ہمیں عمران خان کی نہیں بلکہ انہیں ہماری ضرورت ہے
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہمیں وزیر اعظم عمران خان کی حمایت کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں ہماری حمایت کی ضرورت ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی جمہوریت ایکسپائری ڈیٹ کی طرف بڑھ رہی ہے
، ہمارے بغیر جمہوریت ایک بھی قدم نہیں اٹھا سکتی۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ ایم کیو ایم نے پاکستان کی خاطر تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد کیا تھا ورنہ انہیں ان کی حمایت کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت نہیں جناب وزیراعظم۔ آپ ہی کو ہمارے تعاون کی ضرورت ہے”۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ عمران خان کی حکومت اور موجودہ جمہوریت ہمارے بغیر نہیں چل سکتے۔
کراچی میں ایم کیو ایم ورکرز اجلاس سے خطاب میں صدیقی کا کہنا تھاکہ وزیراعظم کے پاس کراچی کا بڑا مینڈیٹ ہے، لہذا انہیں کراچی کے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کا خیال کرنا چاہیے۔ خالد مقبول صدیقی نے پیپلز پارٹی پر سندھ کی انتظامی، سیاسی اور لسانی تقسیم کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہم سندھ اسمبلی کی جانب سے پاس کیا گیا بلدیاتی بل سختی سے مسترد کرتے ہیں اور اسے کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے۔
ایم کیو ایم کے بہادر آباد مرکز پر جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب میں خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی جمہوریت ایکسپائری ڈیٹ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتظامی، سیاسی اور لسانی طور پر سندھ کو تقسیم کر رہی ہے، ایم کیو ایم کے کنوینر نے چیف جسٹس آف پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹنڈوالہ یار میں میں شکاریوں کو جانوروں کا شکار کرنے سے روکنے پر قتل کا واقعہ نسلہ ٹاور سے بڑا واقع ہے۔
اس موقع ہر اپنے خطاب میں وسیم اختر نے بھی ٹنڈوالہ یار واقعہ کی مذمت کی اور اسے بلدیاتی قانون سے توجہ ہٹانے کا اقدام قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی اس قتل کے پیچھے ہے۔ وسیم اختر نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم عمران خان پارٹی کنوینر خالد مقبول سے رابطہ کریں۔
