پرویز خٹک کو KPمیں کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے؟

پرویز خٹک نے صوبے میں اپنا سیاسی اثرورسوخ دکھانے کیلئے جہاں صوبے بھر میں سیاسی جلسے کرنے کا اعلان کیا ہے وہیں دوسری طرف آمدہ انتخابات میں صوبے کی تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاہم دوسری جانب اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق پرویز خٹک نے پی ٹی آئی سے راہیں جدا کرکے اپنی الگ سیاسی جماعت تو بنا لی ہے مگر انہیں پی ٹی آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کو اپنی طرف لانے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ خاندانی تنازعے کی وجہ سے پرویز خٹک کی اپنی فیملی نے بھی پارٹی میں شمولیت سے انکار کردیا ہے جن میں ان کے چھوٹے بھائی اور سابق صوبائی وزیر لیاقت خٹک سرفہرست ہیں۔
خیال رہے کہ پرویز خٹک کے سابق وزیر لیاقت خٹک کے ساتھ اختلافات گذشتہ تین برسوں سے چلے آرہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی سے علیحدگی کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ دونوں بھائیوں میں اتحاد ہوجائے گا مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔
واضح رہے کہ پرویز خٹک نے وفاقی وزیر بننے کے بعد اپنے چھوٹے بھائی لیاقت خٹک کو خیبر پختونخوا کا وزیر آبپاشی بنوایا تھا۔ دونوں بھائیوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا مگر جب نوشہرہ میں سابق صوبائی وزیر میاں جمشید کی وفات کے بعد صوبائی نشست خالی ہوئی تو لیاقت خٹک نے اس سیٹ پر اپنے فرزند کو لانے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن پرویز خٹک نے اس کی مخالفت کردی، جس کے بعد ان دونوں بھائیوں میں کھل کر اختلافات سامنے آگئے۔ خاندانی اختلافات کے باعث لیاقت خٹک نے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی پھر کچھ عرصہ بعد اپنے بیٹے کے ہمراہ جمیعت علماء اسلام میں شامل ہوگئے۔
دوسری جانب سابق صوبائی وزیر لیاقت خٹک کے بیٹے احد خٹک نے بتایا کہ ان کو پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز سے شمولیت کی پیشکش کی گئی ہے مگر انہوں نےاس پیشکش کو رد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جمیعت علماء اسلام میں شامل ہیں اور اسی جماعت سے عام انتخابات لڑیں گے۔ احد خٹک کے مطابق ’پرویز خٹک نے مشکل وقت میں پی ٹی آئی کو چھوڑا ہے۔ یہ اقدام ان کے لیے سیاسی خودکشی ثابت ہوگی اب لوگ ان کو مسترد کرچکے ہیں۔‘انہوں نے دعوی کیا کہ آنے والے الیکشن میں وہ پرویز خٹک کو شکست دیں گے کیونکہ انہیں سابق ایم پی اے خلیق الزمان سمیت بیشتر بلدیاتی نمائندوں کی حمایت حاصل ہے۔احد خٹک کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک کے ساتھ نئی پارٹی میں جانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے کیونکہ لوگ اب حقیقت جان چکے ہیں۔
دوسری طرف نوشہرہ کے مقامی صحافی فضل نبی نے بتایا کہ ’دونوں بھائیوں کے درمیان سیاسی اختلافات عروج پر ہیں اور اس کی بڑی وجہ دونوں کے فرزندان احد خٹک اور اسحاق خٹک ہیں۔ پرویز خٹک نے اپنے حلقے کے لیے ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جس کی وجہ سے شاید لوگ ان کو ووٹ دیں مگر پی ٹی آئی کو چھوڑنے کے باعث ووٹرز میں غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کا فائدہ اس کے بھائی لیاقت خٹک کو ہوسکتا ہے۔‘
پرویز خٹک سے بھائی اور بھتیجے کے علاوہ خاندان کے دیگر افراد نے بھی منہ موڑ لیا ہے۔ پشاور کے سینیئر صحافی محمد فہیم نے بتایا کہ ’پرویز خٹک کے داماد سابق ایم این اے عمران خٹک نے نئی پارٹی میں شمولیت سے انکار کیا ہے۔ اسی لیے وہ واپس وطن نہیں آرہے، جبکہ ان کی بھابھی نفیسہ خٹک اور ایک اور رشتہ دار ساجدہ ذوالفقار نے بھی حمایت سے انکار کر دیا ہے۔ اس لئے لگتا ہے کہ پرویز خٹک کے لیے اپنے آبائی ضلع نوشہرہ سے بھی جیتنا مشکل ہوگا۔محمد فہیم کی رائے ہے کہ سابق صوبائی وزیر لیاقت خٹک کی پوزیشن اپنے حلقے میں مضبوط ہے جہاں سے ان کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پرویز خٹک کے کئی قریبی ساتھی بھی ان سے دور ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ 17 جولائی کو پشاور کے شادی ہال میں پرویز خٹک نے نئی جماعت پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کی بنیاد رکھی تھی جس میں خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلٰی محمود خان سمیت پاکستان تحریک انصاف کے
حکومت کی آخری ایام میں پھرتیاں، 2 روز میں 53 بل منظور
کئی رہنما شامل ہوئے تھے۔
