ترین گروپ کا اراکین کو ڈی سیٹ کرنیکا کا فیصلہ چیلنج کرنیکا فیصلہ

جہانگیرترین گروپ نے اپنے ارکین پنجاب اسمبلی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ڈی سیٹ کرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیاہے۔

سماٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے جہانگیرین کے ارکان نے اہم ملاقات کی۔

ملاقات میں رہنما ترین گروپ فیصل حیات جبوانہ کا کہنا تھا کہ ترین گروپ کے زیادہ اراکین آزاد حیثیت میں الیکشن جیت کرآئے تھے، ترين گروپ کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن کا فيصلہ يکطرفہ تھا،سپريم کورٹ کی رائے مختلف تھی۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے 20 مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار پرویز الہٰی کے بجائے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حمزہ شہباز کی حمایت میں ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کی صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی کے جنرل نشستوں پر منتخب ہونے والے 20 اراکین، خواتین کی مخصوص نشستوں پر 3 اور اقلیتی نشستوں پر براجمان 2 اراکین کی رکنیت ختم کردی ہے۔

ایم کیو ایم سے گورنر سندھ اور بی اے پی سے گورنربلوچستان کیلئے نام طلب

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ صغیر احمد، ملک غلام رسول سنگھا، سعید اکبر خان، محمد اجمل، عبدالعلیم خان، نذیر چوہان، محمد امین ذوالقرنین، نعمان لنگڑیال، محمد سلمان نعیم، زوار حسین وڑائچ، نذیر احمد خان، فدا حسین، زہرہ بتول، محمد طاہر، عائشہ نواز، ساجدہ یوسف، ہارون عمران گِل، عظمیٰ کاردار، ملک اسد علی، اعجاز مسیح، محمد سبطین رضا، محسن عطا خان کھوسہ، میاں خالد محمود، مہر محمد اسلم، فیصل حیات صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی گئی ہے۔

Related Articles

Back to top button