ٹوئیٹر پاکستان میں سیاسی انتشار کی وجہ کیسے؟

پاکستان میں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کی مقبولیت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا، اس وقت 21 کروڑ 70 لاکھ پاکستانیوں کے سوشل میڈیا پر اکائونٹس موجود ہیں، اسی لیے سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مقبول جماعت کی جانب سے احتجاج اور توڑ پھوڑ کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کو پانچ روز کیلئے بند کر دیا گیا تھا۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے مطابق اس سال جنوری تک مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستانیوں کے 21 کروڑ 70 لاکھ پروفائل موجود ہیں جن میں سے سات کروڑ 10 لاکھ لوگ متحرک صارفین ہیں، یوٹیوب سات کروڑ 70 لاکھ صارفین کے ساتھ پہلے، فیس بک پانچ کروڑ 75 لاکھ کے ساتھ دوسرے اور سنیک وڈیو دو کروڑ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
ورلڈ فریڈم انڈیکس کے مطابق آزادی اظہارِ رائے کے حوالے سے پاکستان دنیا کے 180 ممالک میں 157 نمبر پر ہے۔دنیا کی 58.4 فیصد آبادی یعنی چار ارب 62 کروڑ لوگ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں۔ٹوئٹر کے مطابق اس کے پاکستان میں صارفین کی تعداد 34 لاکھ ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں ٹوئٹر کے ٹاپ ٹین اکاؤنٹس کو دیکھیں جن کی فالوونگ سب سے زیادہ ہے تو ایک قطعی مختلف صورت حال سامنے آتی ہے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان اس فہرست میں سب سے آگے ہیں جن کے فالوورز کی تعداد ایک کروڑ 92 لاکھ ہے۔
دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی کے اسد عمر ہیں جو دو دن پہلے ہی جماعت کے سیکریٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی ہوئے ہیں۔ ان کے فالوورز کی تعداد 94 لاکھ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف 88 لاکھ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
مریم نواز 80 لاکھ کے ساتھ پانچویں، شیخ رشید احمد 78 لاکھ کے ساتھ چھٹے اور وزیر اعظم شہباز شریف 66 لاکھ کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہیں۔
انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے آٹھ کروڑ 80 لاکھ فالوورز ہیں، جبکہ انڈیا میں ٹوئٹر کے کل صارفین دو کروڑ 45 لاکھ ہیں۔ یہاں بھی مودی کے کل فالوورز کی تعداد انڈیا کے کل ٹوئٹر صارفین سے تقریباً تین گنا زائد ہے۔ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کے فالوورز کی تعداد 14 کروڑ 80 لاکھ ہے۔ انڈپینڈںٹ اردو کے سوشل میڈیا ایڈیٹر ثاقب تنویر کے مطابق امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کا انتخابات کے نتائج یا ووٹرز پر کچھ خاص اثر نہیں پڑا ’اور یہ بات حالیہ کچھ عرصوں میں کی گئی تحقیق سے واضح ہے۔
ایف بی آئی سے وابستہ ایک سینئر اہلکار ڈان وڈز جو سائبر سکیورٹی کے ماہر ہیں، انہوں نے گزشتہ سال لکھا تھا کہ ٹوئٹر کے 80 فیصد اکاؤنٹس یا تو جعلی ہیں یا مشینی ہیں جنہیں روبوٹس چلا رہے ہیں۔ آپ پیسے دے کر اپنے فالوورز، لائکس اور ری ٹویٹس بڑھا سکتے ہیں۔تاہم اس کے جواب میں ٹوئٹر کے مالک ایلن مسک نے کہا کہ یہ اکاؤنٹس پانچ فیصد سے زیادہ نہیں ہیں۔
باسط علوی آئی ٹی کمپنی برین نیٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس انہوں نے 1986 میں بنایا تھا۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ کمرشل ازم کی دنیا ہے اور ’کی بورڈز واریئرز‘ کا زمانہ ہے جسے ہمارے اداروں نے ’ففتھ جنریشن وار‘ کا نام دیا تھا۔
ٹوئٹر کا ہید کوارٹر سان فرانسسکو میں ہے وہاں ہر ملک اور شہر کا جو مواد ٹوئٹر پر اپ لوڈ ہو رہا ہے اس کا ایک ایلگوردم بن رہا ہے۔ اس میں سے کس چیز کو کس وقت آگے لے کر جانا ہے اور کس کو پیچھے رکھنا ہے کس کا ٹرینڈ بنانا ہے یہ سب وہ ایلگوردم طے کرتے ہیں۔ان ایلگوردمز کو کوئی سمت بھی دی جا سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کے مطابق کوئی بھی غلط خبر کسی بھی جگہ آگ لگا سکتی ہے۔
حسن شبیر جوکو سائبر سکیورٹی کے ماہر اور ڈیٹا انالسٹ ہیں۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ امریکہ میں ایک کمپنی کیمبرج اینالیٹیکا ہے جو 2018 میں بند کر دی گئی تھی۔ اسی کمپنی نے سابق امریکی صدر ٹرمپ کے لیے سوشل میڈیا پر مہم چلائی اور حالات کو ان کے حق میں بدل دیا۔
عامر جہانگیر ’مشعل پاکستان‘ کے سی ای او ہیں جو ورلڈ اکنامک فورم کی پاکستان میں نمائندہ تنظیم ہے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ٹوئٹر پر فیک نیوز کا ٹرینڈ بہت زیادہ ہے جس کے مقابلے میں وہاں بلیو ٹک اکاؤنٹس متعارف کروائے گئے تھے تاکہ لوگ کسی بھی خبر کی تصدیق کے لیے ان اکاؤنٹس پر جا سکیں جو تصدیق شدہ ہیں، لیکن اب ٹوئٹر نے بلیو ٹک کو رقم کی ادائیگی سے مشروط کر دیا ہے، گویا کوئی بھی شخص بلیو ٹک خرید کر غلط انفارمیشن پھیلا سکتا ہے اس کے بعد سے ٹوئٹر کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آپ نے حالیہ بحران میں دیکھا کہ کیسے سوشل میڈیا پر پہلے ایک بیانیہ بنایا گیا اور پھر اس کے ذریعے پورے ملک میں آگ لگا دی گئی، بدقسمتی یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آپ اپنے جھوٹ کو سچ ثابت کر سکتے ہیں اور دوسروں کے سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کر سکتے ہیں۔ یہ کام اب اتنے بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے کہ سچ کو کشید کرنا بہت مشکل کام بن گیا ہے۔
