شائستہ پرویز کی الیکشن مہم اور عدت پر بحث کیوں؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر اس وقت حال ہی میں بیوہ ہونے والی مسلم لیگی رہنما شائستہ پرویز ملک کی جانب سے عدت پوری کیے بغیر اپنے شوہر کی قومی اسمبلی کی سیٹ پر ضمنی الیکشن لڑنے کا فیصلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ شائستہ پرویز پر یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ وہ عدت پوری کیے بغیر کس طرح لوگوں کے سامنے آگئی ہیں؟ اسی دوران ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر ’سعدی‘ نامی اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی جس میں وہ تعزیت کے لیے آنے والے مہمانوں کے ساتھ بیٹھی ہیں۔ ان میں معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل بھی شامل ہیں۔ کئی لوگوں نے ان کی تصویر کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ دوران عدت مردوں کے سامنے بیٹھی ہیں۔
اس تنقید کے بعد مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ شائستہ پرویز ملک ’اسلامی احکامات کے مطابق عدت پوری کریں گی اور اپنی انتخابی مہم وہ خود نہیں بلکہ مسلم لیگ نوں اور ان کا خاندان چلائیں گے۔‘ تاہم اسی پر کئی ایسی آرا بھی سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عدت سے متعلق معاشرے میں غلط معلومات اور روایات کی کمی نہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’عدت میں نکاح کی اجازت نہیں جبکہ دیگر معمولات زندگی جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔‘ اسی طرح ایک اور صارف ناجیہ احتشام نے لکھا کہ ’اپنے گھر کی چاردیواری میں دیگر اہلخانہ کے ساتھ رہتے ہوئے تعزیت کے لیے آنے والوں سے ملاقات میں کوئی ممانعت نہیں۔‘
دوسری جانب ب پاکستان کے نجی ڈرامہ چینل ’ہم ٹی وی‘ پر حال ہی میں شروع ہونے والے ڈرامے ’دوبارہ‘ میں حدیقہ کیانی ایک ایسی بیوہ مہرالنسا کا کردار ادا کر رہی ہیں، جن کی شادی لگ بھگ پندرہ برس کی عمر میں ہوئی اور ان کے شوہر ہدایت اللہ یعنی اداکار نعمان اعجاز ان سے بیس سال بڑے تھے۔ یہ ڈرامہ بعض معاشرتی رویوں کے مختلف پہلووں کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایک تو یہ کہ کمر عمری کی شادی نے کیسے مہرو کے خواب اور شخصیت کو متاثر کیا اور دوسرا یہ کہ شوہر کی وفات کے بعد ایک بیوہ سے معاشرے کی وابستہ توقعات کس قسم کی ہوتی ہیں۔ اس ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ مہرالنسا اپنے شوہر کی موت کا سوگ منانے کی بجائے ماضی کے ان دنوں کو یاد کر رہی ہیں جب ان کے شوہر ان پر مختلف پابندیاں عائد کرتے ہیں یا انھیں بتاتے ہیں کہ انھیں کیسا نظر آنا چاہیے۔اور پھر مہرالنسا کے اردگرد موجود لوگ انھیں یہ بتاتے ہیں کہ شوہر کے مرنے پر ان کا ردعمل کیا ہونا چاہیے۔
اس ڈرامے کی اب تک دو اقساط ریلیز ہوئی ہیں مگر اس میں شامل دونوں ہی عناصر یعنی کمر عمری کی شادی اور شوہر کی موت کے بعد ردعمل پر بات کی جا رہی ہے۔
ایک صارف نے یوٹیوب پر رائے دیتے ہوئے لکھا کہ ’ان کو شوہر یاد آتا ہے نہ اس کی محبت۔ عجیب خود غرض عورت ہے۔‘ مریم نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’اس کو کہتے ہیں احسان فراموش عورت‘ جبکہ متعدد صارفین نے کہا کہ ڈرامے میں ’عدت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔‘ مگر ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اس اہم معاملے کو سامنے لانے کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے کہا کہ ’مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ مہرو کو لوگ پاگل کیوں کہہ رہے ہیں۔ وہ پاگل نہیں ہیں۔ وہ پریشان ہیں اور انھیں اپنے لیے تھوڑا وقت چاہیے۔ ہمارا کلچر زہریلا ہے۔‘ ریما شعیب نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’یہ ایک مختلف ایشو پر لکھا گیا ہے یعنی ان خواتین کے بارے میں جن کی شادی کم عمری میں ہو اور وہ کم عمری میں بیوہ بھی ہو جائیں۔‘ مہرین منصور نامی ایک صارف نے لکھا: بالآخر کسی نے مہرو کے کردار میں میری کہانی بیان کی یعنی ایک ایسی لڑکی جو وہ زندگی گزار رہی ہے جو اسے پسند ہی نہیں مگر اسی بات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔‘
شوبز تجزیہ کار مہوش اعجاز کہتی ہیں کہ یہ ڈرامہ اس معاملے پر بات کر رہا ہے کہ ایک بیوہ خاتون کس اذیت سے گزر سکتی ہیں۔ ’اس ڈرامے میں سکینہ سمو، مہرالنسا کی نند کا کردار نبھا رہی ہیں اور وہ ان رسوم و رواج کی آڑ میں ایسا لگتا ہے کہ ان کی دولت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ مہرالنسا پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ تم رو، سر پر دوپٹہ لو، تم پاگل کیوں ہو گئی ہو۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ’شوہر کی موت عام طور پر ایک ٹراما اور تباہ کرنے والا مرحلہ ہوتا ہے مگر مہرالنسا کے کردار میں یہ تجربہ بھی مختلف ہے۔ وہ طویل مدت تک ایک گھٹن والے رشتے میں رہی ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ صرف خود کو آزاد محسوس کر رہی ہیں بلکہ وہ تو کنفیوژ نظر آتی ہیں کہ اب وہ کیا کریں۔‘ ’انھیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اب وہ اپنی زندگی کے ساتھ کیا کریں کیونکہ انھوں نے چھوٹی عمر میں ایک بڑے آدمی کے احکامات لے کر زندگی گزاری۔‘
