فوج اور حکومت کا عمران کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا فیصلہ

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے دعوی کیا ہے کہ عمران خان اور ان کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کے لیے حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا منصوبہ بنا لیا یے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ طے ہو گیا ہے کہ عمران خان کا 9 مئی کے حملوں پر ٹرائل کیا جائے گا اور سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اس فیصلے کو پارلیمنٹ کے ذریعے بے اثر کرنے کی کاروائی بھی ہنگامی بنیادوں پر شروع کر دی گئی ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور اس کے لیڈر جتنے بھی مقبول ہوں، انہیں قبول کرنے کی سوچ فی الحال کہیں نہیں پائی جا رہی، ججوں کی سوچ میں تبدیلی اور عوامی دبائو نے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو آمادہ کر دیا یے کہ انہیں پوری طاقت سے عمرانی فتنے کا قلع قمع کرنا ہو گا۔

اپنی تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائج کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت نے عمرانی فتنے سے نمٹنے کے لیے اخری حد تک جانے کا فیصلہ تو کیا ہے لیکن ابھی مارشل لا نہیں لگ رہا اور آئین کے اندر رہ کر ہی انصافیوں اور انکے حواری ’’سیاسی ججوں‘‘ سے موثر طور پر نمٹا جائے گا۔ سینیئر صحافی کے بقول اسٹیبلشمنٹ نے عمران کی معافی کی درخواست بھی سختی سے رد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے اگر اسے محفوظ راستہ دیا گیا تو وہ انتقام لے گا، اور ہم پر وار کرے گا۔ اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ عمران خان مکمل طور پر ناقابل اعتماد اور ناقابل اعتبار ہے۔ اسکے مطابق ہم خان کو عام آدمی سے ذیادہ جانتے ہیں۔ اگر عمران کو ذرہ برابر رعایت بھی ملی تو وہ فوج پر چڑھ دوڑے گا ،اسلئے نہ تو کسی قسم کا کوئی رسک لیا جائے گا اور نہ ہی اس سے کوئی کمپرومائز کیا جائے گا۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ دوسری جانب اسلام آباد میں عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مابین مذاکرات کے امکان کی خبر گرم ہے، لہذا سوال یہ پیدا ہوتا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس حوالے سے میری ایک حکومتی پیغام رسان سے بات چیت ہوئی تو میں نے سوال کیا کہ یہ کیا چکر چل رہا ہے، ایک جانب عمر ایوب خان نے جیل کے باہر کھڑے ہو کر جنرل کا نام لینے کے بجائے ان کے عظمتوں والے لقب ’’سپہ سالار‘‘ سے پکارا۔ دوسری جانب ہر لمحہ غصے میں رہنے والی ہم سب کی علیمہ باجی نے جیل سے باہر آ کر زیتون کی شاخ لہرائی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ہمیشہ سرخ جھنڈی دکھا کر چلتی ٹرین کو روکنے اور بحران کو بڑھانے والوں نے سبز جھنڈی کیوں دکھانا شروع کر دی؟ سہیل وڑائچ اپنے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ سنار کی جانب سے 100 وار کیے جانے کے بعد اب لوہار کی باری ہے جس کا ایک ہی وار کافی ہوگا۔ انکے مطابق اب خان صاحب کا معاملہ فوجی تحویل کی طرف جا رہا ہے، سپریم کورٹ کے ججوں کی تعطیلات ختم ہونے سے پہلے قیدی نمبر 804 کو حکومتی تحویل سے فوجی تحویل میں منتقل کیے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یعنی اگلے چند روز میں کچھ بہت بڑا ہونے والا ہے اور جو کچھ بھی ہونے والا ہے وہ جمہور کیلئے اچھا نہیں ہو گا۔ جمہوریت، آئین اور سویلینز کی بالادستی کو جھٹکا لگنے والا ہے، عدالتوں کے فیصلوں پر سوالیہ نشان لگانے کیلئے مکمل تیاری ہو چکی ہے۔ یعنی قومی منظر نامے پر کسی صلح صفائی کا کوئی امکان نہیں بلکہ ہر جانب لڑائی ہی لڑائی نظر اتی ہے۔

Back to top button