پاکستانی سوشل میڈیا پر صدارتی نظام نافذ ہو چکا

 

پاکستانی سوشل میڈیا پر پارلیمانی نظام حکومت اور صدارتی نظام پر بحث ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی

اور مسلسل کئی روز سے یہ معاملہ ٹرینڈ کر رہا ہے، یوں لگتا ہے جیسے سوشل میڈیا پر صدارتی نظام نافز ہو چکا ہے۔ خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ نواز اور تحریک انصاف کے حمایتی سمجھے جانے والے صارفین کا ملک میں صدارتی نظام حکومت رائج کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ملک میں پارلیمانی نظام فیل ہو چکا ہے، مگر اس بار معاملات کچھ مختلف اس لیے بھی ہیں کہ مقامی ذرائع ابلاغ پر ‘آئیے صدارتی نظام کو ووٹ دیں’ کے عنوان سے ایک مہم بھی بذریعہ ٹی وی اشتہارات چلائی جا رہی ہے۔

ناقدین کے مطابق ماضی میں جب بھی ملک میں سیاسی حکومت کسی بحران کی زد میں آتی ہے تو ایک خاص طبقہ اس کا ذمہ دار موجودہ پارلیمانی نظام حکومت اور مافیاز کو قرار دے دیتا ہے تاکہ ناکامی کے الزام سے بچا جا سکے۔ تاہم کئی منتخب نمائندے اور سابق وزرائے اعظم پارلیمانی نظام کی حمایت میں سامنے آ جاتے ہیں، اور پھر یہ بحث چلتے چلتے خود ہی کچھ عرصے بعد دم توڑ جاتی ہے۔ اس حوالے سے چلنے والی تازہ مہم کے دوران حکمراں جماعت پی ٹی آئی کے حمایتی متعدد ٹوئٹر اکاؤنٹس ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کا مطالبہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اُن کے پیغامات سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کو ایک نئے نظام میں صدر کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ویژن فار پاکستان نامی تنظیم کی جانب سے صدارتی نظام کے حق میں مین سٹریم میڈیا پر چلائی جانے والے اشتہاری مہم کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام کبھی نافذ ہی نہیں ہوا جو کہ ملک میں حقیقی قیادت پیدا کر سکتا ہے۔ اشتہار میں صدارتی نظام کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس نظام میں صدر کو منتخب ہونے کے لیے 51 فیصد ووٹ لینا ہوں گے، سینیٹ کے انتخابات براہ راست ہوں گے، مضبوط سینیٹ وفاق کو مستحکم بنائے گا اور پارلیمان میں مخصوص 20 فیصد سیٹیں ختم ہو جائیں گی۔ اس مہم میں ایک ویب سائیٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جہاں ڈالے جانے والے ووٹ ذمہ دار حلقوں کو آمادہ کریں گے کہ وہ ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کے لیے آئین میں تبدیلی کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے آئین کے مطابق ملک میں پارلیمانی نظام نافذ ہے اور قانونی ماہرین سمجھتے ہیں کہ صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے آئین میں ترامیم درکار ہوں گی جس کے لیے دونوں ایوانوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ، میں دو تہائی اکثریت چاہیے ہو گی۔ جہاں اس حوالے سے ٹوئٹر پر #ملک کی بقااسلامی نظام اور #صدارتی نظام لاؤترقی پاؤ جیسے مختلف ٹرینڈز بھی چلائے جا رہے ہیں وہیں دوسری جانب پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان بذات خود ملک میں صدارتی نظام لانا چاہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کو دیکھا جائے تو اس معاملے پر لوگوں کی رائے منقسم ہے اور بہت سے صارفین ایسے بھی ہیں جو اس مہم کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ کہتی ہیں کہ انھیں معلوم نہیں آیا صدارتی نظام رائج کرنے کی مہم سیاسی حربہ ہے یا فریب۔ آئین کا حوالہ دیتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ میں نے پارلیمنٹ کے 442 قانون سازوں میں سے ایک کے طور پر اپنے وفاقی جمہوری اور پارلیمانی آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف اٹھایا ہے۔ اینکر ابصا کومل کہتی ہیں کہ جو لوگ صدارتی نظام کے فوائد کی مہم چلا رہے ہیں انھیں یاد رکھنا ہو گا کہ پاکستان کے وجود کے 30 سال تک آمرانہ تجربے ہوتے رہے اور آخری تجربہ 2008 میں ناکام ہوا۔

پبلک پالیسی کے ماہر مشرف زیدی نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ وہ لوگ جو اسے نئے خیال کے طور پر پیش کر رہے ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستانی احمقانہ رویے کو برداشت ضرور کر سکتے ہیں لیکن وہ خود احمق نہیں۔ ایک صارف زہرہ لیاقت کہتی ہیں کہ اگر صدارتی نظام نہیں آئے گا تو پھر عمران خان جیسے ہزاروں بھی آ جائیں تو نظام تبدیل نہیں ہو گا۔اس ملک کو سدھارنے کے لیے صدارتی نظام ضروری ہے اس کے ذریعے ہی ہر قسم کے مافیا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

تاہم دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ جنرل ایوب خان نے پاکستان میں دس سال تک صدارتی نظام نافذ کئے رکھا جس کے نتیجے میں پاکستان بالاخر دو لخت ہو گیا لہذا اس نظام کا تجربہ پاکستان میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اور اس کی مزید گنجائش موجود نہیں۔ حنا نامی صارف نے طنز کرتے ہوئے ٹوئیٹر پر کہا کہ کوئی مانے نہ مانے لیکن سوشل میڈیا پر صدارتی نظام نافذ ہو چکا ہے۔

Presidential system implemented on Pakistani social media video

Back to top button