نامعلوم معاہدے سے ریاست پاکستان کی رٹ کیسے لاپتہ ہوئی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ عمران حکومت اور تحریک لبیک کے مابین ہونے والے نامعلوم معاہدے نے ریاست پاکستان کی رٹ کو لاپتہ کر دیا ہے اور لبیک والی ایک مرتبہ پھر فاتح بن کر سامنے آئے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ بس ایک معاہدہ ہی نامعلوم ہے باقی تو سب معلوم ہے کہ کیا، کہاں اور کیسے ہوا۔ لیکن کیا اب بھی کوئی گارنٹی ہے کہ تحریک لبیک آئندہ دھرنا نہیں دے گی اور ملکی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لے گی؟
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کالعدم تحریک لبیک کے بعد تحریک طالبان سے بھی کوئی خفیہ معاہدہ ہوگیا ہے یا ابھی بات چیت جاری ہے؟ رہ گئی بات ریاستی رٹ کی تو بس اس کو رہنے ہی دیں، البتہ یہ اب طے ہے کہ ہم تیزی سے’انتہا پسندی‘ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وہ بھی نتائج کی پروا کیے بغیر۔ تصورکریں یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جہاں ایک طرف ریاست مدینہ کا نام استعمال ہورہا ہے تو دوسری طرف تحریک لبیک والے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہین۔ کل تک قومی سلامتی کے اجلاس میں یہ رپورٹ دی جارہی تھی کہ اس تنظیم کے پیچھے ’بھارت‘ ہے یعنی’را‘ کا نیٹ ورک اسکی مالی معاونت کر رہا ہے۔ اس بارے پنجاب ہوم ڈیپانمنٹ نے رپورٹ بھی سپریم کورٹ میں جمع کرا دی اور اسی کو تحریک لبیک کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی نظر بندی کا جواز بھی بنایا گیا لیکن اب نہ تو اس رپورٹ کی کوئی اہمیت ہے اور نہ ہی تحریک کا لعدم رہے گی۔ ریاست پاکستان کی جانب سے شدت پسندوں کے سامنے ایک مرتبہ پھر گھٹنے کے جانے کے بعد سعد رضوی بھی جلد باعزت رہائی پا لیں گے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب میں اس سارے معاملے کو ریاست کی ناکامی نہ قرار دوں تو اور کیا کہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں 2014 کا دھرنا تو یاد ہوگا ۔ایک صاحب تھے ڈاکٹر علامہ طاہر القادری جنہوں نے تحریک کا آغاز تو عمران خان کے ساتھ کیا تھا مگر اچانک ایک ’نامعلوم معاہدہ‘ کرکے صبح صبح واپس نکل لیے تھے۔ یاد ہے کہ تب کفن پوش بھی تیار تھے اور قبریں بھی۔ کیا وہاں ’مذہبی کارڈ‘ استعمال نہیں ہوا تھا۔ رہ گئی بات ماڈل ٹائون کے شہیدوں کی تو بس یہاں اتنا ہی انصاف ملتا ہے جتنا انہیں ملا یعنی کچھ بھی نہیں ملا۔ 1977میں بھی تو اتنی بڑی’تحریک نظام مصطفیٰﷺ کا انجام ایک مارشل لا پر ہوا اور پھر سب بھول گئے اور بکھر گئے۔ 1988 میں اسلامی جمہوری اتحاد کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہ سب اقتدار کی سیڑھی کے راستے ہیں۔ کوئی اقتدار بچانے کے لیے ایسے حربے استعمال کرتا ہے تو کوئی اقتدار میں آنے کے لیے حسرت بھری نگاہ سے اسی طرف دیکھتا ہے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ پچھلے تین ہفتوں سے ملک پر ایک ہیجان طاری تھا۔ 6اکتوبر کو نئے آئی ایس آئی چیف کے ’نوٹیفکیشن‘ پرغیر ضروری اعتراض سے معاملہ شروع ہوا۔ بات اتنی سادہ نہیں تھی جسے’ ابہام اور فنی خرابی ‘ کا نام دیا گیا۔ میں نے 4 اکتوبر 2021 کا ISRR کا پریس ریلیز دیکھا جس میں جنرل ندیم اعجاز کی بطور ڈی جی ISI تقرری کا ذکر تھا اور پھر ماضی کی دو پریس ریلیزیں بھی میری نظر سے گزریں یعنی 10 اکتوبر 2018 کو لیفٹینخنٹ جنرل عاصم منیر اور 16جون 2019 کو جنرل فیض حمید کی بطور ڈجی ISI تقرری کی، تینوں میں کوئی فرق نہیں تھا اور یہ تینوں تقرریاں وزیر اعظم عمران خان کے دور ھکومت میں ہوئیں۔ تب نہ تو کوئی انٹرویو ہوا اور نہ وزیر اعظم ہائوس سے پریس ریلیز جاری ہوئی۔ چنانچہ لگتا یہی ہے کہ عمران خان کو اصل اعتراض طریقہ کار پر نہیں تھا بلکہ انکی خواہش کچھ اور تھی۔ایسی ہی خواہش بے نظیر بھٹو شہید کی بھی تھی جب انہوں نے جنرل(ریٹائیرڈ) شمس الرحمان کلو کو ڈی جی ISI مقرر کیا تھا۔ بعد ازاں کلو کو ہزیمت اٹھانا پڑی اور بی بی کو بھی گھر جانا پڑا۔ بعد ازاں نواز شریف اپنی خواہش کے مطابق جنرل ضیا الدین بٹ کو ڈی جی آئی ایس آئی بنا کر یہ سمجھ بیٹھے کہ سویلین بالادستی قائم ہوگئی ہے۔ یوں وہ ایک قدم اور آگے بڑھ گئے اور یہ سوچے بغیر کہ اقتدار کی سیڑھی کا راستہ دکھانے والے خود بھی تو اقتدار میں آ سکتے ہیں۔
بقول مظہر عباس، ہمارے کچھ دفاعی تجزیہ کار یہ سوال۔پوچھتے ہیں کہ ہمارے سیاست دان اسی سیڑھی پر لائن کیوں لگا لیتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں اصغر خان کیس میں فوج تو جنرل اسلم بیگ کا ٹرائل کرنے کو تیار تھی مگر بے نظیر ان لوگوں کا ٹرائل نہیں چاہتی تھیں، جنہوں نے پیسے لیے۔ اب سوال یہ ہے کہ پہلے آپ لوگ پیسے دینے والے کو پکڑتے تو پھر ان کو بھی پکڑتے جنہوں نے پیسے لیے۔ اس کیس کا فیصلہ 1990میں ہوجاتا تو آج سیاست میں کرپشن کے رجحان میں کچھ کمی آ چکی ہوتی۔ رہ گئی بات لائن لگانے کی تو حضور، شریف برادران تو سیڑھی کے راستے اوپر نہیں گئے تھے، ان کو اوپر لے جانے کے لیے آپ نیچے آئے تھے ورنہ ان کا سیاست سے کیا لینا دینا تھا۔ مظہر کہتے ہیں کہ ذرا سوچیں اگر تحریک لبیک 2018 میں نہ ہوتی تو الیکشن میں پنجاب اور کراچی کے نتائج کیا ہوتے۔ وہ کس کا ووٹ لے گئے تھے۔ شاید آپ کو آج بھی ان کی ضرورت ہے۔ مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ کے لیے کوئی استعمال ہوتو ٹھیک ورنہ بھارت سے تعلقات جوڑ دو۔ چالیس سال سے اس ملک میں غیر ریاستی بیانیہ کو اوپر جاتے ہی دیکھا ہے اگر ریاست اس سب کے لیے تیار ہے تو ٹھیک ہے بس اتنا سمجھ لیجئے کہ آگ سے کھیلیں گے تو شعلوں سے اقتدار کی سیڑھی بھی لپیٹ میں آسکتی ہے۔ ریاست ایک پھل دار درخت کے مانند ہوتی ہے جو ہمیشہ جھکتا ہے مگر اس کا پھل سب کو ملے تو بہتر ہے ورنہ یہ کیا کہ کہیں نامعلوم معاہدہ اور کہیں لوگ نامعلوم۔
