پی ٹی آئی کی میڈیا مہم عارف نقوی کے فنڈز سے چلی

تحریک انصاف کیخلاف فارن فنڈنگ کیس کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ سال 2013 کے عام انتخابات کے وقت پارٹی کی میڈیا مہم چلانے کے لئے لندن میں زیر حراست ابراج گروپ کے مالک عارف نقوی کی جانب سے فراہم کردہ بھاری رقوم کا استعمال کیا گیا، ایف آئی اے ذرائع کے مطابق انعام اکبر کی ملکیتی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کمیونیکیشن سپاٹ اور گروپ ایم نامی اشتہاری ایجنسیوں کو پی ٹی آئی کی انتخابی مہم چلانے کے لیے ایک فلاحی ادارے انصاف ٹرسٹ کے اکاؤنٹ سے بالترتیب 3 کروڑ 60 لاکھ روپے اور 2 کروڑ 50 لاکھ روپے ادا کیے گئے لیکن قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ ایک خیراتی ادارے کے اکاؤنٹ کو کسی سیاسی جماعت کی میڈیا مہم چلانے کے لیے استعمال کرنا واضح طور پر پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کیخلاف ورزی ہے جس پر سیاسی جماعت کالعدم قرار دی جا سکتی ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کی حاصل کردہ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ عمران خان کی جماعت کو 2013 میں 6 لاکھ 25 ہزار ڈالرز ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کے ذریعے منتقل کیے گئے، جو کہ ایک رجسٹرڈ آف شور فرم ہے اور عارف نقوی کی ملکیت ہے، عارف نقوی اس وقت لندن میں زیر حراست ہے اور ایک برطانوی عدالت انکی امریکہ حوالگی کا فیصلہ دے چکی ہے جس کے خلاف اپیل زیر سماعت یے، عارف نقوی کو امریکی عدالت میں ایک ارب ڈالرز مالیت کی رقوم کی دھوکا دہی کے الزامات کا سامنا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ 6 لاکھ 25 ہزار ڈالرز ووٹن سے براہ راست پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں آئے اور یہ پہلے موصول ہونے والے 21 لاکھ 20 ہزار ڈالرز کے علاوہ تھے، جنکا ذکر پارٹی کے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے 2 اگست کے فیصلے میں درج کیا گیا ہے۔

بی بی حکومت کیخلاف آپریشن مڈنائٹ جیکال کیسے بے نقاب ہوا؟

دستاویزات کے مطابق یہ رقم ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کے اکاؤنٹ سے ‘دی انصاف ٹرسٹ’ کے اکاؤنٹ میں بھیجی گئی تھی جسے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے قریبی دوست طارق شفیع نے ٹرسٹ کے پہلے چیئرمین کی حیثیت سے کھولا تھا۔ طارق شفیع نے اپنے ایک ذاتی اکاؤنٹ میں 5 لاکھ 75 ہزار ڈالرز بھی وصول کیے اور پی ٹی آئی کے اعلان کردہ اکاؤنٹ میں منتقل کر دیئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انصاف ٹرسٹ کے اعلان کردہ مقاصد معاشرے میں شراکتی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار اور سیاسی بیداری کے احساس کو فروغ دینے کے علاوہ صحت کی تعلیم اور سماجی نظم کو فروغ دینے کے لیے مختلف شکلوں میں سرگرمیاں شامل تھیں۔ ٹرسٹ ڈیڈ کی ایک شق میں درج تھا کہ ٹرسٹ، اس کے فنڈز یا جائیداد یا ٹرسٹ کے ساتھ ٹرسٹیز کی وابستگی کسی خاص شخص یا افراد کے گروپ کے ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی۔
ٹرسٹ کے بینک اکاؤنٹ کے دیگر دستخط کنندگان مرحوم عاشق حسین قریشی اور حامد زمان تھے، جو دونوں عمران خان کے قریبی دوست تھے اور اسے مئی 2012 میں حبیب بینک لمیٹڈ، لاہور کینٹ برانچ میں کھولا گیا تھا، دستاویزات میں انکشاف ہوا کہ 8 مئی 2013 کے عام انتخابات سے 3 روز قبل دو میڈیا مینجمنٹ فرموں، یعنی ‘کمیونیکیشن اسپاٹ’ اور ‘گروپ ایم’، کو پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کے لیے ٹرسٹ اکاؤنٹ سے بالترتیب 3 کروڑ 60 لاکھ روپے اور ڈھائی کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
لیکن یہ اکاؤنٹ صرف ایک ٹرانزیکشن کے لیے استعمال کیا گیا اور تب سے غیر فعال ہے، قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ ایک خیراتی ادارے کے اکاؤنٹ کو کسی سیاسی جماعت کی میڈیا مہم چلانے کے لیے استعمال کرنا واضح طور پر پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کیخلاف ورزی ہے جس پر سیاسی جماعت کالعدم قرار دی جا سکتی ہے، اس کے علاوہ اس کیس میں منی لانڈرنگ کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں، تیسری بات یہ کہ اس رقم کو دانستہ طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان سے پوشیدہ رکھا گیا۔
ایف آئی اے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ انصسف ٹرسٹ کا اکاؤنٹ کھولنے والے طارق شفیع اور دیگر کو تین بار کال اپ نوٹس جاری کیے گئے لیکن ان میں سے کوئی بھی سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کے لیے دو میڈیا مینجمنٹ کمپنیوں کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ‘گروپ ایم’ نے ایف آئی اے کے کال اپ نوٹس کے جواب میں تصدیق کی کہ اسے پی ٹی آئی کی 2013 کے عام انتخابات کی مہم چلانے کے لیے 41 کروڑ 20 لاکھ روپے کی پیشگی ادائیگی موصول ہوئی تھی، جس میں سے 37 کروڑ 50 لاکھ روپے استعمال کیے گئے اور باقی رقم ایک کراس چیک مورخہ 18 ستمبر 2013 کے ذریعے پارٹی کو واپس کر دی گئی۔ یہ رقم مختلف ٹی وی چینلز پر میڈیا اشتہارات پر خرچ کی گئی۔
اس ایڈورٹائزنگ ایجنسی نے ایف آئی اے کو بتایا ہے کہ اس نے ماضی میں مسلم لیگ (ن) سمیت دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی ایسی ہی خدمات فراہم کی ہیں۔ اپنے جواب میں کمپنی نے کہا کہ وہ اس فنڈز کے ذرائع سے آگاہ نہیں تھی جو انہوں نے میڈیا پر تحریک انصاف کی تشہیری مہم کے لیے خرچ کیے تھے، مختصر یہ کہ کمپنی کا پی ٹی آئی کے ساتھ پیشہ ورانہ تعلق تھا۔ ایف آئی اے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ رقم کی واپسی پی ٹی آئی کے حق میں کراس چیک کے ذریعے اس کے غیر اعلانیہ اکاؤنٹ میں کی گئی تھی، جس کا ٹائٹل ’’پی ٹی آئی – نیشنل کمپین آفس‘‘ تھا، جوکہ کے اے ایس بی بینک میں کھولا گیا تھا، اس بینک کا نیا نام اب بینک اسلامی پاکستان ہے۔ گروپ ایم نامی ایجنسی نے ایف آئی اے کو تحریری جواب میں بتایا ہے کہ اسے پی ٹی آئی سے ملنے والے 41 کروڑ 20 لاکھ روپے میں سے ایک بڑا حصہ، یعنی 38 کروڑ 30 لاکھ روپے کمپنی کو اس اکاؤنٹ سے ادا کیا گیا تھا جو کہ اب غیر فعال ہے جبکہ پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر کا اکاؤنٹ صرف 34 لاکھ 30 ہزار روپے دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔
تاہم انعام اکبر کی ملکیتی دوسری ایڈورٹائزنگ ایجنسی نے جواب جمع کرانے کے لیے کچھ اور وقت مانگا ہے۔ ادھر طارق شفیع پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرچکے ہیں جس نے ایف آئی اے کو اپنی انکوائری جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی تاہم ان کے خلاف کسی قسم کی منفی کارروائی سے روک دیا تھا۔ طارق شفیع نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ رقم مناسب بینکنگ چینلز کے ذریعے منتقل کی گئی۔

Back to top button