سینئر صحافی ابصار عالم پر اسلام آباد میں قاتلانہ حملہ

سینئر صحافی اور سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے تاہم ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابصار عالم ایف الیون پارک میں واک کر رہے تھے کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔معروف صحافی کو ہسپتال منتقل کردیا گیا، ان کے پیٹ میں گولی لگی اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ابصار عالم نے کہا کہ مجھے لگا کہ ایک نامعلوم شخص میری طرف آرہاہے اور وہ بعد میں مجھ پر فائرنگ کر کے فرار ہو گیا۔
انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں واک کررہا تھا کہ مجھے گولی مار دی گئی جو مجھے پسلیوں میں لگی ہے۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے مجھے ماری لگوائی ہے میں انہیں پیغام دینا چاہتا ہوں کہ میں حوصلہ نہیں ہاروں گا اور نہ ہی میں ان چیزوں سے ڈرنے والا ہوں۔
پولیس کو اپنے بیان میں ابصار عالم کا کہنا تھاکہ مجھ پر حملہ کرنے والے کی عمر 27 ، 28 سال معلوم ہوتی ہے، میں اپنے گھر کے قریب پارک میں واک کررہا تھا تو پارک میں ایک 27، 28 سالہ نوجوان موجود تھا۔انہوں نے کہا کہ نوجوان نے پستول سےمجھ پر فائر کیا، مجھ پیٹ میں دائیں جانب گولی لگی، مجھے دوستوں نے اسپتال پہنچایا۔
ابصار عالم پر حملے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور اس وقت یہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ چل رہا ہے۔
ٹیلی ویژن میزبان غریدہ فاروقی نے ابصار عالم پر حملے سے متعلق اطلاع کو ٹوئٹر پر شیئر کیا تو بتایا کہ ’پیٹ میں گولی لگنے کے بعد ابصار عالم کا آپریشن کیا جا رہا ہے۔‘مختلف میڈیا آرگنائزیشنز کے ساتھ بطور صحافی وابستہ رہنے والے ابصار عالم مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں پیمرا کے چیئرمین بنائے گئے تھے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے سینئر صحافی ابصار عالم پر قاتلانہ حملے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ آٸی جی اسلام آباد کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور فائرنگ میں ملوث شخص کو جلد از جلد گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ابصار عالم پر فائرنگ کرنے والے قانون سے بچ نہیں سکیں گے اور بہت جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو ابصار عالم پر قاتلانہ حملے کی فوری تحقیقات کا کہہ دیا ہے، جوں ہی تفصیلات سامنے آئیں گی میڈیا کے سامنے رکھیں گے۔
مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی حملے کی پرزور مذمت اور ابصار عالم کی صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ مخالف کی آوازوں کو چپ کرانا ایک کینسر ہے جس نے کئی سالوں سے اس ملک کو جکڑا ہوا ہے، ابصار عالم اس وحشیانہ جرم کا تازہ شکار ہیں۔
ماضی میں قاتلانہ حملے کا شکار معروف صحافی حامد میر نے کہا کہ یہ حملہ ناصرف قابل مذمت ہے بلکہ یہ اختلاف رائے رکھنے والوں کے لیے واضح پیغام ہے۔
معروف صحافی کاشف عباسی نے بھی ابصار عالم پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی۔
سینئر صحافی طلعت حسین نے کہا کہ ابصار عالم کی حالت خطرے سے باہر ہے مگر زخم گہرا ہے، اس سازش و دہشت گردی کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button