسوی تک کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ دھرما راجیکا اسٹوپا تیسری صدی عیسوی کے دور کا ہے، جسے 1980ء میں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا، ان میں سے بہت سے تاریخی مقامات آج بھی حیران کن حد تک اچھی اور واضح حالت میں موجود ہیں۔

پاکستان ثقافتی اور تاریخی مقامات سے بھرپور ملک ہے، لیکن بدتر معاشی اور سیاسی صورتحال میں انہیں مزید نظرانداز کیا جا رہا ہے، راجہ نور محمد نے بتایا کہ گزشتہ تین سے چار سال کے دوران پاکستان میں حالات انتہائی مخدوش ہیں، آمدن کے ذرائع نہیں ہیں، یہاں بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں، پہلے تو اس علاقے میں کچھ نہ کچھ کام ہوتا رہتا تھا لیکن آج کل سیاسی بے یقینی کی وجہ سے معاملات بہت زیادہ اُلجھ گئے ہیں، کوئی اس طرف توجہ دینے کیلئے تیار ہی نہیں ہے۔

اس سے ایک بات یہ بھی عیاں ہوتی ہے کہ ثقافتی مقامات کا تحفظ حکومتی ایجنڈے میں شامل نہیں ہے، ماہرین کے مطابق آنے والے وقتوں کے لیے نوجوان نسل میں ان مقامات کے تحفظ کا شعور اُجاگر کرنا بہت

اتحادی جماعتوں کی مولانا کے سمدھی گورنر کیخلاف بغاوت ؟

ضروری ہو گیا ہے۔

Back to top button