فیض حمید کیخلاف انکوائری کے نتائج سامنے نہ آ سکے

سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کیخلاف انکوائری میں کیا کیا ثبوت سامنے آئے،نتائج سامنے نہ آ سکے۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں فیض حمید کیخلاف میجر جنرل کی سربراہی میں انکوائری کیلئے میڈیاکو اپریل میں بتایاگیاتھا۔
فوجی ذرائع کے مطابق پاک فوج میں خود احتسابی کا شفاف نظام موجودہے اور سخت سزائیں بھی دی جاتی ہیں
رپورٹ کے مطابق2023میں ٹاٹ سٹی ہاؤسنگ سوساٹی کے مالک نے سپریم کورٹ سے رجوع کرکے الزام لگایا تھا کہ فیض حمید نے ریٹائرمنٹ سے قبل رہائش گاہ پر آئی ایس آئی کا چھاپہ مروایا اور قیمتی سامان بھی ساتھ لے گئے تھے۔
درخواست گزار نے کہا کہ آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے گھر سے سونا، ہیرے اور رقم سمیت قیمتی اشیا بھی ساتھ لے گئے ہیں۔فیض کے بھائی سردار نجف نے بھی بعد میں مسئلہ حل کرنے کیلئے ان سے رابطہ کیا تھا ۔جنرل فیض نے بعد میں ذاتی طور پر اس مسئلے کے حل کیلئے ان سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ چھینا گیا کچھ سامان واپس کیا جائیگا۔ تاہم 400 تولہ سونا اور نقدی نہیں ملے گی۔
آئی ایس آئی اہلکاروں پر 4کروڑ کی نقدی چھینے کاالزام لگایاتھا تھا
پی ٹی آئی نے 3نشستوں کے فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیدیا
عدالت عظمی نے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کیجانب سے عائد کئے گئے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔
