ٹیکس ریلیف کے بعد سولر سسٹم کتنا سستا ہونے والا ہے؟

پاکستان کی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے کئی آلات کے خام مال پر کسٹم ٹیکس کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے سے ملک میں سولر سسٹم کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا رجحان بڑھے گا اور ملک کو درپیش توانائی بحران کم کرنے میں مدد ملے گی۔یہ بھی توقع ہے کہ اس فیصلے سے متوسط طبقے کے افراد زیادہ سے زیادہ سولر سسٹم لگوا کر بجلی کے بھاری بلوں سے چھٹکارہ حاصل کر سکیں گے۔کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیے جانے والے آلات میں سولر پینلز، بیٹریز اور انورٹرز میں استعمال ہونے والا سامان شامل ہے۔شمسی توانائی کی صنعت سے وابستہ ماہرین نے اس اقدام کو ملک میں شمسی توانائی کی صنعت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا ہے لیکن اس کا فائدہ سولر پینل لگوانے والے عام افراد کو فوری طور پر پہنچنے کے امکانات نہیں ہیں۔

حکومتی ریلیف بارے گفتگو کرتے ہوئے سولر سسٹم کی تنصیب سے منسلک انجینیئر سہیل بدر کا کہنا ہے کہ متوسط طبقے کے ایک گھر کی بجلی کی ضروریات کو معیاری شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے کم سے کم اخراجات تقریباً 12 لاکھ روپے بنتے ہیں اور بجٹ میں دی جانے والی نئی سولر انرجی پالیسی سے ان اخراجات میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔انہوں نےمزیدبتایا کہ سولر انرجی آلات کے خام مال پر ختم کیے جانے والے انکم ٹیکس کا فوری اور براہ راست فائدہ فیکٹری مالکان کو ہو گا اور یہ پھر ان پر منحصر ہے کہ وہ ان آلات کی کتنی قیمت کم کر کے مارکیٹ میں بیچتے ہیں۔’بجٹ سے پہلے ایک سولر پینل تقریبا 52 ہزار روپے کا تھا، یہ اب بھی اتنے کا ہی ہے اور مستقبل میں بھی اس کی قیمت میں کمی کے کوئی آثار نہیں ہیں کیونکہ حکومت نے ٹیکس کی جو چھوٹ دی ہے وہ سولر پینل بنانے پر لاگو ہو گی اس کی مارکیٹ میں فروخت پر نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیکس چھوٹ کا مارکیٹ پر اثر اس لیے بھی کم پڑنے کا امکان ہے کیونکہ پاکستان میں سولر پینلز بہت کم بنتے ہیں۔‘

’حکومت کے اس اقدام کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ملک میں شمسی توانائی پیدا کرنے والی مصنوعات بنانے کو فروغ دینا چاہتی ہے۔‘سہیل بدر کہتے ہیں کہ ’اس وقت یہ مصنوعات بنانے والی پاکستان میں چند ایک ہی فیکٹریاں ہیں اور وہ اتنی بڑی تعداد میں مصنوعات نہیں بناتیں کہ ان کی لاگت کم ہونے کے ساتھ ہی مارکیٹ میں ان کی قیمت بھی کم ہو جائے۔‘سہیل بدر کہتے ہیں کہ یہ اقدام سولر انرجی مصنوعات بنانے والی فیکٹریاں لگانے کی حوصلہ افزائی کرے گا اور اس وقت آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ فیکٹریاں کب لگیں گی۔پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ظفر اقبال کے مطابق سولر پینلز کی موجودہ قیمت کا تعین سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کے بغیر کیا گیا تھا کیونکہ یہ ٹیکسز حکومت کی طرف سے پہلے ہی ختم کیے جا چکے تھے۔

’اب جو مراعات حکومت نے دی ہیں وہ مینوفیکچررز کی مدد کے لیے دی ہیں۔ اس کا فائدہ تو ہو گا لیکن اتنی جلدی نہیں ہو گا کیونکہ ابھی یہ قانون پاس کیا گیا ہے اور اب اس کے بعد جو بھی خام مال منگوائے گا اس پر نہ تو سیلز ٹیکس لگے گا نہ کسٹم ڈیوٹی لگے گی۔‘ان کا کہنا تھا کہ خام مال کی درآمد پر 28 فیصد تک فائدہ ہو گا لیکن یہ کارخانہ دار پر منحصر ہے کہ وہ یہ فائدہ کس حد تک عام گاہک تک پہنچاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے حکومت سے درخواست کی تھی کہ سولر سسٹم میں استعمال ہونے والے انورٹرز پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ کرے تاکہ اس کا فائدہ عام گاہک کو ہو سکے، لیکن یہ تجویز نہیں مانی گئی۔

تاہم عامر حسین، جو پاکستان میں سولر آلات بنانے والی چند فیکٹریز میں سے ایک کے چیف ایگزیکٹیو ہیں، کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں دی گئی اس چھوٹ سے ملک میں بننے والے سولر پینلز، بیٹریز اور انورٹرز کی قیمت بھی کم نہیں ہو گی۔‘انہوں نے بتایا کہ ’اس سے صرف اتنا فرق پڑے گا کہ یہ اشیا درآمدشدہ

معروف فلم ’’غدر‘‘ کے سیکوئیل ’’غدر 2‘‘ کی ریلیز کا اعلان

سولر پینلز اور دیگر آلات کی قیمت کے برابر آ جائیں گی۔

Back to top button