کیا تحریک انصاف کی انتخابی مہم ریاست خود چلا رہی ہے ؟

اسٹیبلشمنٹ اس وقت سیاہ و سفید کی مالک ھے ، ریاستی امور کُلی طور اسکے رحم و کرم پرہیں۔ یہ عمران سے نبٹنے کیلئے درجنوں ہنر آزماچکی مگر اس کی انواع واقسام کی تدابیر بیکار گئیں یا الٹی پڑیں اور عمران کی سیاست کو جلا بخشتی رہیں ۔اسکے ماننے چاہنے والوں کو حیرت انگیزطور پر مستحکم کیا اور اداروں کیخلاف نفرت اور غصہ کو فروغ دیا ۔ وطن دشمن بونس میں اس صورت حال سے فائدہ اٹھا رھے ہیں تحریک انصاف اس لحاظ سے خوش قسمت ھے کہ اسکی انتخابی مہم ریاست خود چلا رہی ہے۔ ریاست کی احمقانہ حکمت عملی کو انصافی سوشل میڈیا نے چار چاند لگا رکھے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کار حفیظ اللّہ خان نیازی نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ وطن عزیز ایک بدترین دور سے گزر رہا ہے، بد اعتمادی و بے اعتباری کا راج ہے۔ مایوسی ناامیدی چار سُوپھیلی ہے۔ ریاست بنفس نفیس آئین وقانون کی دھجیاں اڑانے میں مصروف ہے۔ حکمراں دلجمعی اور یکسوئی سے ماؤرائے آئین و قانون حکومت چلا رہے ہیں، یہ صورتحال، ریاست کو بھیانک انجام سے دوچار رکھنے کیلئے ایک جامع منصوبہ ہے۔ الیکشن کی سرگرمی سر پر ھے مگر پاکستان کی سیاست دسمبر / جنوری کی ماند یخ بستہ ھے سیاسی جماعتیں زبردستی متحرک نظر آنے کیلئے مقدور بھر کوشش میں ہیں اور سیاسی ماحول الیکشن کی گہما گہمی سے مطابقت نہیں رکھتا۔
حفیظ اللّہ نیازی کے مطابق تین بڑی جماعتوں میں پیپلز پارٹی بہرحال عوام کیساتھ رابطوں میں زیادہ متحرک ہے۔ کم و بیش تمام سیاسی جماعتیں سیاسی مہم چلانے کی بجائے تقریروں، بیانات اور میڈیا میں فروعی بحثوں میں الجھی ہیں۔ تحریک انصاف اس لحاظ سے خوش قسمت کہ اسکی انتخابی مہم ریاست خود چلا رہی ہے۔ ریاست کی احمقانہ حکمت عملی کو انصافی سوشل میڈیا نے چار چاند لگا رکھے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کو ہے شاید’’اللہ ‘‘ پر بھروسہ، جسے’’اللہ‘‘ رکھے تو اس کو بھلا کون چکھے۔ ن لیگ اسی خوش فہمی یا ’’بد گمانی‘‘ میں، ہفتوں سے امیدواروں کی فہرستیں ترتیب دینے میں مصروف ہے اور شاید اگلے چند ہفتے بھی مزید اسی میں خرچ کرنا پڑیں۔ ن لیگ نے عوامی رابطہ اور میڈیا ہینڈلنگ تب تک کیلئے ’’سوکھنا‘‘ ڈال رکھا ہے۔
حفیظ اللّہ نیازی کہتے ہیں کہ ریاستی سطح پر الیکشن کے انعقاد کے بارے میں شکوک شبہات پھیلانے کی ایک منظم مہم روبہ عمل ہے ۔ ملک میں بے موقع کی بحث جاری ہے کہ الیکشن ہوپائیں گے یا نہیں ؟ کنفیوژن نے اعصاب شَل کر رکھے ہیں۔ بظاہر الیکشن کو یقینی بنانے میں ریاستی اقدامات میں حتمی سنجیدگی اور جوش و خروش بھی ناپید ہے ۔ علاوہ ازیں ، اسٹیبلشمنٹ اس وقت سیاہ و سپید کی مالک ھے ، ریاستی امور کُلی طور اسکے رحم و کرم پرہیں۔ بے نظیر بھٹو کی برسی پر بلاول نے پیپلز پارٹی کا انتخابی منشور کیا دیا ، مسلم لیگ ن میں’’تھر تھلی ‘‘ مچ گئی ۔ ہائے ! ایسی سیاسی فہم و فراست اور تدبر پر’’رشک‘‘آتا ہے ۔پچھلی دفعہ جب 17 جولائی 2018کو ن لیگ نے اپنا منشور دیا تھا تو مقصد منشور سے زیادہ نواز شریف کے بیانیہ سے چھٹکارا حاصل کرنا تھا ۔ ملفوف’’خدمت کو ووٹ دو‘‘ کے ذریعے جنرل باجوہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش تھی ۔بھٹو صاحب کا روٹی کپڑا مکان یا شہباز شریف کا چھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ یا عمران خان کی 1کروڑ نوکریاں، 50لاکھ گھر! پہلے سال ہی 8000 ارب ٹیکس اکٹھا کرنا، سب کچھ خانہ پُری کیلئے ضروری ہے۔ کوئی ایک بھی لیڈر ایسا نہیں جو اپنے بلند بانگ دعوئوں کے قریب بھٹک پایا ہو وعدے پورے نہ کرنا کسی کی سیاست کا کچھ بگاڑ نہیں پایا۔ مگر سیاسی جماعتوں میں مقابلہ منشور جاری ہے جبکہ تحریک انصاف کا’’مفتا‘‘لگ گیا ہے کہ اسکو منشور والا ٹوپی ڈرامہ نہیں کرنا پڑ رہا ۔
حفیظ اللّہ نیازی کہتے ہیں کہ سب سیاسی رہنماؤں کی مقبولیت میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ مشترک تھا ۔ جبکہ سب کی غیر مقبولیت کی وجہ ایک ہی رھی پرویز الہیٰ سے لیکر عمران خان تا نواز شریف جو بھی مقتدرہ کے قریب ہوا اور اس کا اسٹیبلشمنٹ کے مہرہ کا تاثر عام ہوا ،مقبولیت اس سے کوسوں دور بھاگ گئی ۔ عوام کے نزدیک اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے پر سات خون معاف رھے ، کوئی حربہ ، کوئی الزام کا رگر نہیں رہتا ، ایسے ہی جیسے 2014ءسے 2021ءتک نوازشریف پر کونسا ظلم جو نہ ڈھایا گیا ۔ اب بھی خاطر جمع رکھیں منشور میں کچھ نہیں رکھا ۔ عوام نے نہ سیاست دانوں کے وعدوں کو خاطر میں لانا ہے نہ انہوں نے پورے کرنے ہیں۔ سب کچھ بیانیہ میں ہی رکھا ہے کہ بیانیہ ہی چلتا ہے ۔ اگر 8 فروری کا الیکشن ہو پاتا ہے اور تحریک انصاف دامے درمے سخنے موجود رہی تو صورتحال کچھ یوں رہے گی کہ ساری سیاسی جماعتوں کے پاس منشور ہوگا مگر وہ بیانیے سے تہی دامن ہوں گی۔ جبکہ عمران خان کے پاس صرف اور صرف بیانیہ ہو گا۔ سیاست اور مقبولیت عمران خان کے قبضے میں اور حکومت اور قبولیت

الیکشن بارے بڑی سیاسی جماعتیں پریشانی کا شکار کیوں؟

مسلم لیگ کے پاس ھے۔

Related Articles

Back to top button