نیب کا 820 ارب روپے ریکور کرنے کا دعویٰ جھوٹا نکلا


چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی جانب سے پچھلے تین سال کے دوران مسلسل نیب کی مثالی کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے دعویٰ کیا جاتا رہا کہ احتساب بیورو اب تک اربوں روپے ریکور کر کے قومی خزانے میں جمع کروا چکا ہے۔ تاہم اب وزارت خزانہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک صرف 6 ارب 50 کروڑ روپے ہی قومی خزانے میں جمع کروائے ہیں۔
وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ باقی 815 ارب روپے کہاں گئے اس کے بارے میں نیب سے ہوچھا جائے، وزارت خزانہ کو اس کا علم نہیں ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نیب چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی مثالی کارکردگی کی بنا پر پہلے ہی انہیں عہدے میں توسیع دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایسے میں وزارت خزانہ کے انکشاف نے جسٹس جاوید اقبال کی جانب سے کیے جانے والے ریکوری کے دعووں کا جنازہ نکال دیا ہے۔ یاد رہے کہ 3 نومبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چئیرمین سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت ہوا جس میں وزارت خزانہ کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نیب چئیرمین کے دعوے کے مطابق انکے ادارے نے مشرف دور میں اپنے قیام سے اب تک 821 ارب روپے کی ریکوری کی ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ وزارت خزانہ کو نیب سے آج دن تک صرف 6 ارب 50 کروڑ روپے ملے ہیں اور باقی کے 815 ارب روپے کی ریکوری سے متعلق وزارت خزانہ کو کوئی علم نہیں۔ اس بارے میں نیب سے پوچھا جائے۔ وزارت خزانہ نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے آگاہ کیا کہ بینکوں کے قرض ڈیفالٹرز سے 121 ارب روپے کی ریکوری کی گئی۔ ان ڈائریکٹ ریکوری کی مد میں 500 ارب کی ریکوری ہوئی۔ قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کی مد میں 59 ارب روپے کی ریکوری ہوئی جبکہ عدالتوں نے 46 ارب روپے کے جرمانے لگائے۔
اس موقع پر کمیٹی چئیرمین سینیٹر طلحہ محمود نے سوال کیا کہ باقی 815 ارب روپے کہاں ہیں؟ کمیٹی کے رکن سینیٹر مصدق ملک نے پوچھا کہ یہ پیسے خزانے میں نہیں آ رہے تو کہاں جا رہے ہیں؟ اس موقع پر کمیٹی ارکان نے چیئرمین نیب کو بلانے کی سفارش کر دی جس پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ آپ چیئرمین نیب کو نہیں بلا سکتے، آپ کی مجال نہیں ہے کہ انہیں بلا پائیں۔ تاہم کمیٹی نے گورنر سٹیٹ بینک اور ڈی جی نیب کو طلب کر لیا۔ اس معاملے پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نیب کا ادارہ کرپشن کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ ادارہ ایک ڈکٹیٹر نے اپنے مقاصد کے لیے بنایا تھا اور اس کا مقصد ریکوری نہیں بلکہ پولیٹیکل انجینئرنگ کرنا تھا جو آج دن تک جاری ہے۔
سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ وزارت خزانہ کے مطابق احتساب بیورو نے قومی خزانے میں کوئی 820 ارب کی رقم جمع نہیں کرائی لہذا نیب کا ایک بڑا جھوٹ پکڑا گیا ہے۔ مانڈوی والا نے کہا کہ نیب نے جس رقم کی تفصیل جمع کرائی ہے اس میں بھی بڑا تضاد ہے، چنانچہ نیب حکام آ کر بتائیں کہ ریکور کی گئی رقم کہاں پڑی ہے،
اس سے پہلے نیب نے دعویٰ کیا تھا کہ مجموعی طور پر 821 ارب 46 کروڑ 90 لاکھ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔لیکن وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اسے نیب سے صرف 6 ارب 50 کروڑ روپے کی رقم نان ٹیکس آمدن کے تحت موصول ہوئی، باقی فنڈز کہاں گئے، اس کا کوئی علم نہیں ہے۔ چنانچہ سینیٹ کمیٹی نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور نیب کے آڈیٹر کو خط لکھ کر اگلے اجلاس میں طلب کر لیا اور حکم دیا کہ نیب کی جانب سے ریکور کی گئی رقم کا آڈٹ بھی کرایا جائے۔
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان مہنگائی اور ڈالر کی قیمت میں اضافے اور اس حوالے سے گورنر سٹیٹ بینک کے ایک بیان پر یک زبان ہو کر برہم نظر آئے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے ان پاکستانیوں کا فائدہ ہوا ہے جو بیرون ملک سے اپنے گھروں میں رقم بھیج رہے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ عالمی ادارے کہہ رہے ہیں ڈالر 200 روپے تک جائے گا۔ ڈالر ایک دم اوپر گیا، سٹیٹ بینک نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ق لیگ کے کامل علی آغا نے کہا کہ لوگوں کی چیخیں نکل گئی ہیں، خدارا ڈالر کنٹرول کریں۔ اسحاق ڈار پر جوئے کا الزام لگتا تھا لیکن اب یہ کام اس سے زیادہ ہو رہا ہے۔
اس موقع پر ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ ملک میں مہنگائی ہے لیکن یہ ایک عالمی ایشو ہے۔ ملک میں مہنگائی کی وجہ روپے کی قدر میں کمی نہیں ہے۔ عالمی سطح پر مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی ہوئی۔ مقامی سطح پر اشیاء کی سپلائی میں خلل سے بھی مہنگائی بڑھ گئی۔ تاہم کمیٹی چئیرمین سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ ڈالر سے متعلق گورنر سٹیٹ بینک کے لطیفہ نما بیان سے پاکستان کی بدنامی ہوئی۔ حکومتی سینیٹر ولید اقبال نے بھی گورنر سٹیٹ بینک کے بیان کو حقائق کے منافی قرار دے دیا اور کہا کہ اس کے باوجود ان کی حب الوطنی پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ اس پر کامل علی آغا نے کہا کہ ہم لوگون خو انکی حب الوطنی پر نہیں بلکہ ان کی کرتوتوں پر اعتراض ہے۔
اجلاس کے دوران ڈپٹی گورنر سٹیٹ نے روپے کی قدر کے اتار چڑھاؤ میں مداخلت کا اعتراف کیا اور کہا کہ پوری دنیا میں مرکزی بینک ایسے معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔ اس پر سینیٹر کامل علی آغا نے سوال کیا کہ سٹیٹ بینک کیسے مداخلت کرتا ہے؟ ہمیں بتایا جائے، ڈالر 153 سے 175 پر چلا گیا، سٹیٹ بینک نے مداخلت کیوں نہیں کی۔ سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ جب میکنزم ہے تو پھر بتایا جائے کہ کس وقت مداخلت کی جاتی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے سٹیٹ بینک کی بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ 23 بار آئی ایم ایف کے پاس جانے کے باوجود ابھی تک پاکستان گرے لسٹ میں موجود ہے۔ مہنگائی کے باعث پاکستان کے عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ ڈالر بے شک مصنوعی طریقے سے کنٹرول کریں لیکن عوام کو ریلیف ملنا چاہیے۔

Back to top button