کیا نوجوت سنگھ سدھو کو عمران نے وزیر بنوایا تھا؟

بھارتی پنجاب کے سابق وزیراعلی کیپٹن (ر) امریندر سنگھ نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے انہیں سابق کرکٹر اور موجودہ کانگرسی رہنما نوجوت سنگھ سدھو کو پنجاب کی کابینہ میں وزیر بنانے کی سفارش کی تھی۔ یاد رہے کہ ماضی میں اکٹھے چلنے والے امریندر سنگھ اور ناجوت سدھو آجکل ایک دوسرے کے سخت سیاسی مخالف ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

ماضی قریب میں نوجوت سنگھ سدھو نے امریندرسنگھ پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی مبینہ ایجنٹ اور صحافی عروسہ عالم کے انتہائی قریب ہیں لہٰذا ان کی بھی تفتیش ہونی چاہیے کہ کہیں وہ پاکستان کے لیے کام تو نہیں کر رہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں سابق وزیراعلی پنجاب امریندر سنگھ کہتے ہیں کہ انہیں ایک پاکستانی ذریعے سے پیغام بھیجا گیا کہ ناجوت سدھو کو اپنی کابینہ کا حصہ بنا لیں، لیکن اگر وہ کام نہ کر سکیں تو بے شک انہیں فارغ کر دیجیے گا۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران سابق بھارتی وزیر اعلی سے سدھو کی سفارش کرنے والے کے بارے میں وضاحت مانگی گئی تو کیپٹن (ر) امریندر سنگھ نے دعوی کیا کہ سدھو کی سفارش پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کی تھی کیونکہ ناجوت سدھو ان کے پرانے دوست ہیں۔

دوسری جانب سدھو نے اس الزام کو رد کرتے ہوئے جھوٹا قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ عمران خان اگست 2018 میں وزیراعظم بنے تھے، جب کہ انہوں نے مارچ 2017 میں اپنی وزارت کا حلف اٹھایا تھا لہذا ثابت ہوا کہ امریندرسنگھ جھوٹ بول رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریندر سنگھ کا تعلق بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس سے ہے اور ناجوت سنگھ سدھو بھی اسی کا حصہ ہیں۔ دونوں سیاست دان رکن اسمبلی بھی ہیں۔ امریندر سنگھ نے یہ دعوی دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران کیا جس کے بعد اس معاملے پر بحث جاری ہے، تاہم ابھی تک پاکستانی وزارت خارجہ یا وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس الزام کا پر ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کا وزیراعلیٰ ہائوس کے باہر دھرنا، جھڑپیں، شیلنگ

انڈین پنجاب کے سابق وزیراعلی کے اپنے سیاسی مخالف سے متعلق دعوے کے بعد پاکستانی اور انڈین ٹویپس نے اپنے اپنے انداز میں معاملے پر تبصرہ کیا۔ امریندر سنگھ کے حامی انڈین ٹویپس نے تنقید کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم کس حیثیت میں پنجاب حکومت کے معاملات میں مداخلت کر سکتے ہیں۔ کانگریس سے تعلق رکھنے والے ٹویپس نے دو مرتبہ پنجاب کے وزیراعلی رہنے والے امریندرسنگھ کے دعوے کو جھوٹا کہا اور موقف اپنایا کہ عمران خان اگست 2018 میں وزیراعظم بنے تھے، جب کہ سدھو نے مارچ 2017 میں وزارت کا حلف اٹھایا تھا۔
نوجوت سدھو کے بارے میں امریندرسنگھ کا دعوی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق کرکٹر کانگریس کے ریاستی سربراہ ہیں۔

دو مرتبہ ریاست کی وزارت اعلی کے منصب پر فائز رہنے والے امریندر سنگھ دراصل راجیو گاندھی سے دوستی کے باعث کانگریس کا حصہ بنے تھے۔ وہ 1980 میں پہلی مرتبہ لوک سبھا کے رکن بنے البتہ سکھوں کے خلاف 1984 میں ہونے والے آپریشن بلیو سٹار کے خلاف احتجاجا وہ 1984 میں پارلیمنٹ اور کانگریس سے مستعفی ہو گئے تھے۔

بعد میں اکالی دل کا حصہ بن کر وہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور 1992 تک اسی سیاسی جماعت کا حصہ رہے۔ انہوں نے پارٹی میں اپنا الگ گروپ بنا کر علیحدگی اختیار کی اور 1998 میں اسے کانگریس میں ضم کر دیا تھا۔
2017 میں کانگریس نے ان کی قیادت میں ریاستی اسمبلی میں حکومت قائم کی تو وہ دوسری مرتبہ وزیراعلی بنے۔ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے سابق وزیراعلی کی حالیہ گفتگو کو محض سیاسی مخالفت قرار دیتے ہوئے اس میں زیادہ دلچسپی نہیں لی۔

ایک صارف نے یہ سوال تک کر ڈالا کہ کیا اس بیان کے ذریعے سابق وزیر اعلی یہ بتا رہے ہیں کہ وہ پاکستانی وزیراعظم تک بھی رسائی رکھتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کیا انہوں نے اس سے مرکزی حکومت کو آگاہ کیا ہے۔

Back to top button