سپریم کورٹ نے گیلانی کو فوج کے کہنے پر کیسے نااہل کیا؟

2012 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر تب کے صدر آصف زرداری کے خلاف سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی بھی عدالتی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زیر قیادت تب کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پنگا پڑنے کے بعد سپریم کورٹ نے جون 2012 میں یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت پر چند سیکنڈ کی سزا سنائی تھی جس کے نتیجے میں وہ وزارت عظمیٰ سے نا اہل قرار دے دئیے گئے تھے۔ گیلانی کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ نے انھیں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر یہ سزا سنائی تھی۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اپنی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ بھولے نہیں اور آج بھی ان لمحات کا ذکر اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ انڈیپینڈنٹ اردو کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں یوسف رضا گیلانی نے اس دن کی یادوں پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ فیصلے کے وقت وہ کہاں تھے، ان کے تاثرات کیا تھے اور اہل خانہ نے اس حوالے سے کیا کہا۔ لیکن اس سے پہلے اس بات کا ذکر ہوجائے کہ یہ نا اہلی کیوں اور کیسے ہوئی تھی؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 19 جون 2012 کو تب کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دیا تھا۔ ملک کی تاریخ میں پہلے نا اہل ہونے والے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف یہ کیس تب شروع ہوا جب انہوں نے عدالتی حکم پر اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات پر دوبارہ کارروائی کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کا موقف اپنایا تھا۔

ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ میں محمد رضوان کی دھوں دار بیٹنگ

16 جنوری 2012 کو سپریم کورٹ نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں بنائے گئے سات رکنی بینچ نے این آر او عمل درآمد کیس میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں خود پیش ہونے کا حکم دیا اور 26 اپریل 2012 کو انہیں توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر ’عدالت کی برخاستگی تک قید کی سزا‘ سنائی گئی۔

چار مئی 2012 کو اس وقت کی سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے یہ رولنگ دے کر یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کو مسترد کر دیا کہ ’وزیراعظم پر عائد کی گئی فرد جرم کے تحت انہیں نا اہلی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔‘ دوسری جانب اسی ماہ مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے یوسف رضا گیلانی کی اہلیت سے متعلق سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر دیں۔ بالآخر چھ ماہ کی آئینی جنگ کے بعد سپریم کورٹ نے 19 جون 2012 کو سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دے دیا۔

اس فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب پایا اور چونکہ 26 اپریل کو دیے گئے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی، اس لیے ملکی آئین کے تحت یوسف رضا گیلانی 26 اپریل سے قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔ عدالت نے کہا کہ یلانی اسی تاریخ سے ملک کے وزیراعظم بھی نہیں رہیں گے اور یہ عہدہ اس دن سے خالی تصور کیا جائے گا۔ گیلانی نے خصوصی گفتگو میں ان واقعات کو یاد کرتے ہوئے بتایا: ’جب 26 اپریل کو یہ فیصلہ آیا تو میں اس وقت سپریم کورٹ میں تھا۔ سات رکنی بینچ نے ’اجلاس کے برخاست ہونے تک سزا‘ سنائی جو کہ چند سیکنڈز پر مشتمل تھی۔ یہ معاملہ عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کو ریفر کیا گیا۔ سپیکر نے ایک ماہ کا وقت لیا اور قانونی ماہرین سے مشاورت کی جسکے بعد تب کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ازخود نوٹس لیا اور مجھے نا اہل قرار دے دیا۔ میں نے یہ فیصلہ ایک منٹ کے اندر قبول کر لیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’سات رکنی بینچ نے سپیکر کی رولنگ کے باوجود مجھے نا اہل قرار دیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ملک میں دو قانون تھے۔‘

19 جون 2012 کو جب یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو اس وقت وہ ایوان صدر میں اپنی پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شریک تھے جہاں انہیں ان کے سٹاف نے آکر ان کے نا اہل ہونے سے متعلق فیصلے کا بتایا۔ گیلانی نے بتایا: ’جب فیصلہ آیا تو میں صدر زرداری کے ساتھ پارٹی کے اجلاس میں بیٹھا ہوا تھا، جہاں ہم پالیسی کا تعین کر رہے تھے اور نا اہل قرار دیے جانے کی صورت میں حکمت عملی پر مشاورت کر رہے تھے۔ اس دوران مجھے بتا دیا گیا کہ مجھے نا اہل قرار دے دیا گیا ہے۔‘ سابق وزیراعظم کے مطابق: ’میں نے صدر کو بتایا کہ انہیں ایک قرارداد پیش کرنی ہے جو سی ای سی کے تمام اراکین کو پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر پاکستان کو نیا وزیراعظم منتخب کرنے کے لیے اختیار دے۔ یہی میرا پہلا رد عمل تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ مجھے سی ای سی سے اجازت مل گئی۔ میرے فیصلے کے آٹھ منٹ بعد میرے پریزیڈنسی سے جھنڈے کے بغیر نکلنے کی بریکنگ نیوز چلی۔‘

یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ صدر آصف زرداری کا خیال تھا کہ انہیں نا اہلی کیس کو چیلنج کرنے کے لیے پہلے وکیل اعتزاز احسن سے مشاورت کر لینی چاہیے، اس کے بعد ہی پھر ہم اپنی رائے دیں گے۔ ہمارے پاس اپیل کا حق بھی تھا۔ لیکن میں نے کہا کہ اب بہت ہوگیا (Enough is Enough)۔ میں نوکری پیشہ نہیں ہوں۔ میں پاکستان کی تاریخ میں متفقہ طور پر منتخب وزیراعظم ہوں اور ملک کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک رہنے والا وزیراعظم ہوں۔ میں رسوا ہونے کا انتظار نہیں کروں گا۔ میں جا رہا ہوں۔ گیلانی نے بتایا کہ انہوں نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ نا اہلی کی خبر سن کے خاندان والوں کے تاثرات سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی باتوں کے عادی ہیں۔

انکے مطابق انکے خاندان کا خیال تھا کہ انہیں لطف اندوز ہونے کا موقع نہیں ملا۔ میڈیا کو بھی موقع نہیں ملا اور آپ نے ایک سیکنڈ میں وزارت عظمیٰ چھوڑ دی۔‘ انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان نے انہیں نیب کیس میں لاہور میں اپنے گھر سے گرفتار ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ انہوں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے۔ بقول یوسف رضا گیلانی: ’یہ وقت سیاسی خاندان دیکھتے رہتے ہیں۔ جب کوئلے کا کاروبار کریں گے تو ہاتھ تو کالے ہوں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ میں نے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا۔

Back to top button