آبنائے ہرمز نہ کھل سکی، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جہاں آبنائے ہرمز جیسے نہایت اہم سمندری راستے پر حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جہاز رانی بحال کرنے کی کوششیں فی الحال ناکام دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ ایران کے سخت ردعمل نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ ایران کی جانب سے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے اور متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب حملوں نے پورے خطے میں بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ بندرگاہوں پر آگ لگنے کے واقعات نے خطرے کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی حساس راستے کو کھولنے کے لیے امریکا نے بحری طاقت کا استعمال کیا، تاہم ایران نے اس اقدام کا سخت جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ ایران کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کے ذریعے اپنی عسکری طاقت کا اظہار کیا گیا، جس کے نتیجے میں فجیرہ بندرگاہ پر آگ لگنے، جنوبی کوریا کے جہاز میں دھماکے اور دیگر واقعات نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔

مبصرین کے مطابق یہ تنازع اب صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ پورا خطہ اس کے اثرات سے متاثر ہو رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور عمان میں حملوں اور زخمیوں کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں خام تیل کی قیمت بڑھ کر 115 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے۔

امریکا اور ایران کی جانب سے متضاد دعوے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی کشتیوں کو تباہ کیا اور کچھ جہازوں کو بحفاظت گزارا، جبکہ ایران ان دعوؤں کو مسترد کر رہا ہے۔ یہ ابہام کسی بھی وقت غلط فہمی کو جنم دے سکتا ہے، جو ایک بڑے تصادم کا باعث بن سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان نے ایک مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ ایرانی بحری جہاز کے عملے کی واپسی میں سہولت فراہم کرنا ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے، جو نہ صرف اعتماد سازی کی علامت ہے بلکہ خطے میں امن کے لیے جاری کوششوں کو بھی تقویت دیتا ہے۔ پاکستان کی یہ حکمت عملی ظاہر کرتی ہے کہ کشیدگی کے اس ماحول میں بھی سفارتکاری کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوششیں فی الحال ناکامی سے دوچار دکھائی دیتی ہیں۔ ایران کے سخت ردعمل، بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور ایک بڑے تصادم کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔

Back to top button