ایک کے بدلے دو!

تحریر:عطاالحق قاسمی۔۔۔۔۔بشکریہ:روزنامہ جنگ
یوں تو انسان کے اشرف المخلوقات ہونے میں کوئی شبہ نہیں مگر کچھ چیزوں میں بعض جانوروں کو انسانوں پر فوقیت حاصل ہے، ویسے یہ فوقیت کا لفظ یہاں مناسب نہیں بس یوں سمجھ لیں کہ جانور بعض معاملات میں انسانوں کی نسبت قدرے سہولت میں ہیں مثلاً میں نے کسی لگڑ بگڑ کو کھانستے نہیں دیکھا اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میں نے زندگی میں کبھی لگڑ بگڑ نہیں دیکھا۔ دو ایک دفعہ مجھے شبہ گزرا کہ جس سے میں مخاطب ہوں وہ لگڑ بگڑ ہے چنانچہ میں نے اس کا اظہار کر بھی دیا مگر وہ مائنڈ کر گیا۔ اسی طرح میں نے کسی لدھڑ کو چھینکتے نہیں دیکھا البتہ کئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ چھینکتے ہوئے لدھڑ لگتے ہیں۔ انسانوں اور جانوروں میں بس اب یہی فرق ہے۔
میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ جانوروں کو نزلہ، زکام اور کھانسی سے دوچار ہونا پڑتا ہے کہ نہیں کیونکہ میں صرف آنکھوں دیکھی بیان کر رہا ہوں کہ میں نے کبھی جانوروں کو کھانستے یا چھینکتے نہیں دیکھا۔چنانچہ وہ اگر بالفرض انسانوں ہی کی طرح چھینکتے یا کھانستے ہیں تو بھی انہیں انسانوں پر ایک برتری یہ حاصل ہے کہ وہ دو ایک چھینکیں یا کھنگورے مار کر فارغ ہو جاتے ہیں ۔ اس کے علاج کیلئےانہیں ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا پڑتا اور یہ ان پر اللّٰہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے ،یہاں ایک دفعہ پھر اس وضاحت کی ضرورت ہے کہ ممکن ہے جانوروں کو بھی ڈاکٹروں کے پاس جانا پڑتا ہو مگر انہیں بہرحال مشفق و مہربان ڈنگر ڈاکٹر کے پاس جانا ہوتا ہے جب کہ بیچارے انسانوں کو تو انسانوں کے ڈاکٹروں کے پاس جانا پڑتا ہے۔
یہ بیٹھے بٹھائے میں موازنہ انسان اور حیوان میں یونہی نہیں پڑ گیا بلکہ گزشتہ ایک ماہ میں ان افعال قبیحہ میں مبتلا رہنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں پہلے تو مجھے شبہ ہوا کہ خدا نخواستہ کورونا تو نہیں ہوگیا توٹیسٹ نیگٹوآنے پر تسلی ہوئی۔ بہرحال یہ چھینکنے اور کھانسنے کو افعالِ قبیحہ میں میں نے یونہی شمار نہیں کیا بلکہ اس کیلئے میرے پاس بے شمارمثبت دلائل ہیں مثلاً چھینکنے ہی کو لیجئے ایک شریف آدمی دوسرے شریف آدمی سے اچھی خاصی معقول باتیں کرتے ہوئے اگر ایک دم بھاڑ سا منہ کھول دے اور منہ کی بجائے ناک کے رستے سے عجیب وغریب آوازیں نکالنا شروع کر دے تو بتائیے فریقین کی کیا عزت رہ جاتی ہے ؟ یہ فریقین والی بات میں نے اس لئے کی ہے کہ اس فعل کے دوران نزلہ سامنے بیٹھے ہوئے کسی ’’عضو ضعیف‘‘ پر گرتا ہے اور وہ بیچارا صبر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح چھینکنے والا بھی ’’الحمدللہ اور ایکسیکوزمی ‘‘ کی درمیانی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی چھینکوں کی بقایا قسطیں بسا اوقات منصہ شہود پر آنے سے رہ جاتی ہیں اور یہ ایک علیحدہ ایشو ہے، علیحدہ ’’ایشو ‘‘ اس طرح کہ اس کا منہ بھی کھل جاتا ہے چہرہ بھی کھنچ جاتا ہے اور آنکھیں تارے لگ جاتی ہیں مگر چھینک نہیں آتی۔ بالکل کارپوریشن کے نلکے کی طرح ٹوٹنی کھلی ہے مگر پانی نہیں آ رہا ہے کچھ اسی طرح کے مسائل کھانسنے والوں کے بھی ہیں سارا سارا دن کھانستے ہیں ساری ساری رات کھانستے ہیں مگر بے سرے ہونے کی وجہ سے انہیں دادِ سخن نہیں ملتی۔ البتہ میرے ایک دوست کھانسنے کے معاملے میں صاحبِ اسلوب واقع ہوئے ہیں چنانچہ وہ اس ردھم سے کھانستے ہیں کہ لگتا ہے چاندی کے ورق کوٹے جا رہے ہیں انہیں گانے کا بھی شوق ہے چنانچہ جب وہ گا رہے ہوں تو پتہ نہیں چلتا کہ کھانسی کہاں پر ختم ہوئی اور گانا کہاں سے شروع ہوا۔ گانے اور کھانسی کا حسین امتزاج میں نے اگر کہیں دیکھا ہے تو انہی کے ہاں دیکھا ہے میرے یہ دوست ’’دبستانِ کھانسی ‘‘ کی آبرو ہیں۔
دراصل میرا شمار ان بدنصیبوں میں ہوتا ہے جنہیں ابھی تک چھینکنے اور کھانسنے کا سلیقہ بھی نہیں آیا، میر تقی میرؔ نے کہا تھا؎
تانکنا جھانکنا کبھو نہ گیا
اور یہ میری نصف ترجمانی ہے مکمل ترجمانی تو
چھینکنا کھانسنا کبھو نہ گیا
ایسے ’’شعر‘‘ ہی سے ممکن تھی مگر مصیبت یہ ہے کہ میر صاحب کو تانکنے جھانکنے ہی سے فرصت نہ ملی سو انہیں اس قومی مسئلے پر غوروفکر کا موقع نہ ملا۔ گزشتہ چند ہفتوں سے میں نےاس مسئلے کو اپنے ہاتھوں میں لیا ہے بلکہ سچ پوچھیں تو اس مسئلے نے مجھے اپنے ہاتھوں میںلے رکھا ہے اور اب میں ہوں چھینکیں ہیں اور کھانسی ہے چند روز ہوئے میں ایک ڈاکٹر کے پاس گیا اس نے ایک ماضی کے ڈاکٹر کی طرح مٹکے میں سے مکسچر کی ایک شیشی بھر کر مجھے بھی دی اور ساتھ ڈھیروں کیپسولز دیئے کہ دن میں چار دفعہ ان کا ’’پھکا‘‘ مار لیا کریں سو اس وقت سے مجھے زکام اور کھانسی سے افاقہ ہے البتہ دماغ بند ہو گیا ہے نیز ہونٹوں اور زبان پر کچھ چھالے نکل آئے ہیں ۔اور آج کل کے طبیبوں سے بس مجھے یہی شکایت ہے کہ ان میں سے کسی کے پاس کسی بیماری کا تسلی بخش علاج نہیں ہے ،اول تو ان سے بیماری کی صحیح تشخیص ہی نہیں ہوتی اگر ہو جائے تو اپنے علاج سے وہ ایک بیماری رفع کر دیتے ہیں اور اس کی جگہ دوسری لگا دیتے ہیں۔ اب یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ کھانسی اور نزلے کو تو آرام آ جائے لیکن اس کے نتیجے میں دماغ بند ہو جائے، انسان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی جائے یا زبان پر چھالےڈال دیئے جائیں اور یوں دل کی باتیں انڈر گرائونڈ چلی جائیں زبان پر آ ہی نہ سکیں یارو ایک نجی بیماری کا علاج قومی بیماری تو نہیں ہوتا!۔
آخر میں منظر اعجاز کی ایک تازہ غزل:۔
نفع نقصان کے آزار سے ہٹ جاتے ہیں
پیار کرنا ہے تو بازار سے ہٹ جاتے ہیں
ہیں، مگر ایسے اصولی بھی نہیں ہیں ہم لوگ
حکم دے ہم ابھی معیار سے ہٹ جاتے ہیں
رقص کرتی ہوئی آتی ہیں ہوائیں تو چراغ
وجد میں اڑتے ہیں دیوار سے ہٹ جاتے ہیں
ڈوب جاتی ہے کبھی ایک ہی آنسو سے یہ آنکھ
عکس اس پار سے اُس پار سے ہٹ جاتے ہیں
صبح خود کام کی زنجیر پہن لیتے ہیں
خودبخود شیوۂ اصرار سے ہٹ جاتے ہیں
شوق سب راستے آسان کیے دیتا ہے
سارے پتھر مری رفتار سے ہٹ جاتے ہیں
ایسی بے قدری بھی اچھی نہیں منظرؔ صاحب
نرخ ارزاں ہو تو بازار سے ہٹ جاتے ہیں
