سہیل آفریدی بمقابلہ گنڈاپور،خیبرپختونخوا حکومت خطرے میں؟

پاکستان تحریک انصاف کے اپنے گڑھ خیبرپختونخوا میں اندرونی اختلافات اب پردوں کے پیچھے نہیں رہے بلکہ سیاسی منظر نامے پر کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 30 سے زائد اراکین اسمبلی کی عدم شرکت نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ حکمران جماعت کے اندر اختلافات ایک سنجیدہ سیاسی مسئلے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے آمنے سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بننے کی افواہوں میں شدت آ گئی ہے اور سہیل آفریدی کی خیبرپختونخوا حکومت کی بنیادیں لرزنا شروع ہو گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس کا مقصد بظاہر آئندہ بجٹ، حکومتی حکمت عملی اور عمران خان کی صحت سے متعلق معاملات پر اراکین کو اعتماد میں لینا تھا، لیکن اجلاس سے قبل اور بعد میں سامنے آنے والے واقعات نے پوری توجہ پارٹی کے اندر جاری کشمکش کی طرف مبذول کرا دی۔

اجلاس سے چند گھنٹے قبل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں ایک غیر معمولی اور سخت پیغام جاری کیا گیا۔ اس پیغام میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندر موجود ایک "جرنیل” نے بیرونی قوتوں کے ساتھ مل کر عمران خان کی حکومت گرانے کا وعدہ کیا ہے اور بعض عناصر پارلیمانی اجلاس کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا کی تمام اسٹیبلشمنٹ بھی اکٹھی ہو جائے تو عمران خان کی حکومت نہیں گرا سکتی۔

سیاسی حلقوں میں اصل ہلچل اس وقت پیدا ہوئی جب سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اسی گروپ میں کھل کر ردعمل دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی کوئی شخص عمران خان کے خلاف سازش کر رہا ہے تو اس کا نام کیوں نہیں لیا جا رہا؟ ان کا کہنا تھا کہ بے نام الزامات لگانا اور پارٹی رہنماؤں میں غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنا مناسب طرز سیاست نہیں۔علی امین گنڈاپور کے ردعمل نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا کہ پارٹی کے اندر اعتماد کا بحران پیدا ہو چکا ہے۔ اگرچہ کسی رہنما کا نام نہیں لیا گیا، تاہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ "اندرونی جرنیل”، "بیرونی جرنیل” اور "27 اراکین اسمبلی” جیسے الفاظ دراصل پارٹی کے اندر موجود مختلف دھڑوں کی جانب اشارہ ہیں۔

دوسری طرف حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ تمام اراکین وزیراعلیٰ کی قیادت پر متفق ہیں اور اجلاس میں شریک ہونے والے ارکان کی تعداد اتحاد کا واضح ثبوت ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر پارٹی مکمل طور پر متحد ہے تو پھر 30 سے زائد اراکین کی غیر موجودگی کو کس طرح نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو اس وقت اپوزیشن سے زیادہ چیلنج اپنے اندرونی اختلافات سے درپیش ہے۔ عمران خان کی غیر موجودگی میں پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان قیادت اور اثر و رسوخ کی کشمکش مزید نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معمول کا پارلیمانی اجلاس بھی طاقت کے مظاہرے اور سیاسی پیغامات کی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔اب نظریں آئندہ چند ہفتوں پر مرکوز ہیں۔ اگر پارٹی قیادت ان اختلافات کو جلد ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو یہ صورتحال نہ صرف صوبائی حکومت کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ مستقبل میں ایک مضبوط فارورڈ بلاک یا نئی سیاسی صف بندی کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔ فی الحال ایک بات واضح ہے کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے اندر سیاسی درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے اور آنے والے دن اس بحران کی اصل نوعیت کو بے نقاب کریں گے۔

Back to top button