امریکاکامشرق وسطیٰ میں تنصیبات زیرزمین منتقل کرنےپرغور

امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں میں مشرق وسطیٰ میں اہلکاروں اور فوجی تنصیبات کی تعداد کم کرنے پر غورشروع کردیا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے میں کامیاب ہونے کی صورت میں خطے میں امریکی موجودگی میں نمایاں کمی میں غور جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق نائن الیون حملوں کے بعد امریکا نے عراق، افغانستان، شام، ایران، یمن اور لیبیا میں کارروائیوں کیلئےمشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو بے پناہ وسعت دی تھی تاہم ایران کے ساتھ حالیہ تنازع نے مشرق وسطیٰ میں امریکی انفراسٹرکچر کی خامیوں اور کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق فوجی اور انٹیلی جنس حکام کے درمیان اس حوالے سے ہونے والی غیر رسمی بات چیت کا مقصد ایک ایسی جنگ کے بعد کے مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنا ہے جس کے بارے میں صدر کی جانب سے کوئی واضح پالیسی نہیں دی گئی۔

ذرائع کے مطابق اس وقت بھی مشرق وسطیٰ میں 50 ہزار امریکی فوجی، 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک درجن سے زائد دیگر جنگی بحری جہاز موجود ہیں اور   واپس بلائے گئے سی آئی اے  اہلکاروں کو بھی دوبارہ خطے میں بھیجا جا رہا ہے۔

امریکی فوج خطے میں باقی رہ جانے والے اپنے دستوں کے دفاع کو مضبوط بنانے کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

Back to top button