عمران خان کی فوجی جرنیلوں سے قربت کی داستان


پاکستان میں ہائبرڈ نظام حکومت کے بانی وزیر اعظم عمران خان کی تمام تر ناکامیوں کے باوجود اقتدار میں ٹکے رہنے کی بنیادی وجہ ان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قربت کو قرار دیا جاتا ہے۔ 1992 میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان سے لے کر کینسر اسپتال کےلیے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم کے دوران عمران خان خاص طور پر پاکستانی نوجوان نسل کے ہیرو رہے۔ لیکن کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی عمران خان کی کرکٹ کے زمانے سے پرستار رہے ہیں اور انہیں لمبے عرصے تک ہیرو سمجھتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کو وزارت عظمی کے لئے سلیکٹ کرنے کے فیصلے کی ایک بنیادی وجہ جنرل باجوہ کی یہی سوچ تھی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ عمران پاکستان کو بھی اسی طرح آگے لے کر جائیں گے جیسے وہ کرکٹ ٹیم کو لے کر گئے تھے۔ تاہم جنرل قمر باجوہ کی امیدوں کے برعکس عمران پاکستان کے لیے تو کچھ نہ کر سکے لیکن اتنا ضرور کیا کہ خود کو چننے والے کا احسان چکاتے ہوئے اسے دوسری مدت کے لیے بھی چن لیا۔ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تو بھی مجھے چن۔
لیکن پاکستان کے فوجی حکمرانوں سے عمران خان کی قربت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 1987 میں جب عمران خان نے پاکستان کو ہندوستان کے خلاف پہلی ٹیسٹ سیریز جتوائی تو فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے انہیں اپنی قائم کردہ پاکستان مسلم لیگ میں عہدے کی پیشکش کی۔ عمران نے یہ پیشکش رد کردی۔
بعد ازاں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا خاتمہ کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تو عمران خان ان کے بھی قریب ہوگئے. دونوں کی قربت کا یہ عالم تھا کہ پرویز مشرف نے عمران خان کو ایک اعلیٰ نسل کا کتا بھی تحفتآ دیا جس کا نام انہوں نے شیرو رکھا۔ عمران کا دعویٰ ہے کہ 2002 کے الیکشن سے پہلے جنرل مشرف نے انہیں اپنی کنگز پارٹی یعنی قاف لیگ میں شامل ہونے کی صورت میں وزیراعظم بنانے کی آفر بھی کی۔تاہم دوسری جانب مشرف کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اس معاملے میں غلط بیانی کی۔ اصل واقعہ یوں یے کہ عمران نے الیکشن 2002 میں ان سے اتنی زیادہ سیٹیں جتوانے کا مطالبہ کردیا تھا کہ اسے پورا کرنا نہایت مشکل تھا۔ مشرف نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ جب 2002 اگلا الیکشن ہوا تو اس میں عمران خان صرف اپنی ہی سیٹ جیت پائے تھے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے عمران خان نے جنرل ضیاء الحق کے ساتھ بھی پیار کی پینگیں بڑھائی تھیں اور 1987 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی ضیا ہی کے کہنے پر واپس لیا تھا۔
تاہم 1992 کے ورلڈ کپ کے بعد کرکٹ سے اپنی باقاعدہ ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان سرگرم فلاحی شخصیت بن گئے۔ 1993 میں معین قریشی کی نگراں حکومت کے دوران عمران خان کو سفیرِ سیاحت تعینات کیا گیا۔ اس عہدے کا رتبہ وزیر جتنا ہی تھا۔ انہوں نے تین ماہ بعد قریشی حکومت تحلیل ہونے اور نئے الیکشن ہونے پر یہ عہدہ چھوڑ دیا۔
1994 کے اواخر میں انہوں نے سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل حمید گل اور محمد علی درانی سے ہاتھ ملا لیے۔ درانی اس وقت جماعتِ اسلامی سے الگ ہونے والے ایک نوجوان دھڑے پاسبان کی قیادت کر رہے تھے۔ 1995 کے اختتام تک ان کے دوستوں، بشمول ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نے انہیں سیاسی کریئر شروع کرنے پر آمادہ کر لیا تھا۔ 25 اپریل 1996 کو عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی۔ 1997 کے عام انتخابات، جو پی ٹی آئی کے پہلے الیکشن تھے، میں انکی پارٹی نے کوئی سیٹ نہ جیتی۔ کچھ سال بعد کئی ریٹائرڈ فوجیوں نے انکی پارٹی یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ عمران خان کسی کی بھی نہیں سنتے۔ چند سال مزید گزرے تو یہی جذبات لیے چند مزید تجربہ کار سیاست دانوں نے انکی پارٹی کو خیرباد کہہ دیا۔ 1999 میں عمران خان جنرل پرویز مشرف کی حمایت کرنے لگے اور سابق فوجی ڈکٹیٹر کے تحت ہونے والے 2002 کے عام انتخابات میں ان کی جماعت نے ایک ہی نشست جیتی۔ 2008 کے الیکشن سے پہلے عمران نے دوبارہ مشرف کے ساتھ ڈیل کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں ناکامی کے بعد 2008 کے الیکشن کا یہ کہہ کر بائیکاٹ کر دیا کہ ایک باوردی صدر کے ماتحت منتخب پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں۔
اس دوران آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا عمران خان کے مشورہ نویس بن گئے اور ان کو اقتدار میں لانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا۔
لیکن 2013 کے انتخابات میں بھرپور مہم چلانے کے باوجود عمران خان کی پارٹی مرکز میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور 32 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھ گئی۔ مگر یہ خیبر پختونخواہ میں جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔
2014 میں عمران خان نے شجاع پاشا اور تب کے آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیرالاسلام کے ایما پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا اور 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف طویل ترین دھرنا دیا۔ انہوں نے اس دھاندلی کے لیے نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ دھرنے کے لیے انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری سے ہاتھ ملا لیے جو کہ ماڈل ٹاؤن سانحے کے متاثرین کو انصاف دلوانے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔ یہ دھرنا 126 دن تک جاری رہا، مگر رہ دھرنا دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملے کے بعد ختم کرنا پڑا۔ لیکن اس دھرنے کے بعد نواز شریف حکومت کے خلاف فوجی سازشیں عروج پر پہنچ گئی اور پھر انہیں پانامہ کیس میں نااہل کر کے اگلے الیکشن میں عمران خان کو اقتدار دینے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ چنانچہ 25 جولائی 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو بے مثال انداز میں قومی اسمبلی کی 116 نشستیں حاصل ہوئیں۔ بعد ازاں اتحادیوں اور آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر بالآخر عمران خان نے وزارت عظمی کا حلف اٹھا لیا۔ تاہم یہ پاکستان کی پہلی حکومت ہے جو ہائبرڈ نظام کے تحت چلائی جارہی ہے یعنی اس میں اقتدار بظاہر تو عمران خان کے پاس ہے لیکن بیک سیٹ ڈرائیونگ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کر رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button