کیا اپنی اچکن بچانے کی خاطرشلواراتارنا مناسب تھا؟

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سویلین افسران کی اسکریننگ کی ذمہ داری فوج کی خفیہ ایجنسی کو سونپنے کے عمل کو ناقدین اچکن بچانے کی خاطر شلوار اتارنے سے تعبیر کر رہے ہیں۔
دفتر خارجہ کا گستاخانہ بیان پر بھارتی ناظم الامور سے احتجاج
اس معاملے پر طبع آزمائی کرتے ہوئے معروف صحافی اور اینکر پرسن وسعت اللہ خان نے اپنی تازہ تحریر میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ معروف شاعر جون ایلیا مرحوم نے ایک مرتبہ اپنے مزاح نگار دوست مشتاق یوسفی سے کہا ’مرشد فقیری کا یہ عالم ہو گیا ہے کہ ہمارے پاس کرتے 22 ہیں مگر پاجامہ ایک ہی بچا ہے۔‘ اس پر یوسفی نے برجستہ کہا ’آپ اب اس ایک پاجامے سے بھی نجات پا لیجیے تاکہ کسی طرف سے تو یکسوئی ہو۔‘ وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اوروں کا تو پتہ نہیں البتہ ہمیں ذاتی طور پرخوشی ہے کہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم آخری سویلین پاجامہ بھی اس امید پر اتار کر آئی ایس آئی کے حوالے کر دیا کہ کم ازکم ڈیڑھ برس کی یکسوئی تو ہو جائے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ویسے کاغذوں پر آئی ایس آئی براہِ راست وزیراعظم کے دفتر کو جوابدہ ہے، جیسے آئینی طور پر وزیرِ اعظم صدرِ مملکت کو جوابدہ ہے، بحیثیت سپریم کمانڈر صدرِ مملکت کو تمام سروس چیفس جوابدہ ہیں۔
لیکن یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے روایتی مشرقی گھرانے کی بیوی اصول کی حد تک شوہر کو جوابدہ ہے۔ جیسے ہمارا سیکریٹری دفاع، وزیرِ دفاع کو جوابدہ ہے، جیسے دفاعی بجٹ پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے، جیسے تمام حساس و غیر حساس ادارے اعلیٰ عدلیہ کو جوابدہ ہیں۔ جیسے منتخب ارکان عام آدمی کو جوابدہ ہیں، جیسے علماِ کرام اللہ میاں کو جوابدہ ہیں۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ اس دنیا میں کہیں بھی فری لنچ نہیں۔ نیوٹرل نہ رہنے کی بھی قیمت ہے اور نیوٹرل رہنے کی بھی۔ اگر باز کل سے خود کو کبوتر کہنا شروع کر دے تو باقی پرندے اس کا ادب کرنا چھوڑ دیں گے کیا؟
اسی لیے تو پٹرول اور ڈیزل پر 80 ارب روپے کی سبسڈی ختم کیے جانے کے اگلے روز دفاعی بجٹ اور دفاعی تنخواہوں میں کل ملا کر 81 ارب روپے کا اضافہ ہو گیا۔ یعنی عوام سے 80 ارب روپے کی سبسڈی واپس لیکر خواص کو دے دی گئی۔ بقول وسعت، ضروری نہیں کہ دفاعی قیادت نے اس کڑکی کے سمے بجٹ میں اضافے کا زبانی یا تحریری مطالبہ کیا ہو۔ مگر نبض شناسی بھی تو کوئی فن ہے۔ یہاں تو ایک سے بڑھ کے ایک نسلی سند یافتہ نباض گھوم رہے ہیں۔ ویسے بھی جو حکومت مانگے کے دو ووٹوں کی اکثریت پر ٹکی ہو، جس حکومت کا انتظامی سربراہ عدالتی ضمانت پر چل رہا ہو اور پیچھے نیب اور ایف آئی اے لگی ہو، جس کے بیٹے کی ادھاری وزارتِ اعلیٰ مسلسل معلق ہو، وہ پاجامہ نہ اتارتا تو اور کیا کرتا؟
وسعت اللہ خان یاد دلاتے ہیں کہ بہت تھو تھو ہوئی تھی جب آصف زرداری نے 2008 میں کہا تھا کہ ’وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔‘ اب کیا خیال ہے تھو تھو کرنے والوں کا؟ وہ کہتے ہیں کہ بہت تعریف ہوئی تھی جب نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو نے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے تھے اور یہ کہہ کر کیے تھے کہ اس میثاق پر عمل درآمد کے نتیجے میں سیاستدانوں اور فوج کے درمیان بے ضابطہ سیاسی رابطے منقطع ہو جائیں گے اور ہر ادارے کو اپنے اپنے آئینی دائرے میں رکھنے کا راستہ سیدھا ہو جائے گا۔ اب کیا خیال ہے؟ بہت طعنے دیے گئے عمران خان کو پونے چار سال تک سلیکٹڈ اور لاڈلا ہونے کے۔ اب کیا خیال ہے؟
وسعت کہتے ہیں کہ پردہِ سکرین پر ہیرو بھلے شاہ رخ خان اور سلمان خان ہی کیوں نہ ہو لیکن آخری حرف ڈائریکٹر کا ہی ہوتا ہے کہ کس کو فائنل کٹ میں کتنا دکھانا یا ایڈٹ کرنا ہے۔ ہمارے ہیرو شہباز ل نے اس ڈائریکٹرانہ حقیقت کو تحریری طور پر تسلیم کر کے سویلین جسدِ خاکی سے چپکا آخری انجیری پتہ بھی ہٹا دیا۔شکریہ شہباز شریف۔
وسعت کے بقول، جس طرح کارخانوں میں پاکٹ یونینوں کا رواج ہوتا ہے، سیاست میں یہی کردار اپوزیشن ادا کرتی ہے۔ جھگڑا یہ نہیں تھا کہ آصف زرداری یا نواز شریف نے ملک کھوکھلا کر دیا یا عمران خان نے معیشت تباہ کر دی۔ جھگڑا یہ ہے کہ جب ہم آپ کی قے صاف کرنے کے لیے ہر وقت پوچا لیے حاضر ہیں تو آپ کو ایک ناتجربہ کار منہ پھٹ اضافی خادم کی ضرورت کیوں پڑ گئی۔ اب تشفی ہو گئی یا کوئی حسرت باقی ہے۔ اب جڑوں میں بیٹھی مراعاتی دیمک کا علاج کرنے کے بجائے خسارے کے درخت سے کفایت شعاری کے پتے جھاڑنے کا ڈرامہ ہو رہا ہے۔ ’وچوں وچ کھائی جاؤ، اتوں رولا پائی جاؤ۔‘
وسعت کہتے ہیں کہ اگر آپ کو اب بھی بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ سسٹم کیسے چل رہا ہے تو ایک اشتہار سن لیجئے۔ ضرورت ہے ایک ملازم کی جسے تنخواہ کے بجائے کھانا اور سر چھپانے کی جگہ ہی ملے گی۔ کام بس اتنا ہے کہ دو وقت داتا دربار جا کر لنگر کھائے اور واپسی پر مالک کے لیے بھی چاول ڈبل شاپر کروا کر لے آئے۔ اب یہ ملازم خود کو سی ای او سمجھے یا چیف ایگزیکٹو کہہ لے، اس کی مرضی۔ مالک کا کیا جاتا ہے۔ آپ اس کہانی میں داتا صاحب کی جگہ آئی ایم ایف ڈال لیں یا امریکہ، سعودی عرب، یا چین۔ میرا کیا جاتا ہے۔
