شہبازشریف نے وزیراعظم بن کر گھاٹے کا سودا کیوں کیا؟

عمران دور میں آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے کے مطابق پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ وزارت عظمیٰ سنبھال کر انہوں نے سراسر گھاٹے کا سودا کیا جس کا نہ صرف انہیں خود بلکہ انکی جماعت کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔

حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف درخواست پر نوٹس

ناقدین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت نے عمران خان کے حصے کی کالک سے اپنی زلفیں سیاہ کر کے اسے جوانی سمجھ لیا۔ اور سونا پر سہاگہ یہ کہ اگلے بجٹ کے موقع پر شہباز شریف کو مزید مشکل فیصلوں کی صورت میں اور بھی کال ملنا پڑے گی۔

انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق ایسے میں سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ ایف آئی اے تو ابھی سے وزیر اعظم ا ور وزیر اعلیٰ پنجاب کی گرفتاری کا مطالبہ ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہے۔ کسی دن ایف آئی اے کے حق میں فیصلہ آ گیا تو ن لیگ کس ضامن کی دیوار گریہ پر سر پھوڑے گی۔

بطور وزیر اعلیٰ پنجاب وہ ایک اچھے منتظم تھے لیکن وزیر اعظم کے طور پر وہ غلطی ہائے مضامین کا ایک مجموعہ ثابت ہوئے۔ بظاہر یہ عجیب سا لگتا ہے کہ جس وزیر اعظم کو منصب سنبھالے ابھی چند ہفتے ہوئے ہوں اس کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیا جائے لیکن جب وزارت عظمیٰ کی کل مدت ہی مبلغ چند ماہ ہو تو اس کو پرکھنے کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ ایسے میں کارکردگی تو دور کی بات ہے، باڈی لینگویج ہی ساری کہانی بتا دیتی ہے۔

انڈیپینڈینٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی پالیسیاں غلط تھیں اور وہ آئی ایم ایف سے تباہ کن معاہدے کر چکے تھے تو ا س کے نتائج انہی کو بھگتنے دیے جاتے۔ پھر عمران جانتے یا ان کے مداح اور سرپرست۔ شہباز شریف کو کیا پڑی کہ عمران خان کی غلط پالیسیوں کا بوجھ اٹھانے آ گئے؟ سمجھ سے باہر ہے کہ اس’مال بردار سیاست‘ کے پیچھے کون سی منطق تھی؟ کیا عمران خان کے فیض یاب ہونے کے خوف نے یہ فیصلہ کروایا؟ اصولی سیاست جس ’بیانیے‘ کو رجز بنا کر پھرتی رہی کیا وہ محض ’بیعانیہ‘ ہی تھا؟

مسلم لیگ ن نے اگراقتدارسنبھالا ہی تھا تو لازم تھا کہ کچھ بہتری کر کے دکھاتی۔ اگر بہتری لانا ممکن نہیں تھا تو اقتدار میں آنے کی اتنی بے تابی کیوں تھی؟ کیا پی ڈی ایم صرف عمران کے آئی ایم ایف سے کئے گئے ’تباہ کن معاہدے‘ پر عمل درآمد کرنے کے لیے حکومت میں آئی ہے؟ کیا یہ ملامتی سیاست صرف اس لیے کی گئی کہ آئی ایم ایف سے کیے گئے غلط معاہدوں پر عمل کر کے عمران خان اپنی شہرت اور مقبولیت خراب نہ کر بیٹھیں اس لیے یہ کام ان کی جگہ ہم آ کر کر دیتے ہیں؟ قائد حزب اختلاف تھے تو شہباز شریف کو اراکین پارلیمان راہداریوں میں ’وفاقی وزیر برائے اپوزیشن‘ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اس قربانی کے بعد کیا انہیں عمران لورز کلب کا چیئرمین کہہ کر پکارا جائے؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اقتدار لے ہی لیا تھا اور معلوم تھا کہ تلخ اور مشکل فیصلے کرنے ہیں تو ایک ماہ کیوں ضائع کیا؟ گومگو کی کیفیت میں رہنا اور ملک میں بروقت فیصلوں کی بجائے نواز شریف کے پاس لندن جا کر مشاورت کرتے رہنا، اس نے کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔ یہ مشاورت اگر ضروری تھی تو اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہونی چاہیے تھی۔ اقتدار کی نیام دو تلواروں کی متحمل ہو سکتی ہے نہ اقتدار اس غیر یقینی کیفیت کا نام ہے جس میں فیصلہ سازی کی قوت برفاب ہو جائے۔

نواز شریف کے ناقدین کا کہنا ہے کہ جب وہ قوم سے بطور وزیر اعظم پہلا خطاب فرمانے آئے تو رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ تاخیر ہو گئی تھی تو یہ بے روح سی رسم اگلے روز کسی معقول وقت پر بھی ادا کی جا سکتی تھی۔ ایسی کیا قیامت آ گئی تھی کہ آدھا ملک سو رہا تھا اور وزیر اعظم خطاب فرما رہے تھے؟ گومگو کی اسی کیفیت کا عمران نے فائدہ اٹھایا اور اپنی حکمت عملی سے عملاً پی ڈی ایم کی حکومت کو ناک آؤٹ کر دیا۔ معتبر ذرائع روایت کرتے ہیں کہ اقتدار سے الگ ہونے پر مشاورت شروع ہو گئی تھی اور ایک مرحلے پر طے ہو گیاتھا کہ مئی کے آخر تک حکومت چھوڑ دی جائے کیونکہ ن لیگ کی قیادت کا خیال تھا کہ مشکل فیصلے اور مہنگائی کر کے ہم عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے بعد چند ماہ کا یہ اقتدار بھی رہے یا نہ رہے۔عمران خان کو خبر ہوئی تو انہوں نے فورا ًلانگ مارچ کا اعلان کر دیا۔ اسلام آباد پہنچے اور لانگ مارچ ختم بھی کر دیا۔ لوگ عمران کا مذاق اڑاتے رہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں وہ کیسی گگلی کھیل گئے۔ عمران تو جا چکے تھے لیکن حکومت پھنس گئی۔ لانگ مارچ کے نتیجے میں حکومت مستعفی ہوتی تو یہ عمران کی جیت ہوتی۔ انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ بدل لیا۔ عمران نے چھ دنوں کا الٹی میٹم دیا اور واپس چلے گئے۔ اب بھی یہ مستعفی ہوتی تو کہا جاتا عمران کے الٹی میٹم کے آگے ڈھیر ہو گئی۔

چنانچہ شہباز شریف کے لیے اب اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں تھا کہ اب وہ حکومت ہی کرتے۔ چنانچہ مشکل فیصلے لینے شروع کر دیے گئے۔ پٹرول 60 روپے، گیس 47 فیصد اور بجلی آٹھ روپے یونٹ مہنگی ہو چکی۔ عمران کا بوجھ اب ن لیگ کے سر ہے اور عمران اب بھی مزے میں ہے کیونکہ لوگوں کے سوالوں کے جواب اب عمران نے نہیں، ن لیگ نے دینا ہیں۔

بقول ناقدین بصیرت اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ وزارت عظمیٰ ن لیگ کے پاس تھی تو وزارت خزانہ پیپلز پارٹی کو دی جاتی تا کہ ذمہ داری کا بوجھ مل کر اٹھایا جاتا۔ وزارت عظمیٰ بھی خاندان میں رکھنے کی بجائے شاہد خاقان عباسی کو دے دی جاتی تو مناسب ہوتا۔ لیکن یہاں شہباز صاحب وزیر اعظم بن گئے، صاحبزادے کو وزیر اعلیٰ بنا لیا۔ وزارت عظمیٰ کے ساتھ وزارت خزانہ کا بوجھ بھی ن لیگ پر ڈال دیا۔ اب حلیف مزے میں ہیں۔ کٹہرے میں اکیلی ن لیگ ہے۔

انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق حکومتی وزرا کا دعویٰ ہے کہ ن لیگ نے اقتدار کی مدت مکمل کرنے کی ضمانت لینے کے بعد مشکل فیصلے کیے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس ملک میں کسی حکومت کو دستور پاکستان کا آرٹیکل چھ ضمانت نہ دے سکتا ہو وہاں شہباز جیسے حکمران شخصی ضمانت پر کیونکر یقین کر سکتے ہیں خصوصا ًجب ایف آئی اے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی گرفتاری کا مطالبہ ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہے۔

Back to top button