ترجمان پاک فوج سیاسی معاملات کی تشریخ مت کریں

تحریک انصاف جنرل سیکرٹری اسد عمر نے کہا ہے کہ اگر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائر یکٹر جنرل(ڈی جی آئی ایس پی آر)سیاسی معاملات کی باربار تشریخ کرنا ضروری نہ سمجھیں تو یہ فوج اور سیاست دانوں دونوں کیلئے اچھا ہوگا۔
اپوزیشن لیڈر بننے کیلئے نورعالم خان اورراجہ ریاض کا میچ
اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنما شیری مزاری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا عسکری قیادت میں سے ایک صاحب نے ایک انٹرویو میں بات کی تھی کہ حقائق اور رائے کو الگ الگ کرکے دیکھنا چاہیے اور انہوں نے امریکا کی طرف سے دیے گئے دھمکی آمیز خط میں سے دو، چار جملے بھی پڑھے تھے،دھمکی آمیز خط میں پاکستان کو سیدھی طرح دھمکی دی گئی تھی کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوگئی اور عمران خان وزیر اعظم کے عہدے پر رہے تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا اور پاکستان کے لیے مشکلات ہوں گی، خط میں لکھا گیا تھا کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی تو سب کچھ معاف کردیا جائے گا۔
انکا کہنا تھاامریکا کے اس خط میں سیدھی دھمکی تھی کہ اگر اچھے بچے بنو گے تو سب کچھ معاف کردیا جائے گا اور اگر خود داری کی بات کرو گے تو مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا، یہ بات قومی سلامتی کمیٹی کے 2 بار ہونے والے اجلاس کے بعد جاری ہونے والی پریس ریلیز میں لکھی گئی ہے جس میں واضح طور پر ’بیرونی مداخلت‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ بیرونی مداخلت کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے کہایہ وہ سچ ہے جس پر کوئی دو رائے ہے ہی نہیں، ہمارا ماننا ہے کہ بیرونی مداخلت ہوئی کیوں کہ اگر اس سے پہلے کے اقدامات دیکھیں تو کس طرح غیر ملکی سفیر خصوصی طور پر ان اراکین سے ملاقاتیں کرتے رہے جنہوں نے بعد میں پارٹی سے وفاداریاں تبدیل کیں اور کس طرح سے پیسہ آتا رہا اور ان اراکین کا ضمیر خریدنے کے لیے بہایا گیا۔
سابق وفاقی وزیر نے کہاقومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے کہ وہ سازش کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے نہیں تھی اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) یہاں تک بھی درست کہتے ہیں کہ عسکری قیادت میں سے کچھ نے اس اجلاس میں کہا کہ ان کو کسی بھی بیرونی سازش کے شواہد نظر نہیں آئے، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں جو سویلین قیادت بیٹھی تھی اس کو یہ بات نظر آرہی تھی کہ بیرونی سازش ہوئی ہے جو کہ ایک رائے تھی۔
پی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹر ی اسدعمر نے کہاڈی جی آئی ایس پی آر بار بار سیاسی معاملات کی تشریح کرنا ضروری نہ سمجھیں تو یہ فوج کے لیے بھی اچھا ہوگا اور ملک کے لیے بھی اچھا ہوگا،عمران خان آئین و قانون پر عمل کرنے والے انسان ہیں اس لیے انہوں نے کوئی حکم جاری نہیں کیا کہ سب میری بات تسلیم کریں کہ بیرونی سازش ہوئی ہے اور ملوث لوگوں کو سزائیں دینا شروع کریں، مگر عمران خان وہ خط کابینہ میں لے کر آئے اور جوڈیشل کمیشن بنانے پر زور دیا گیا مگر حکومت ہی ختم ہوگئی۔
انکا کہناتھاابھی بھی ہماری یہی اپیل ہے کہ اس معاملے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جس کی کھلی سماعت ہو اور پورا پاکستان دیکھے کہ اس میں کون آکر کیا بات کر رہا ہے اور کیا شواہد سامنے رکھے جارہے ہیں، پھر اس بنیاد پر فیصلہ کیا جائے کہ واقعی میں بیرونی سازش تھی اور اگر سازش تھی تو اس میں کون ملوث تھا اور وہ تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں، یہ بات اس وزیر اعظم اور کابینہ نے کی جو ڈیڑھ کروڑ سے زائد ووٹ لے کر حکومت میں آئی جس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قومی سلامتی کا دفاع کرے کیوں کہ قومی سلامتی کا دفاع کرنا صرف فوج کا کام نہیں ہے بلکہ اولین ذمہ داری قوم کی منتخب قیادت کی بنتی ہے۔
اسد عمر نے کہا کابینہ میں جو تمام لوگ آتے ہیں وہ اس بات کا حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم پاکستان کے آئین، خودمختاری اور قومی سلامتی کا دفاع کریں گے،پاکستانی فوج کے سپریم کمانڈر صدر پاکستان ہوتے ہیں اور انہوں نے چیف جسٹس کو خط لکھا کہ آپ کو ایک کمیشن بنا کر ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے چاہئیں،عمران خان صرف یہ کہتے ہیں کہ قوم کا یہ حق ہے کہ حقیقت تک پہنچا جائے اور پاکستان تحریک انصاف کی چیئرمین کی حیثیت سے عمران خان چیف جسٹس کو پھر خط لکھیں گے جس میں وہ صدر پاکستان کی طرف سے لکھے گئے خط کا بھی ذکر کریں گے۔
