پاک بھارت تباہ کن جنگ کے خدشات سر کیوں اٹھانے لگے؟

جنوبی ایشیا ایک بار پھر خطرناک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کسی بھی وقت بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ امریکا میں قائم بین الاقوامی سلامتی سے متعلق تھنک ٹینک اسٹمسن کی سینئر محقق اور جنوبی ایشیا پروگرام کی ڈائریکٹر الیزابتھ تھرلکلڈنے امریکی جریدےفارن افئیرمیں اپنے تفصیلی مضمون میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان معمولی چنگاری بھی ایک تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
اپنے تجزیے میں الیزابتھ تھرلکلڈ نے مئی 2025 کے چار روزہ پاک بھارت عسکری تصادم کو ایک ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ محض ایک وقتی بحران نہیں تھا بلکہ اس نے خطے کے سکیورٹی ڈھانچے کو ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ دور میں داخل کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب دونوں ممالک روایتی جنگ کو ایٹمی حد سے نیچے رکھتے ہوئے بھی اس کی شدت اور وسعت بڑھانے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق مستقبل کی جنگیں روایتی نہیں ہوں گی بلکہ ان میں جدید ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ڈرونز، بیلسٹک میزائل، سائبر حملے اور بحری محاذ جیسے عناصر جنگ کو تیز تر اور غیر متوقع بنا دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ غلط معلومات اور سوشل میڈیا کی یلغار فیصلوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اگر پاک بھارت کشیدگی بڑھی تو یہ صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہے گی۔ چین اور امریکا جیسی بڑی طاقتیں بھی اس میں بالواسطہ یا براہ راست شامل ہو سکتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے دعوے، بھارت کی دوطرفہ پالیسی اور پاکستان کے سخت ردعمل نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق سب سے بڑا خدشہ کسی دانستہ جنگ کا نہیں بلکہ “غلط اندازے” یعنی مس کیکولیشن کا ہے۔ تیز رفتار فیصلے، بڑھتا ہوا اعتماد اور خطرہ مول لینے کی پالیسی کسی بھی محدود جھڑپ کو مکمل جنگ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ایسی جنگ جو ایٹمی دہلیز تک جا پہنچے۔
رپورٹ میں ایک اہم اور حساس پہلو یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ مستقبل میں پانی جیسے وسائل کو بھی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔تھرلکلڈ کے مطابق اس تمام صورتحال میں سب سے تشویشناک پہلو سفارتکاری کا محدود ہونا ہے۔واشنگٹن سمیت عالمی طاقتوں کے لیے بھی اب کسی ممکنہ بحران کو روکنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق جنوبی ایشیا اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں جنگ کا خطرہ صرف سرحدی جھڑپوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک وسیع، تیز رفتار اور ممکنہ طور پر تباہ کن تصادم میں بدل سکتا ہے۔اگر فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو معمولی چنگاری بھی پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
