پنجاب اسمبلی میں حمزہ اور پرویز کے کتنے کتنے ووٹ ہیں؟

لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا انتخاب کالعدم قرار دیے جانے کی صورت میں پنجاب میں نیا سیاسی بحران جنم لے سکتا ہے کیونکہ 25 اراکین اسمبلی کی نااہلی کے بعد اب نہ تو حمزہ اور نہ ہی پرویز الہی کے پاس 186 ووٹرز موجود ہیں جن کی مدد سے وہ پہلی کوششں میں وزیر اعلی پنجاب بن پائیں۔ یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے 25 منحرف اراکین کو نکال کر وزیراعلی پنجاب کے لیے دوبارہ ووٹنگ کروانے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد حمزہ شہباز کی وزارت اعلی ایک مرتبہ پھر بے یقینی کا شکار ہوگئی ہے۔

ایران نے ’برکس‘ میں شمولیت کی درخواست دے دی

وزیراعلیٰ پنجاب کے نئے انتخابات کی صورت میں قائد ایوان کے عہدے کے لئے مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز اور پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان ہی دوبارہ مقابلہ ہوگا اور موجودہ ایوان میں اکثریت حاصل کرنے والا ہی وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوگا تاہم نئے وزیراعلیٰ پنجاب کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے ایوان کے نصف یعنی 186 ارکان کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔ لاہور ہائی کورٹ نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ 16 اپریل کی صورت حال بحال کی جاسکتی ہے جس روز وزیر اعلی پنجاب کا الیکشن ہوا تھا۔ پنجاب اسمبلی کی 16 اپریل کی صورتحال بحال ہونے کی صورت میں ڈپٹی سپیکر دودت۔مزاری ہی دوبارہ ضمنی انتخاب کرائے گا۔لیکن ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی صورت میں چیئرمین آف پینل کے ذریعے نئے قائد ایوان کا انتخاب ہوگا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کے پچیس منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کررکھا ہے اور ان حلقوں میں 17جولائی کو 20 ڈی سیٹ ہونے والے ممبران پنجاب اسمبلی کے حلقوں میں ضمنی انتخابات ہورہے ہیں جن کی انتخابی مہم عروج پر ہے۔ عدالت عالیہ کے فیصلے کی روشنی میں خواتین کی تین اور اقلیتوں کی دو مخصوص نشستوں کا ابھی تک صوبائی الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی ترجیحی فہرست کے مطابق نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ عدالت عالیہ کے پانچ مخصوص نشستوں کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے حکم پر عمل درآمد کرنے سے اپوزیشن اتحاد کی پانچ نشستوں میں اضافہ ہوجائے گا، اس طرح 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے بعد منتخب ارکان ایوان کا حصہ بنیں گے۔ یوں 371 کے ایوان میں اس وقت 351 ارکان موجود ہیں جو آئندہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں حصہ لیں گے۔
پنجاب کے موجودہ ایوان میں حکمران اتحاد کو 177 اراکین صوبائی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے، ان میں مسلم لیگ نون کے 165، چار آزاد، ایک رکن راہ حق پارٹی کا اور 7 اراکین پیپلزپارٹی کے شامل ہیں۔

Back to top button