تحریک لبیک کے کونسے مطالبات تسلیم کئے جا رہے ہیں؟


تحریک لبیک کا ایک بڑا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے پنجاب حکومت نے اس پر عائد کردہ پابندی اٹھانے کے لئے سمری وفاقی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ تحریک لبیک پر اپریل 2019 میں پابندی لگانے کے لیے حکومت نے جو چارج شیٹ تیار کی تھی اس میں لگائے گے الزامات کو غلط قرار دیا گیا ہے یا صرف واپس لے لیا جائے گا۔ ان دونوں صورتوں میں ایک بات ہے کہ ریاست پاکستان نے ایک مرتبہ پھر شدت پسند تحریک لبیک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں اور ریاستی رٹ کا جنازہ نکال دیا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان اور تحریک لبیک کے مابین طے ہونے والا معاہدہ ابھی تک خفیہ رکھا جا رہا ہے اور اس پر عملدرآمد مختلف مراحل میں کیا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں حکومت نے تحریک لبیک کے دو ہزار سے زیادہ کارکنان کو رہا کر دیا ہے اور ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات ختم کردیے ہیں۔ اسکے علاوہ لبیک کے 200 سے زائد قائدین کے نام فورتھ شیڈول سے نکال دیے گے ہیں۔ اب پنجاب حکومت نے تحریک لبیک پر عائد پابندی اٹھانے کے لئے وفاقی حکومت کو سمری ارسال کر دی ہے اور اگلے مرحلے میں سعد رضوی کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔ اسی لیے تحریک لبیک نے اپنے سربراہ کی رہائی کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست بھی واپس لے لی ہے۔ یاد رہے کہ لبیک کے سربراہ کو اپریل 2021 میں حراست میں لیا گیا تھا اور وہ تاحال نظر بند ہیں۔ اس سے پہلے حکومت پنجاب نے سعد رضوی کی رہائی کے احکامات کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کے ساتھ رضوی کے خلاف پولیس اہلکاروں کے قتل سمیت سنگین کیسز درج ہے اور ان کی رہائی سے ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔
اب حکومتی ذرائع کی جانب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کالعدم ٹی ایل پی نے حکومت کو آئندہ تشدد کی سیاست سے گریز کرنے اور فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
تحریک لبیک کی مذاکراتی ٹیم کے اراکین کا دعویٰ ہے کہ خفیہ معاہدے کا مرکزی نکتہ ٹی ایل پی پر عائد پابندی ختم کرنا اور اسے انتخابی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دینا تھا۔ اس کے علاوہ سعد رضوی کی رہائی بھی ایک مرکزی مطالبہ تھا۔ ٹی ایل پی کی مذاکراتی کمیٹی میں شامل فلاحی تنظیم سیلانی ویلفیئر کے سربراہ بشیر فاروقی کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی نہ تو کالعدم تنظیم ہے اور نہ ہی یہ دہشت گرد گروپ ہے۔
دوسری جانب وزیر آباد میں پڑاؤ ڈالا ہوا تحریک لبیک کا دھرنا ابھی تک وہیں موجود ہے اور جب تک حکومت کی جانب سے معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو جاتا وہ اسی مقام پر موجود رہیں گے۔ وفاقی حکومت سے معاہدے کے باوجود ٹی ایل پی کے کارکنان مسلسل ساتویں دن بھی وزیر آباد میں ڈیرے ڈالے پارٹی سربراہ سعد حسین رضوی کی رہائی کے منتظر ہیں۔ لبیک کے بانی مرحوم خادم رضوی کے بیٹے سعد رضوی کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت 12 اپریل 2021 کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو قانون ہاتھ میں لینے کے لیے اکسایا تھا جس کے نتیجے میں کئی پولیس والے قتل ہو گئے۔ لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ ماہ سعد رضوی کی رہائی کا حکم دیا تھا لیکن حکومت نے اس پر عمل کرنے کے بجائے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس کے بعد 20 اکتوبر سے تحریک لبیک نے لاہور میں مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔
لاہور میں پولیس کے ساتھ تین روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد ٹی ایل پی نے 22 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کیا تھا، دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کے دوران لاہور اور گوجرانوالہ میں مشتعل مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکار شہید اور دونوں اطراف سے سینکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس دوران اسٹیبلشمنٹ کے ایماء پر حکومت اور کالعدم تنطیم میں مذاکرات کا آغاز ہوا تو ٹی ایل پی کی قیادت نے 30 اکتوبر کو مظاہرین سے کہا تھا کہ وہ وزیر آباد میں مزید ہدایات کے لیے انتظار کریں، دونوں فریقیں میں اگلے دن ایک معاہدہ طے پا گیا تھا لیکن اس کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔
ٹی ایل پی کے کارکنوں نے وزیر آباد میں اللہ والا چوک کے قریب ایک پارک میں کیمپ لگایا ہوا ہے لیکن وہ اپنی پارٹی کے رہنماؤں کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے معمولات زندگی میں خلل نہیں ڈال رہے البتہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی پارک کے اطراف میں موجود ہیں اور صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ البتہ شہر میں انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے، جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، دریائے چناب پر واقع ریلوے پل پر مظاہرین کو روکنے کے لیے کھڑی کی گئی رکاوٹیں ہٹا دی گئی تھیں تاہم حکام کی جانب سے کھودی گئی خندقیں ابھی بھی نہیں بھری گئیں جس سے اسلام آباد کی جانب گاڑیوں کی آمدورفت میں خلل پڑ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ٹی ایل پی قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ کالعدم تنظیم پر عائد پابندی اٹھانے کے علاوہ اس کے منجمد شدہ اکاؤنٹس اور اثاثے بھی بحال کرے گی اور تشدد میں ملوث عناصر کو رہا کرنے کے علاوہ علامہ سعد رضوی کو بھی رہا کر دے گی۔ یہ بھی وعدہ کیا گیا ہے کہ حکومت ٹی ایل پی کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف معمولی مقدمات کی پیروی نہیں کرے گی تاہم انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔ لیکن جس طرح ریاست پاکستان نے اپنی رٹ کا جنازہ نکالا ہے، اس سے یہ روایت ڈال دی گئی ہے کہ کوئی بھی شدت پسند تنظیم دھرنوں اور مظاہروں کے ذریعے کسی بھی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

Back to top button