ریاست سے سوال کرنا اور جواب لینا منع کیوں ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار اویس توحید نے حکومت اور تحریک لبیک کے مابین ہونے والے خفیہ معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں ریاست ایک کالعدم تنظیم سے خفیہ معاہدہ کرتی اور عوام کو اتنی بھی اجازت نہیں کہ وہ جان سکیں کہ اس میں کیا شرائط طے ہوئی ہیں حالانکہ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ایسے معاہدے سے سب سے ذیادہ عوام ہی متاثر ہوں گے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں اویس توحید کہتے ہیں کہ ریاست عوام کی آنکھوں پر پردہ ڈالے رکھنا چاہتی ہے حالانکہ اسے بہت سارے اہم سوالوں کا جواب دینا یے۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا جو کہ عوام نے منتخب کی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ شدت پسندوں کے ہاتھوں پولیس والوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے جنہیں ریاست انتہا پسند جتھوں کے سامنے ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے اور پھر بے یارو دگار چھوڑ دیتی ہے۔ پولیس والے بھی اب اس کنفیوژن کا شکار ہیں وہ مستقبل میں ان شدت پسندوں کا مقابلہ کریں یا خاموش رہیں؟ اپنی جانوں کی قربانی دیں یا ہتھیار ڈال دیں؟ اس کنفیوژن کی سلیمانی ٹوپی سے آپ کی حکومت اور ریاست خود کو دھوکے میں رکھنا چاہتی ہے۔ خیر کئی دہائیوں سے ملک کی آپ بیتی بھی کچھ یوں ہی ہے۔
اویس کہتے ہیں کہ تاریخی جی ٹی روڈ پر ایک مرتبہ پھر ہزاروں لبیک کارکنوں کا غلبہ ہے۔ بلند آواز اور نعروں کی گونج ہے، ہیجانی کیفیت ہے، جلاؤ گھیراؤ چل رہا ہے، پولیس والوں پر ڈنڈوں اور لوہے کے سریوں سے حملے ہو رہے ہیں، ان کی تشدد زدہ لاشیں کھیتوں سے مل رہی ہیں۔ مناظر ایسے ہیں کہ سر چکرا جائے اور دم گھٹتا چلا جائے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں حکومتی وزراء کی بوکھلائے ہوئے ہیں۔ ابھی آئی ایس آئی کی سربراہی کی تعیناتی کے قضیے کے بادل چھٹے نہیں تھے کہ حکومت کو ایک اور تنازعے کا سامنا ہے۔ عوام پریشان ہیں اور متاثرہ علاقوں میں کاروبار زندگی ٹھپ ہے۔ اس احتجاج کو تحریک لبیک کا سالانہ ’’انتہا پسندی‘‘ کا میلہ ہی سمجھ لیجیے۔ 2017ء کے فیض آباد دھرنے کے بعد سے تو یہی وطیرہ اپنایا ہوا ہے۔ مطالبات مانو ورنہ مذہبی انتہا پسندی کے کارتوسوں سے بھری بندوق معاشرے کی کنپٹی پر تان لی جائے گی۔
بقول اویس توحید حکومت اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے اور ریاست سمجھوتوں اور مجبوریوں کی بیساکھی کا سہارا لیتے ہوئے اپنا سر بار بار خم کرتی چلی جا رہی ہے۔ انکاکہنا ہے کہ اس مرتبہ جب پرتشدد احتجاج شروع ہوا تو عمران حکومت کو تحریک لبیک سے نمٹنے کے لیے طاقت کے استعمال اور مذاکرات کی دو دھاری تلوار پر لڑکھڑاتے ہوئے دیکھا گیا۔ صبح کو شیخ رشید احتجاج کرنے والوں لبیک کے قائدین کی ٹھوڑی اور گھٹنوں ہر ہاتھ رکھتے، صدقے واری جاتے اور شام کو انہی لوگوں پر دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات داغتے۔ فواد چودھری ٹی ایل پی کو ٹویٹر پر ”فسادی‘‘ پکارتے اور تحریک لبیک کا انڈیا کے ساتھ تعلق جوڑتے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جیسے حکومت نے لبیک کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے کنفیوژن کی سلیمانی ٹوپی پہن لی ہو۔ لگ بھگ ہفتہ گزر گیا لیکن معاملہ وہیں کا وہیں تھا اور پھر اچانک ٹی وی اسکرینز پر ہمیں خوشی کی نوید سنائی جاتی ہے کہ حکومت اور تحریک لبیک کا معاہدہ ہو گیا ہے، جس میں جوش سے نہیں، بلکہ ہوش سے کام لیا گیا ہے۔
اویس یاد دلواتے ہیں کہ فیض آباد دھرنے کے بعد لبیک کے ساتھ معاہدے پر جنرل فیض حمید کے دستخط موجود تھے۔ اُس معاہدے کی تصاویر سوشل میڈیا پر جاری ہوئیں۔ لیکن اس مرتبہ ایک اور تصویر گردش میں ہے۔ آرمی چیف جنرل باجوہ درمیان میں ہیں، ایک طرف معروف کاروباری شخصیت عبدلکریم ڈھیڈی ہیں اور دوسری جانب مفتی منیب الرحمان ہیں۔ اسی ملاقات کے بعد ہی ٹی وی اسکرینز پر حکومت اور تحریک لبیک کے مابین معاہدے کی ’’خوشخبری‘‘ سنائی گئی۔ مفتی منیب نے اخک پریس کانفرنس میں قوم پر احسان جتلایا کہ کس فہم و فراست سے حالات کو خون خرابے سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ لیکن اس معاہدے کی شقوں کو ابھی تک خفیہ رکھا گیا ہے اور میڈیا کو تلقین کی گئی ہے کہ چند روز اپنی دکان نہ چمکائیں۔ گویا خاموشی اختیار کریں۔ لیکن مفتی منیب کی دکان کس نے چمکائی ہے؟ وہ سب کو علم ہے۔ جب صحافیوں نے سوال پوچھنے کی کوشش کی تو شاہ محمود قریشی اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا، ”یہاں کوئی سوال جواب نہیں ہوں گے۔ یعنی کمال ہے کہ آپ ایک کالعدم تنظیم سے معاہدہ کرتے ہیں اور عوام کو اجازت بھی نہیں کہ وہ جان سکیں کہ کیا شرائط طے ہوئی ہیں؟ اویس کا کہنا ہے کہ ریاست خود کو تو دھوکے میں رکھنا چاہتی ہے لیکن عوام کو دھوکا دے رہی ہے۔ خیر کئی دہائیوں سے ملک کی آپ بیتی بھی یوں ہی ہے۔ چاہے حکمران عوام کے منتخب ہوں یا فوجی آمر، سوال پوچھنے کی اجازت کس نے دی ہے؟ ہمیں تو یاد نہیں پڑتا کہ کبھی عوام کو اعتماد میں لیا گیا ہو۔ ملک کو افغان جنگ میں جھونکا گیا، اپنے آنگن میں انتہاپسندی کے انگاروں کے ڈھیر لگائے گئے، جن سے اب تک شعلے بھڑک رہے ہیں۔ نوے کی دہائی میں دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا گیا تو پارلیمنٹ میں کون سی بحث ہوئی؟ جنرل مشرف نے قوم کو صدر بش کی دھمکی آمیز فون کال سے خاموش کیا۔ ڈرون حملوں کی خاموشی سے اجازت بھی دی، قوم سے امریکیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کروائے، فوجی اڈے بھی امریکا کے حوالے کیے تو عوام سے کون سا ووٹ لیا گیا؟
اویس توحید کہتے ہیں کہتے ہیں کہ تحریک طالبان، جس کا دامن ہمارے سیکورٹی اہلکاروں، اے پی ایس اسکول کے بچوں اور معصوم شہریوں کے خون سے تر ہے، اس سے مذاکرات کا انکشاف وزیراعظم عمران خان کرتے ہیں، لیخن نا پارلیمنٹ میں بحث، نا سوال اور نا ہی جواب، حالانکہ انتہاپسندوں سے معاہدوں کی ناکامی کی ایک تاریخ ہے۔ اب تحریک لبیک سے ایک اور’’نامعلوم معاہدہ‘‘ طے پایا ہے۔ وقتی طور پر ان کی شرائط تسلیم کر کے معاملے کو عارضی طور پر تو ٹالا جا سکتا ہے لیکن ہر معاہدے سے ریاست کمزور ہوتی ہے اور انتہا پسند طاقتور۔ تحریک لبیک کو ہی لے لیجیے۔ اگر چند برس قبل کمر پر تھپکی نہ دی جاتی، قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جاتا تو یہ تحریک شاید اتنی بڑی طاقت نہ بنتی کہ ہر سال ریاست کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی۔
اویس کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اور ریاست سیاسی فوائد کے لیے ایسی جماعتوں سے انتخابی گٹھ جوڑ کر لیتی ہیں اور انہیں مستقل بنیادوں پر معاشرے میں سیاسی قبولیت حاصل ہو جاتی ہے۔ ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف، یہ سبھی کہیں نہ کہیں اس گٹھ جوڑ میں شامل رہے ہیں۔ اب یہ سن گن ہے کہ تحریک لبیک پر سےکالعدم تنظیم کا داغ ہٹا دیا جائے گا اور اسے سیاسی مذہبی قوت کی حیثیت سے تسلیم کیا جائے گا۔ حکومت اس جماعت کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی میں رکاوٹ نہیں بنے گی اور بدلے میں تحریک لبیک فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے اور سفارت خانے کو بند کرنے کے مطالبات سے پیچھے ہٹ جائے گی۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کر لیں کہ یہ کس کی جیت اور کس کی ہار ہے؟ تحریک انصاف کے کچھ سیاسی جغادریوں کو لگتا ہےکہ تحریک لبیک کو اگر سیاسی جماعت تسلیم کر لیا جائے تو آئندہ انتخابات میں بالخصوص پنجاب میں شریف خاندان کی ن لیگ کے ووٹ تقسیم ہوں گے اور سیاسی دشمنوں کو نقصان بھی ہو گا۔ تاہم یاد رہے کہ آج کا فائدہ لیکن کل کے لیے ناقابل تلافی نقصان ثابت ہو گا، لیکن افسوس کہ ہماری سیاسی جماعتیں ہوں یا اسٹیبلشمنٹ، یہ سب سبق سیکھنے سے قاصر ہیں۔
