اسٹیٹ بینک کی نئی پالیسی نے کاریں اور بھی مہنگی کر دیں

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کاروں کے سپئیر پارٹس اوراسیسریز کی امپورٹ پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد آٹو اسمبلرز نے گاڑیوں کی ایڈوانس بکنگ بند کرتے ہوئے انکی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا ہے جس کے بعد صارفین کے لئے گاڑیاں خریدنا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے پابندی عائد ہونے کے بعد پاک سوزوکی موٹرز کمپنی لمیٹیڈ نے یکم جولائی سے تمام دو اورچار پہیوں کی گاڑیوں کی بکنگ عارضی طور پر بند کر دی ہے، کمپنی نے موٹر سائیکلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع نے بتایا کہ کمپنی کے پاس اب بھی اگلے چند مہینوں میں ڈیلیوری کے لیے 15 سے 20 ہزار یونٹس کی ایڈوانس بکنگ باقی ہے۔ پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹیڈ کے تعلقات عامہ کے سربراہ اور ترجمان شفیق احمد شیخ نے بتایا ہے کمپنی نے 30 جون تک پیداوار کا انتظام کیا تھا لیکن مکمل سی کے ڈی کٹس پر پابندی اور اسکے بعد پرزوں کی پیداوار پر درآمدی پابندیوں کی غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا پڑا اور عارضی طور پر بکنگ معطل کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی کو 30 جون تک جو بھی آرڈر موصول ہوں گے، ان کی انوائس کر دی جائے گی۔

ٹرین زیاتی، ملزموں کا ڈی این اے میچ کر گیا

دوسری جانب 2 جولائی سے پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹیڈ نے اپنی موٹر سائیکلوں کی قیمتوں بشمول جی ایس 150ایس ای، جی ڈی 110ایس، جی ایس 150 ایس ای اور جی آر 150 کی قیمتوں میں 7 سے 10 ہزار روپے بڑھا کر بالترتیب 2 لاکھ 19 ہزار، 2 لاکھ 39 ہزار ، 2 لاکھ 56 ہزار اور 3 لاکھ 49 ہزار روپے کردی ہے۔ انڈس موٹر کمپنی نے پہلے ہی 18 مئی سے بکنگ بند کر دی تھی۔

مارکیٹ ذرائع نے بتایا کہ انڈس موٹر کمپنی چھ ماہ تک مختلف گاڑیوں کے 25 ہزار یونٹس کی ایڈوانس بکنگ لے کر بیٹھا ہوا ہے۔ تاہم انڈس موٹر کمپنی نے موجودہ عدم استحکام کے پیش نظر آپریشنز میں انتہائی دشواریوں کی وجہ سے صارفین کی طرف سے پہلے سے بک کرائی گئی گاڑیوں کی تاخیر سے ڈیلیوری پر اپنے صارفین سے معذرت کی تھی جس کے بعد سی کے ڈی درآمدات کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایل سی کی منظوری کی رکاوٹ اور روپے کی قدر میں گراوٹ جیسے عوامل گاڑیوں کی پیداوار میں خلل ڈال رہے ہیں۔ اسی طرح لکی موٹر کارپوریشن لمیٹیڈ نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پیکانٹو آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے لیے پیشگی بکنگ 20 مئی 2022 کو بند ہو جائے گی جبکہ پیکانٹو مینوئل، اسٹونک کے لیے بکنگ کھلی رہے گی، ذرائع نے بتایا کہ کمپنی کے پاس چار ہزار یونٹس کے ایڈوانس بکنگ آرڈرز تھے۔

ہونڈا اٹلس کارز لمیٹیڈ کے ایک ڈیلر نے کہا کہ اب تک کمپنی نے بکنگ بند کرنے کے حوالے سے کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔ پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن یعنی پاما نے حکومت کو مطلع کیا ہے کہ 20 مئی کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سے آٹو پارٹس بنانے اور فروخت کرنے والوں کو پیداواری مسائل کا سامنا ہے۔ پاما کے مطابق ان پابندیوں کا آٹو اسمبلرز اور آٹو پارٹس بنانے والوں پر انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، یہ صورت حال صنعت کے لیے سنگین بحران میں تبدیل ہو رہی ہے، بہت زیادہ ڈیمانڈ کی وجہ سے اوور ٹائم پر اپنے یونٹ چلانے والے اسمبلرز اور پارٹس بنانے والوں کو معمول کی پیداوار کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔

پوری سپلائی چین بشمول مقامی وینڈرز، ڈیلرز اور معاون ادارے اس پالیسی کی تبدیلی سے متاثر ہوئے ہیں۔پاما نے کہا کہ یہ بے روزگاری کی لہر کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ وینڈر پلانٹس کی بندش سے یومیہ اجرت اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے عملے پر خاص طور پر اثر پڑے گا۔

اسی طرح یاماہا موٹرز پاکستان لمیٹڈ نے بھی یکم جولائی سے دوبارہ قیمتوں میں 23 ہزار 500 سے 26 ہزار 500 روپے تک کا اضافہ کردیا ہے۔ تین جون کو قیمتوں میں 21 ہزار سے 23 ہزار روپے اضافے کے بعد یاماہا کے وائی بی آر 125، وائی بی 125 زی ڈی ایکس، وائی بی آر 125، وائی بی 125 جی اور وائی بی آر 125 جی کی قیمت بالترتیب 2لاکھ 55 ہزار، 2 لاکھ 73 ہزار 500، 2 لاکھ 80 ہزار 500، 2 لاکھ 92 ہزار اور 2 لاکھ 95 ہزار ہو گئی تھی۔ اٹلس ہونڈا لمیٹڈ نے بھی یکم جولائی سے قیمتوں میں 15ہزار روپے تک اضافے کا اعلان کیا ہے۔ تماچے اب صارفین کے لئے گاڑی اور موٹر سائیکل خریدنا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔

Back to top button