سٹیٹ بینک حکومت پاکستان کے لیے پرایا کیوں ہو گیا؟

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے فوری بعد گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمرشل بینکوں کو سرکاری قرضوں کے ممکنہ ڈیفالٹ سے بچنے کیلیے احتیاط دکھاتے ہوئے اب مزید کوئی قرضہ نہ دینے کی ہدایت کردی ہے۔ یاد رہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کو مزید قرض دینے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو حکومتی کنٹرول سے نکال کر خود مختار کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے قانون سازی سے منظور کروا لیا گیا ہے اور اب آئی ایم ایف کے سابقہ ملازم نے رضا باقر نے سٹئٹ بینک کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے خود مختاری دیے جانے کے فورا بعد سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری انٹرنیشنل فنانشنل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز میں قرضوں پر متوقع کریڈٹ خسارے پر وفاقی حکومت کی دی گئی ضمانتوں اور اس کے قرضوں پر استثنیٰ ختم کردیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک کے ان احکامات کا اطلاق یکم جنوری 2022ء سے مؤثر ہوچکا ہے۔ انٹرنیشنل فنانشنل رپورٹنگ سٹینڈرڈز اکاؤنٹنگ رولز کا وہ مجموعہ ہیں جن کے تحت بینکوں کو اپنے مالی اثاثوں اور liabilities کا تعین کرنا ہوتا ہے۔
سٹیٹ بینک کے ان احکامات کے بعد اب کمرشل بینکوں کیلئے حکومت کو دیئے جانے والے غیرمحدود قرضوں پر پابندی عائدکر دی گئی ہے اور یوں مرکزی بینک اب پاکستان کے لئے پرایا ہو گیا ہے۔ گورنر سٹیٹ بینک نے یہ احکامات ایک سرکلرکے ذریعے جاری کیے ہیں جن کا مرکزی بینک کوخود مختاری ملنے کے بعد یکم جنوری سے پوری طرح نفاذ ہو گیا ہے۔اب نئی ریگولیشنز جاری ہونے کے بعد بینکوں کو اپنی سرمائے کی ضروریات اور حکومت کو دیئے گئے قرضوں کے تناسب کا ازسرنو جائزہ لینا پڑے گا۔سٹیٹ بینک کے ذرائع نے بتایا کہ ان ریگولیشنز کے سرمائے کے جائز تناسب پر اثرات تو ہونگے تاہم انہیں نظرانداز کیا جا سکے گا۔اس کے علاوہ سرکاری قرضوں پر متوقع خسارہ بہت زیادہ نہیں ہوگا۔
لیکن سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کا کہنا ہے کہ کہ سٹیٹ بینک کو فی الوقت کمرشل بینکوں پر آئی ایم کے تجویز کردہ نئے ریگولیشنز کا اطلاق نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ ملک کی مالی حالت ابھی اتنی مستحکم نہیں ہے۔انکا کہنا تھا کہ ان ریگولیشنز کے نفاذ سے سرکاری قرضوں کی مالیت کافی بڑھ جائے گی، اس لیے سٹیٹ بینک کو ان اقدامات کو واپس لے لینا چاہیے۔ ان ریگولیشنز کے تحت کمرشل بینکوں کو وفاقی حکومت کو دیئے گئے قرضوں پر کیپٹل چارج وصول کرنے سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
انٹربینک:روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں 23 پیسے اضافہ
ملک کے پانچ بڑے بینکوں میں سے ایک بینک کے ذرائع کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک کے اقدامات کا انڈسٹری پر بھی اثر پڑے گا جو حکومتی مداخلت کی وجہ سے کمرشل بینکوں سے لیے گئے قرضوں کو رسک فری تصور کرتی تھی۔ نئی ریگولیشنز میں قرضے کی حتمی ریکوری کو یقینی بناتے ہوئے اس ضمن میں کسی خسارے کو زیرو قراردیا گیا ہے۔
سرمائے کی ٹائم ویلیوپر بھی اس کا اثر پڑے گا، قرضوں کی ری سٹرکچرنگ، خاص طور پر پاور سیکٹر میں، اب بالکل نہیں ہوسکے گی۔ بینکنگ انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دوسرے ملکوں میں بھی جہاں یہ ریگولیشنز نافذہیں، سرکاری قرضوں میں ایسے استثنیٰ دیئے گئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بینکوں کو اب ٹریژری بلوں اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز پر بھی متوقع کریڈٹ خسارے کا جائزہ لینا پڑے گا۔
سٹیٹ بینک کے نافز کردہ نئے ریگولیشنز کا مطلب ہے کہ اب کمرشل بینکوں پر کیپٹل چارج لگے گا اوروہ حکومت کو مخصوص حد سے زیادہ قرضہ نہیں دے سکیں گے۔ نئے قانون کے تحت سٹیٹ بینک بھی بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے حکومت کو قرضہ نہیں دے سکے گا۔
سٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر نے بتایا کہ کہ مرکزی بینک اس وقت کمرشل بینکوں سے مشاورت کر رہا ہے اور جاری کردہ گائیڈ لائنز پر کمرشل بینکوں کے فیڈ بیک کا انتظار ہے۔ اس فیڈ بیک کو مدنظر رکھتے ہوئے ریگولیشنز پر عملدرآمد کے معاملے میں نظرثانی ہو سکتی ہے۔
