اجازت ملنے کے باوجود مشرف کا واپسی سے انکار کیوں؟

پاکستانی عسکری قیادت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے باوجود سابق ملٹری ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے اہلخانہ نے انہیں پاکستان واپس نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے مشرف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فضائی سفر سے اجتناب کریں کیونکہ یہ انکے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت انہیں بوئنگ۔777 طیارے کو ایئر ایمبولینس میں منتقل کرکے فراہم کرنے کو تیار ہے، جس میں وہ تمام آلات اور سہولیات میسر ہوں گی جو پاکستان منتقل ہونے کے لیے ضروری ہے۔  لیکن ڈاکٹرز نے اس کے باوجود مشرف کو جہاز کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا یے۔

امریکی سازش کے جھوٹ کا جواب

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف وطن واپس جانا چاہتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی رائے آڑے آگئی ہے۔ چنانچہ مشرف کے خاندان کی جانب سے ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ وہ انکی وطن واپسی کے لیے سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے سرکاری اور غیر سرکاری پیغامات بھیجنے والوں کے مشکور ہیں۔ پرویز مشرف کے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کیے گئے پیغام میں ان کے خاندان نے کہا کہ ’پاکستان پرویز مشرف کا گھر ہے۔ تاہم ان کے اہلخانہ کو اہم طبی، قانونی اور حفاظتی چیلنجوں پر غور کرنا ہے۔ مشرف کے خاندان کے مطابق انکے علاج کے انتظامات اور ان کے لیے ضروری دوا پاکستان میں دستیاب نہیں۔

تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وطن واپسی کی صورت میں مشرف کے خاندان کو واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ قانون کے مطابق پاکستان پہنچنے پر انہیں عدالتی فیصلے کی روشنی میں بطور مجرم ہسپتال منتقل کر کے اسے سب جیل قرار دے دیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا تو مشرف کی موت حراست میں ہوتی لہذا ان کے خاندان نے انھیں وطن واپس نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان کی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ پرویز مشرف کی وطن واپسی پر اُن کو خوشی ہوگی۔  میجرجنرل بابرافتخار نے کہا تھا کہ ’‏پرویز مشرف کی واپسی کا فیصلہ ان کے خاندان اور ڈاکٹرز نے کرنا ہے۔‘ پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی گزشتہ دنوں ایک ٹویٹ کے ذریعے دیے گئے پیغام میں کہا تھا کہ ’میری پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں۔ نہیں چاہتا کہ اپنے  پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے، وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔‘ اپنے پیغام میں نواز شریف نے مزید کہا کہ ’ان کی صحت کے لیے اللّہ تعالی سے دعاگو ہوں۔‘  تاہم بےنظیر بھٹو کی صاحبزادی بختاور بھٹو نے کہا تھا کہ وہ ساری زندگی پرویز مشرف کو معاف نہیں کریں گے کیونکہ وہ ان کی والدہ کے قتل میں ملوث تھا۔

اس سےپہلے بھی مشرف کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے اُن کے اہلخانہ کی جانب سے پیغام جاری کیا گیا تھا کہ وہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران طبی پیچیدگیوں کے باعث ہسپتال میں زیرِعلاج رہے۔ بیان کے مطابق ’پرویز مشرف مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں اور ان کے اعضا درست کام نہیں کر رہے۔‘ بیان کے آخر میں سابق صدر کی آسانی کی دُعا کے لیے کہا گیا تھا۔ خیال رہے کہ پرویز مشرف کافی عرصے سے علیل ہیں اور دبئی میں قیام پذیر ہونے کے دوران وہاں کے مقامی ہسپتال میں زیرِعلاج رہے ہیں۔ یاد رہے کہ مشرف جس بیماری میں مبتلا ہیں وہ لاعلاج ہے اور ان کے بچنے کا کوئی امکان نہیں۔

Back to top button