TTPامیر نور ولی محسود کھل کر سامنے آ گئے


افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نورولی محسود نے منظر عام پر آتے ہوئے پاک افغان سرحد پر واقع قبائلی علاقوں کا دورہ کیا ہے جس سے پاکستانی سکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب افغانستان میں داعش خراسان کے حملوں کا سلسلہ تیز ہو رہا ہے اور پاکستان میں بھی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے حالانکہ وزیراعظم عمران خان کا دعوی ہے کہ ان کی حکومت ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف ہے اور وہ معاہدے کی صورت میں طالبان کو عام معافی بھی دے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے سی این این پر جاری ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نورولی محسود نے پاکستانی قبائلی علاقوں کو فوج کے تسلط سے آزاد کروانے کا اعلان کیا تھا۔ ایسے میں ان کے قبائلی علاقوں کے دورے کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ دفاعی امور سے متعلق تجزیہ کار خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے والے افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان اور داعش کے خطرے کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے، تو پورے خطے کی سیکیورٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔ انکا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور داعش خراسان کو بیرونی طاقتوں کی مدد اور حمایت بھی حاصل ہے جو خطے میں امن کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتی ہیں اور اسے لیے یہ دونوں تنظیمیں Game spoiler کا کردار ادا کر رہی ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کی سرحدی علاقوں کا دورہ پاکستان کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے اور اگر یہ خطرہ روکنے کے لیے فوری اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والے دنوں میں یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پاکستان اور طالبان کی حکومتوں کو خطے کی دوسری طاقتوں کی مدد سے اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنا ہو گا کیونکہ اکیلے پاکستان کے لئے اس معاملے سے نمٹنا ممکن نہیں۔
دفاعی تجزیہ کار یاد دلواتے ہیں کہ ایک حالیہ انٹرویو میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے ایک نیا موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں کو، جو اب مملکت پاکستان کا حصہ ہیں، آزاد حیثیت دی جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ قبائلی علاقوں کو پاکستانی فوج کے تسلط سے آزاد کروانے کے لیے جدوجہد تیز کرنے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا۔کہنا ہے کہ یہ موقف ٹی ٹی پی کا ایک نیا سیاسی حربہ ہے، جس کا مقصد مقامی لوگوں کو اپنا حامی بنانا ہے۔ دوسری جانب اسکا مقصد افغان طالبان کو ایک نئی راہ پر ڈالنا بھی ہے تا کہ انہیں یہ باور کرایا جائے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بفر زون قائم کرنا افغانستان کے مفاد میں ہو گا۔ اس طرح وہ افغان طالبان سے اپنی وابستگی اور وفاداری بھی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے مفتی نورولی محسود کی جانب سے پاکستانی قبائلی علاقوں کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید اس کا ایک مقصد پاکستان کو یہ پیغام دینا ہے کہ ٹی ٹی پی فعال ہے اور اس کے باقی دھڑے بھی اس کے ساتھ ہیں اور اگر پاکستان کسی دھڑے سے مذاکرات کر بھی رہا ہے تو اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا انکشاف کیے جانے کے بعد وزیرستان میں موجود طالبان کے ایک دھڑے نے اس تجویز کی حمایت کی تھی۔ لیکن دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے عمران خان کی جانب سے عام معافی کی تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ معافی تو حکومت پاکستان کو طالبان سے مانگنی چاہیے، پھر یہ انکا فیصلہ ہے کہ معافی دی جانی چاہیے یا نہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حالات میں حکومت پاکستان کی تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ لہذا افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان سے مل کر انٹیلی جنس شیرنگ کے ذریعے مشترکہ کارروائی کرنی چاہئے۔ ورنہ دونوں ملکوں اور بطور مجموعی پورے خطے کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی اور وہ طاقتیں کامیاب ہو جائیں گی جو خطے میں عدم استحکام چاہتی ہیں۔
تاہم دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغان طالبان کسی بھی صورت پاکستانی طالبان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے خلاف جنگ میں پاکستانی طالبان انکے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ہیں اور افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے لوگ ان کے مہمان ہیں۔ اسی لئے برسرِاقتدار آنے کے فورا بعد افغان طالبان نے افغانستان کی تمام جیلوں میں قید تحریک طالبان پاکستان کے قیدیوں کو فوری طور پر رہا کر دیا تھا جس کے بعد پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے۔

Back to top button